🔴 حامیان یزید کے چند اعتراضات کے جوابات 🔴
✍️ بقلم:مولانا عبدالجبار سلفی صاحب
(وٹس ایپ03228464167)
ایک دل دادۂ یزید بےدید و عنید نے اپنا نام ظاہر کئے بغیر چند سوالات کے ذریعہ اہل سنت عوام میں فکری تشویش پھیلانے کی سعی نامشکور کی ہے جس کے مختصر جوابات پیش خدمت ہیں۔یاد رہے کہ سائل بےوسائل نے اپنے کسی اعتراض کو باحوالہ درج نہیں کیا،اس لئے ہم بھی ان سطور میں اپنے جوابات میں کتابوں کے حوالہ جات کو محولہ نہیں کر رہے۔اگر یزیدی معترض جرأت کرتے ہوئے اپنا نام ظاہر کر دے اور اپنے اعتراضات پہ کتب تواریخ کے ثبوت درج کر دے تو ان شاءاللہ ہم بھی اپنے جوابات پہ کتابوں کے حوالے نقل کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔
یزیدی معترض کا پہلااعتراض:
وہ کون سا غیر صحابی شخص تھا جس کے ہاتھ پر صحابہ نے خلافت کی بیعت کی تھی؟
حسینی جواب: یہ بالکل غلط ہے،صحابہ کرامؓ میں سے ایک بڑی جماعت نے بیعت سے انکار کر دیا تھا جبکہ دوسری جماعت نے محض فتنے کے شر سے بچنے کے لئے ایک آمر حکمران کی حکومت برداشت کی تھی۔اور یہ بیعت بھی سانحہ کربلا کے بعد توڑ دی گئی تھی۔لہذا ہمارا سوال ہے کہ ایک ایسے صحابی کا نام بتا دیجیے جو سانحہ کربلا کے بعد یزید کی بیعت پہ قائم رہا ہو؟
یزیدی معترض کا دوسرا اعتراض:
قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والے جس پہلے لشکر کی مغفرت کی بشارت اللہ کے نبی ﷺ نے دی تھی اس لشکر کا سپہ سالار کون تھا؟
حسینی جواب:
حدیث بخاری میں اوّل جیش کے الفاظ ہیں۔اور پہلا لشکر یزید کے دور میں نہیں بلکہ حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے دور میں روانہ ہوا تھا جب یزید ابھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔
یزیدی معترض کا تیسرا اعتراض:
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ کس نے پڑھائی؟
حسینی جواب:
یزید نے پڑھائی تھی۔مگر اس سے یزید کا متقی و مومن کامل ہونا کیسے لازم آ گیا؟نیز حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات سانحہ کربلا سے پہلے ہوئی تھی،یزیدی حضرات سے ہمارا سوال ہے کہ اپنے والدگرامی حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی نمازجنازہ کے وقت یزید کہاں تھا؟ اس وقت وہ شکار کھیلنے گیا ہوا تھا۔اور نماز جنازہ و تدفین میں موجود ہی نہیں تھا۔
یزیدی معترض کا چوتھا اعتراض:
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے شہید ہونے سے پہلے اپنا چچا زاد بھائی کس کو کہا؟
حسینی جواب:
اگر کہا ہے تو یہ صحابئ رسول ﷺ کا حسن اخلاق ہے۔مگر تف ہے یزید پہ کہ اس نے اس اخلاق حسنہ کا قتل سے جواب دیا۔
یزیدی معترض کا پانچواں اعتراض:
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا میں کس کے بارے میں کہا تھا کہ مجھے امیر المومنین کے پاس جانے دو میں اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دوں گا؟
حسینی جواب:
ہاتھ میں ہاتھ دینے کا مطلب بیعت لینا کون سی عقل مندی ہے؟ یہ صریح جھوٹ ہے۔
یزیدی معترض کا چھٹا اعتراض:
شہداء کربلا کا پہلا سوگ کس کے گھر میں منایا گیا؟
حسینی جواب:
جنہوں نے قتل کیا تھا۔انہی نے سوگ منایا تھا۔اور آج بھی غم و زنجیر کے ساتھ سوگ منانے والے یزید ہی کے متبع ہیں۔
یزیدی معترض کا ساتواں اعتراض:
باقیاتِ کربلا کی پہلی مہمان نوازی کس نے کی؟
حسینی جواب:
ڈوب کے مر جانا چاہئے کہ پہلے بھوکا پیاسا رکھ کے شہید کر دیا گیا اور پھر بعد میں مہمان نوازی کرنے بیٹھ گئے۔حامیان یزید میں عقل نام کی کوئی چیز ہوتی تو ڈوب کے مر جاتے۔
یزیدی معترض کا آٹھواں اعتراض:
کربلا میں زندہ بچ جانے والے افراد کو انعام و اکرام کے ساتھ واپس مدینہ کس نے بھجوایا؟
