Article Image

وسوسہ سے متعلّق اِسلامی تعلیمات اور اس کے تیر بہدف علاج


🖊️مفتی سلمان صاحب

وسوسہ سے متعلّق اِسلامی تعلیمات

اور اس کے تیر بہدف علاج

🟢🟢🟢🟢🟢🟢



بعض اوقات وسوسہ کا مرض ایک خطرناک بیماری کی صورت اختیار کرکے اِنسان کو لگ جاتا ہےجو اُس کیلئے دین و دنیا کے کاموں میں پریشانیوں اور خلل اندازہونے کا باعث بن کر پریشان کن اور نقصان دہ ثابت ہورہا ہوتا ہے،ایسا شخص جس کرب اور تکلیف کے مرحلہ سے گزر رہا ہوتا ہے وہ یا تو خود جانتا ہے یا اُس کا مُعالج اور راہنما جانتا ہے جس سے وہ اپنی اِس پریشانیوں کو ڈسکس کرتا ہے۔گزشتہ کئی سالوں میں ایسے کئی مریضوں کو دیکھنے کا موقع ملا جو وسوسہ کے جال میں جکڑے ہوئے اپنی پریشانیوں کے دن گزار رہے تھے،اُن کے مشورہ کرنے کی وجہ سے اس مرض کی شدّت اور سنگینی کا احساس ہوا۔پھر اُن کی راہنمائی کی کوشش میں جو کچھ قرآن و حدیث میں اللہ اور اُس کے رسول کی بتلائی ہوئی تعلیمات کو پڑھا اور دیکھا اُس کا خلاصہ ذیل میں ذکر کیا جارہا ہے تاکہ افادہ عام ہو اور اِس مرض میں مبتلاء لوگ اپنی بیماری و پریشانی کا علاج جان کر عمل کرسکیں ۔بیشک اللہ ہی ہدایت و سمجھ عطاء کرنے والا ہے اور یقیناً وہی ہر طرح کی پریشانیوں کو دور کرنے والا ہے۔







وساوِس سے متعلّق احادیثِ طیّبہ:

❶وسوسوں پر جب تک عمل نہ ہو وہ معاف ہیں:

نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے: حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لوگوں کے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں جب تک کہ وہ ان وسوسوں پر عمل نہ کریں اور ان کو زبان پر نہ لائیں۔ (بخاری مسلم)







❷وسوسہ کو برا سمجھنا ایمان کی علامت ہے :

ایک دفعہ حضرات صحابہ کرام﷢نے حضورﷺ سےعرض کیا کہ ہم اپنے دلوں میں بعض ایسی باتیں (یعنی وسوسے) پاتے ہیں جس کا زبان پر لانا بھی ہم برا سمجھتے ہیں۔ آپﷺ نے پوچھا ! کیا تم واقعی ایسا پاتے ہو۔صحابہ کرام﷢نے عرض کیا! جی ہاں، رسولﷺنے فرمایا کہ یہ توکھلا ہوا ایمان ہے۔ (مسلم)







❸شیطان وسوسے پیدا کرے تو اللہ کی پناہ مانگو:

نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے:تم میں سے بعض آدمیوں کے پاس شیطان آتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا اور اس چیز کو کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ پھر وہ یوں کہتا ہے کہ تیرے پروردگار کو کس نے پیدا کیا؟ جب نوبت یہاں تک آ جائے تو اس کو چاہیے کہ اللہ سے پناہ مانگے اور اس سلسلہ کو ختم کر دے۔ (بخاری و مسلم)







❹وسوسہ کو دور کرنے کا ایک نبوی طریقہ:

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:لوگ ہمیشہ اپنے دل میں مخلوقات وغیرہ کے بارے میں خیالات پکاتے رہیں گے ، یہاں تک کہ کہا جائے گا (یعنی دماغ میں یہ وسوسہ آئے گا) کہ اس تمام مخلوق کو اللہ نے پیدا کیا ہے ،اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ پس جس آدمی کے دل و دماغ میں اس قسم کا کوئی خیال اور وسوسہ پیدا ہو تو وہ یہ کہے:”آمَنَتُ بِاللهِ وَرُسُلِهِ“ میں اللہ تعالیٰ پر اور اس رسول پر ایمان لایا۔ (بخاری و مسلم)



فائدہ:



وسوسہ کی راہ روکنے کا ایک فوری موثر طریقہ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ مجلس بدل دی جائے۔ یعنی جس جگہ بیٹھے یا لیٹے ہوئے اس طرح کا وسوسہ پیدا ہو وہاں سے فوراً ہٹ جائے اور کسی دوسری جگہ جا کر کسی کام اور مشغلہ میں لگ جائے اس طرح دھیان فوری طور پر ہٹ جائے گا اور وسوسہ کی راہ ماری جائے گی۔







❺شیطانی وسوسہ سے محفوظ رہنے پر اللہ کا شکر ادا کرو:

رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک صحابی نے حاضر ہو کر عرض کیا (یا رسول اللہ) میں اپنے اندر ایسا (برا) خیال پاتا ہوں کہ زبان سے اس کے اظہار کی بجائے جل کر کوئلہ ہو جانا مجھ کو زیادہ پسند ہے۔ رسول اللہﷺنے (یہ سن کر) فرمایا :اللہ کا شکر ادا کرو جس نے اس خیال کو وسوسہ کی حد تک رکھا۔ (سنن ابوداؤد)



