اسلام حضرت عمر فاروق رضی اللّہ تعالیٰ عنہ کی بہادری کی چھاؤں میں


عمر! جب یہ لفظ سماعتوں سے ٹکڑاتا ہے تو ایک ایمان والا خود میں جرأت، شجاعت، دلیری اور بہادری محسوس کرتا ہے، ایمان کی حلاوت و تراوٹ پاتا ہے، اس نام سے رعب، دبدبہ اور ہیبت ٹپکتا ہے، دل ان کی عقیدت میں خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوجاتاہے، اور فرحت و شادمانی سے کھل اٹھتا ہے _
نام میں اس قدر جادو ہے تو ان کی شخصیت کس قدر دلربا و دلنشین ہوگی، اور کیوں نہ ہو جب کہ وہ التجاء رسول ہیں، مراد رسول ہیں، جب وہ بولتے ہیں تو خدا کی آواز ہوتی ہے، جب وہ چلتے ہیں تو شیطان کترا جاتا ہے، عدل و انصاف انہی کے دم سے قائم ہے، ذکاوت و فطانت ان کا زیور ہے، جن کے اندر نبوت کا وصف بھی ہے _
حضرت عمر کا قبول اسلام کا واقعہ مشہور ہے جب وہ اسلام میں داخل ہوۓ تو صحابہ کرام رضی الله عنہم کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا، تکبیر کی آواز اس قدر بلندی ہوئی کہ وادئ مکہ اس صدا سے گونج اٹھی،اور یہ مسرت اس وقت دوبالا ہوگئی جب حضرت جبرئیل حاضر دربار رسالت ہوۓ، اور خبر دی کہ عمر کے اسلام سے ملأ اعلی میں بھی جشن و سرور کا ماحول ہے _
ابھی کچھ لمحہ پہلے حضرت عمر اسلام کے آغوش میں آئے ہیں، رسول پاک ﷺ کی صحبت کا اثر تو دیکھئے جو پہلے باطل کے ساتھ تھے، اب وہ حق کا باشی ہوکر بول اٹھے
یا رسول الله! کیا ہم حق کے پجاری نہیں ہیں؟ آپ علیہ السلام نے اثبات میں جواب دیا تو حضرت عمر کہنے لگے پھر چھپ کر عبادت چہ معنی دارد، حق کے اظہار میں کیا خوف، خانہ خدا میں اس کی عبادت سے کیسا ڈر، قربان جاؤں عمر کی اس جرأت پر مسلمانوں نے اس روز عمر کی بہادری کے چھاؤں میں کھل کر، اعلانیہ طور پر بغیر کسی خوف و خطر کے خدا کے گھر میں اپنے خدا کی عبادت کی اور یہ سلسلہ اسی آن سے چل پڑا، ایک صحابی کا بیان ہے .والله مااستطعنا ان نصلي عند الكعبة ظاهرين حتى اسلم عمر _
آپ کو یاد ہوگا ہجرت کے موقع پر جب آپ الوداعی طواف کے لئے خانہ کعبہ تشریف لے گئے تو خدا کے دشمنوں نے آپ کا راستہ روکنا چاہا ،آپ نے کیا جواب دیا تھا؟ کہ جو شخص اپنی جان کا دشمن ہے،اپنی بیوی کو بیوہ، اپنے بچوں کو یتیم، اور اپنے والدین کو بے سہارا کرنا چاہتا ہے اسے حق ہے کہ شوق سے میرا راستے کا روڑا بنے _
غزوات ہوں یا سرایا تمام محاذ پر آپ پیش پیش رہے، آپ کے کارنامے تاریخ کے کسی طالب علم سے ڈھکا چھپا نہیں ہے
حضرت عمر کے رعب و داب ہی کا اثر تھا کہ قریش کے تمام قبائل معرکۂ بدر میں شریک تھے، لیکن بنوعدی جو حضرت عمر کا قبیلہ تھا اس قبیلے سے ایک بھی ذو روح شریک جنگ نہیں ہوا _
غزوہ احد کے دوسرے قسط میں جب جنگ کا رخ مسلمانوں کے خلاف تھا ،اور دشمنوں نے رسول پاک کی شہادت کی افواہ پھیلا دی، مسلمانوں میں مایوسی چھاگئی، دل ڈوبنے لگا اور ہتھیار ہاتھ سے چھوٹنےلگے، ابو سفیان جو اس وقت دشمنوں کی قیادت کر رہے تھے تحقیق احوال کے لیے رسول پاک کا اور صدیق اکبر و عمر کا نام لے کر پوچھ رہے تھے کہ کیا یہ لوگ زندہ ہیں؟ کسی نے جواب نہیں دیا ابو سفیان کو افواہ کا یقین ہو چلا تھا لیکن حضرت عمر کی بہادری نے ان کا ضبط توڑ دیا اور وہ بول پڑے کہ او خدا کے دشمن ابھی ہم سے زندہ ہیں _
اسی طرح بیت المقدس کا سفر اور اس کی فتح آپ کی بہادری کا شاہکار ہے ، قیصر کسریٰ کی حکومت میں بھونچال، اور سپر پاور طاقتوں کے زوال عمر کے نام سے ٹپکنے والے رعب و داب ہی کا اثر ہے، آپ کی حق گوئی اور بے باکی،بہادری اور دلیری، حسن انتظام ہی کا نتیجہ تھا کہ جب آپ اس دنیا سے رخصت ہو رہے تھے تو صرف خطاب کا بیٹا رخصت نہیں ہو رہا تھا بلکہ آدھی دنیا کا بے لوث خادم ، انصاف پسند حکمران، والیوں اور حاکموں کے رہبر، جرنیلوں کا افسر ، عظیم ترین فاتح، مسلمانوں کا غرور، اور اسلام کا عروج رخصت ہو رہا تھا_
عزیر قاری!
حضرت عمر میں اور بھی بہت ساری خوبیاں تھی، آپ اونچے درجے کے عالم، فقیہ، اور مجتہد تھے، انصاف پرور حکمران تھے، سخاوت آپ کی فطرت تھی، غریبوں اور ضرورت مندوں کے کام آتے تھے، آپ کا سلوک غلاموں کے ساتھ خیر خواہانہ تھا، انتظام و انصرام میں بلا کا ملکہ تھا، آپ کا ذہن تخلیقی تھا، زہد تقوی کے آپ پتلا تھے سادہ اور بے تکلف مزاج رکھتے تھے _
آپ کی پیدائش سن٣٨٥؁ء کو مکہ میں خطاب کے گھر ہوئی
اور یکم محرم ٢٤ ہجری کو ایک شقی فطرت ابو لؤلؤ فیروز نامی غلام کے ہاتھوں شہادت کا سانحہ پیش آیا اور یہ آفتاب افق میں ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از قلم محمد صادق امین قاسمی
Only WhatsApp Contact +918229072024

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H