محرم الحرام کی حرمت اور بدعات کا ازالہ۔ از قلم: محمد فیض رشید

محرم الحرام سے ہجری سال کا آغاز اور ذی الحجہ پر ہجری سال کا اختتام ہوتا ہے۔ نیز محرم الحرام ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے قرار دیا ہے۔
اس ماہ کو رسول کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا مہینہ قرار دیا ہے۔(مسلم)
10 محرم الحرام یعنی یوم عاشورہ زمانہ جاہلیت میں قریش کے نزدیک بڑا بابرکت سمجھا جاتا تھا اور خانہ کعبہ پر نیا گلاف چڑھایا جاتا تھا اور اس دن وہ روزہ بھی رکھا کرتے تھے۔
عاشورہ (دسویں محرم) کا روزہ ابتدائے اسلام میں فرض تھا، لیکن رمضان کے روزوں کے فرض ہونے کے بعد اس کی فرضیت منسوخ ہوگئی، البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے روزے فرض ہونے کے بعد بھی اس روزے کا اہتمام فرمایا ہے، اس لیے اس کا رکھنا مسنون ومستحب ہے، اور یہ روزہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے، وفات سے پہلے والے سال جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا کہ یہود بھی شکرانہ کے طور پر عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں تو آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ:"اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نویں کا روزہ بھی رکھوں گا"، جب کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ :"عاشورہ کے دن روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو، اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو"، لہٰذا فقہاءِ کرام نے عاشورہ کے ساتھ نو محرم کے روزہ کو مستحب قرار دیا ہے، اور مشابہتِ یہود کی بنا پر صرف عاشورہ کا روزہ رکھنے کو مکروہِ تنزیہی قرار دیا ہے، اس لیےدسویں کے ساتھ نویں یا گیارہوں کا روزہ رکھنا بھی بہتر ہے، تاکہ اس عبادت کی ادائیگی میں یہود کے ساتھ مشابہت نہ رہے، تاہم اگر کسی بنا پر تین یا دو روزے رکھنا دشوار ہو تو صرف عاشورہ کا روزہ رکھ لینا چاہیے؛ تاکہ اس کی فضیلت سے محرومی نہ ہو۔
اور اسی ماہ مبارک میں بہت سے اہم واقعات پیش ائیں جیسے کہ حضرت ادم علیہ السلام جو پہلے نبی ہیں اور قیامت تک کے انے والے انسانوں کے ابا ہیں حضرت ادم نے بھول کر جو شجر ممنوعہ کا پھل کھایا اور جب اپنی خطا پر تنبیہ ہوا تو کئی برس تک یہ دعا مانگتے رہے
ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنكونن من الخاسرين.
اے پروردگار ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا تو نے اگر ہم کو معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو یقینا ہم خسارے میں رہ جائیں گے،چنانچہ قران کریم میں ہے اللہ تعالی نے حضرت ادم کی توبہ قبول فرمائی اور جس دن توبہ قبول فرمائے وہ عاشورہ کا دن اور ماہ محرم تھا،حضرت ادریس علیہ السلام کو اسی دن اسمان پر اٹھایا حضرت نوح کی کشتی جودی پہاڑ پر اسی دن ٹھہری حضرت یعقوب علیہ السلام یوسف کے فراق میں روتے روتے بینائی کھو بیٹھے تھے عاشورہ کا دن تھا کہ جب یہ عقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹ ائی ایک روایت میں ہے کہ اپ کے بیٹے کی طویل جدائی کے بعد عاشورہ کے دن ہی ملاقات ہوئی۔عاشورہ کے دن ہی حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو عزت و سربلندی نصیب ہوئی۔ اور اسی دن فرعون کی شہنشاہیت اور فرعونیت دریائے نیل میں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئی۔ اور جب یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو سولی پر چڑھایا حق تعالی نے اپنے وعدے کے مطابق حضرت عیسی کو آسمان پر اٹھایا،یہ دن بھی عاشورہ کا تھا۔ اور ایسے تمام واقعات ہیں جو اس دن پیش آئیں۔
اور دوسری طرف اس ماہ مبارک میں بہت سی بدعات رائج ہیں جس میں کہ سب سے نمایاں اہل تشیع حضرات کا ماتم اور تعزیداری ہے۔
اہلِ تشیع حضرات ماتم اور تعزیت داری اس لیے کرتے ہیں تاکہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور اُن کے اہلِ بیت پر کربلا میں ڈھائے گئے مظالم پر غم و افسوس کا اظہار کریں، اور ان کی قربانی کو یاد رکھ کر مظلوم کی حمایت اور ظالم سے نفرت کا درس جاری رکھیں۔
یہ عمل ان کے نزدیک محبتِ اہلِ بیتؑ، وفاداری، اور دین کی حقانیت کا اظہار ہے۔
حتی کہ یہ تمام کی تمام چیزیں بدعات اور گناہ عظیم ہمیں بھی امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے بے شمار محبت اور کیوں نہ ہو وہ نواسے رسول ہیں اور اہل بیت میں سے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان کی شہادت کے غم میں بدعت ماتم کریں، ان سے محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم ان کے جیسے کام کریں اور ان کی زندگی کے ہر پہلو پر نظر کس طرح انہوں نے اسلام کے خاطر اور اپنے نانا کے لائے ہوئے اس دین کی خاطر اس شریعت کی خاطر قربانیاں پیش کی،کربلا کے موقع پر دوران جنگ وقت نماز میں انہوں نے جنگ کو ترک کیا اور اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر نماز کو قائم کیا۔




-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H