حسینی جواب:
جن کے گھر کے 72 افراد کو ذبح کر دیا گیا ہو،کیا ان کو انعام دیا جاتا ہے؟
یزیدی معترض کا نواں اعتراض:
دمشق کی مسجد میں سیدنا زین العابدین رحمہ اللہ کو خطبے کی اجازت کس نے دی تھی؟
حسینی جواب:
ایک 13 سال کا بچہ اپنے زخمی دل اور کمزور جسم سے کیا خطبہ دے سکتا تھا؟ یہ یزیدیوں کا مزید تاریخی جھوٹ ہے۔
یزیدی معترض کا دسواں اعتراض:
جلیل القدر صحابی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کس کو ولی عہد بنانے کا مشورہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیا تھا؟
حسینی جواب:
یزید کے بنانے کا دیا تھا۔لیکن اس سے یہ کیسے لازم آ گیا کہ آلِ رسول ﷺ کے خون کرنے میں یہ صحابہ بھی ملوث تھے؟
یزیدی معترض کا گیارہواں اعتراض:
خانہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کا آغاز کس نے کیا؟
حسینی جواب:
کعبہ شریف پہ غلاف چڑھانے کا آغاز تو ہزاروں سال سے چلا آ رہا تھا۔اور اگر آپ کہیں کہ یزید نے بھی چڑھایا تھا تو ہمارا سوال ہے کہ اس کا یہ عمل سانحہ کربلا سے پہلے کا ہے یا بعد کا؟ جب اس کا یہ عمل پہلے کا ہے تو اس سے اس کا بعد میں ہونے والا بدنما داغ کیسے دھل گیا؟
یزیدی معترض کا بارہواں اعتراض:
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کس خلیفہ کے متعلق کہا تھا کہ ہم نے اس کی بیعت اللہ و رسول ﷺ کے نام پہ کی ہے؟
حسینی جواب:
انہوں نے محض ازالۂ شر کے لئے بیعت کی تھی۔اور بعد میں وہ بھی یزید پہ لعنت ملامت کرتے تھے
یزیدی معترض کا تیرھواں اعتراض:
برادر حسین سیدنا محمد بن علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے کس خلیفہ کو پابندِ صوم و صلٰوۃ اور نیک کہا؟
حسینی جواب:
محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کی یہ ملاقات اتفاقی ہوئی تھی اگر انہوں نے یزید کو کسی نیک عمل کرتے دیکھا بھی ہے تو اس سے اس کا نیک نام ہونا ثابت نہیں ہوتا
یزیدی معترض کا چودہواں اعتراض:
سیدنا علی بن حسین رحمہ اللہ نے کس خلیفہ کے متعلق صَلَّی اللّٰہُ امیر المومنین وَاَحسنَ الجزاء کے الفاظ کہے تھے؟
حسینی جواب:
کسی معتبر روایت تاریخ سے یہ ثابت نہیں ہے۔یزیدیوں کا یہ بھی سیاہ ترین جھوٹ ہے۔
یزیدی معترض کا پندرہواں اعتراض:
صحابئ رسول حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کس خلیفہ کی طرف سے گورنر تھے؟
حسینی جواب:
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو تو گورنر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بنایا تھا۔اور یزید نے انہیں معزول کر کے ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر بنا دیا تھا۔یزیدیوں کو یہ سوال کرتے شرم آنی چاہئے۔
یزیدی معترض کا سولہواں اعتراض:
عبداللہ بن جعفر طیار کی بیٹی کس خلیفہ کی بیوی تھی؟
حسینی جواب:
رشتوں سے قاتلین حسین رضی اللہ عنہ کا مبرّا ہونا کیسے لازم آ گیا؟ نیز یہ سوال نامکمل ہے۔سائل اپنا سوال مکمل کرے تاکہ ہم بھی اس کو مکمل جواب دے سکیں
یزیدی معترض کا سترہواں اعتراض:
تین سال 51،52،53 ھجری میں امیر حج کون تھا؟
حسینی جواب:
یزید امارت پہ 60ھ میں متمکن ہوا جبکہ سانحہ کربلا 61ھ میں پیش آیا۔ اب اس سے پہلے کون امیرالحج تھا اور کون نہیں؟ اس سے سائل کا مقصد کیا ہے؟ لہذا سائل اپنا سوال سوچ کے بتائے تاکہ ہمارے ذمہ بھی اس کا جواب ہو سکے۔نیز سائل و معترض یزیدی لشکر کے چرنوں میں چھپ چھپ کے سوالات کرنے کی بجائے کھلے عام اپنے شناختی کارڈ والے نام مع ولدیت کے سامنے آ کر اخلاقی ہمت کا مظاہرہ کرے تاکہ تبادلہ خیالات کرنے میں کوئی حجاب نہ ہو۔
(عبدالجبار سلفی لاھور 10 محرم الحرام 1446ھ)
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H