شیطان نے ان صحابی کے اندر کوئی برا خیال ڈال دیا ہو گا جس سے ان کے ایمانی کیفیت بے چین ہو گئی ہو گی اور وہ بھاگتے ہوئے رسول اللہﷺکی خدمت میں آئے ، رسول اللہ ﷺ نے ان کو تسلی دی کہ اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، یہ تو اللہ کا بڑا فضل ہے کہ تمہارا ایمانی احساس و شعور پوری طرح بیدار ہے اور اس برے خیال کو خود تمہارے دل و دماغ نے قبول نہیں کیا اور وہ وسوسہ کی حد سے آگے بڑھنے نہیں پایا۔ اس طرح کے وسوسہ پر نہ کوئی مواخذہ ہے اور نہ کسی نقصان کا خدشہ ، اس کو تو اللہ تعالیٰ نے معاف قرار دیا ہے ، ہاں اگر وہ برا خیال وسوسہ کی حد سے آگے بڑھ کر تمہاری زبان یا عمل سے ظاہر ہو جاتا تو پھر تمہارے لیے خطرہ کی بات تھی۔







❻نیکی کے خیال پر اللہ کا شکر اور شیطان کی وسوسہ پراللہ کی پناہ چاہو:

نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے:



حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان پر ایک تصرف تو شیطان کا ہوا کرتا ہے اور ایک تصرف فرشتہ کا، شیطان کا تصرف تو یہ ہے کہ وہ برائی پر ابھارتا ہے اور حق کو جھٹلاتا ہے اور فرشتہ کا تصرف یہ ہے کہ وہ نیکی پر ابھارتا ہے اور حق کی تصدیق کرتا ہے، لہٰذا جو آدمی (نیکی پر فرشتہ کے ابھارنے کی) یہ کیفیت اپنے اندر پائے تو اس کو سمجھنا چاہیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے (ہدایت) ہے اس پر اس کو اللہ کا شکر بجا لانا چاہیے اور جو آدمی دوسری کیفیت (یعنی شیطان کی وسوسہ اندازی) اپنے اندر پائے تو اس کو چاہیے کہ شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرے ۔(ترمذی)







❼وسوسے پیدا ہوں تو شیطان کو تھتکار دو اور اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہو:

نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے:لوگ(پہلے تو مخلوقات وغیرہ کے بارے میں) پوچھا پوچھی کریں گے۔ اور پھر آخر میں یہ سوال کھڑا کیا جائے گا کہ ساری مخلوقات کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو خود اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ جب یہ سوال کھڑا کیا جائے تو تم یہ کہہ دیا کرو:



”اَللهُ أَحَدٌ اَللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ“



ترجمہ: کہو اللہ ایک ہے ، اللہ بے نیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ کسی نے اس کو جنا ہے۔ اور کوئی اس کا ہمسر پھر اس کے بعد اپنی بائیں طرف تین بار تھتکار دو۔ اور شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو۔ (ابوداؤد)







❽نماز کے دوران شیطان کی خلل اندازی:

حضرت عثمان ابن ابی العاص﷛فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! میرے اور میری نماز اور میری قرأت کے درمیان شیطان حائل ہو جاتا ہے اور ان چیزوں میں شبہ ڈالتا رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ شیطان ہے جس کو خنزب کہا جاتا ہے۔ پس جب تمہیں اس کا احساس ہو (کہ شیطان وسواس و شبہات میں مبتلا کرے گا) تو تم اس (شیطان مردود) سے اللہ کی پناہ مانگو اور بائیں طرف تین دفعہ تھتکار دو۔ حضرت عثمان غنی﷛فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ ﷺکے اس ارشاد کے مطابق) میں نے اسی طرح کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے وسواس و شبہات سے محفوظ رکھا۔ (صحیح مسلم)







❾وہم اور وسوسہ کو نظر انداز کر کے اپنی نماز جاری رکھو:

حضرت قاسم بن محمدسے ایک آدمی نے عرض کیا کہ مجھے اپنی نماز میں وہم ہوتا رہتا ہے،اس کی وجہ سے مجھے گرانی ہوتی ہے؟انہوں نے فرمایا (تم اس طرح کے خیال پر دھیان نہ دو اور) اپنی نماز پوری کرو، اس لیے کہ وہ (شیطان) تم سے جب ہی دور ہو گا کہ تم اپنی نماز پوری کر لو اور کہو:



”مَا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي“ ہاں میں نے اپنی نماز پوری نہیں کی۔ (مالک)







وسوسہ کے آسان اور مؤثر علاج:

مندرجہ بالا احادیثِ طیّبہ کی روشنی میں کئی اہم اور قابلِ حل تجاویز سامنے آتی ہیں جن کو عمل میں لاکر وساوس کا اِزالہ اور اس سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔



ذیل میں اس سلسلے کے کچھ علاج اور قابلِ عمل نسخے ذکر کیے جارہے ہیں جن پر عمل کرنے کی صورت میں اللہ کی ذاتِ عالی سے کامل اُمید ہے کہ ان شاء اللہ وساوس سے نجات مل جائے گی :







❶پریشان نہ ہوں:

ایک علاج یہ ہے کہ آنے والے وسوسوں کی وجہ سے پریشان نہ ہوا جائےکیونکہ یہ شیطان کی کوششوں کو کامیاب بنانا ہے ، بلکہ احادیثِ طیبہ کے مطابق یہ یقین رکھنا چاہئے کہ جب تک وسوسہ کے تقاضے پر عمل نہ ہو اُس پر مؤاخذہ نہیں ہوتا ۔ جب وسوسہ سے پریشان ہونا چھوڑ دیں گے تو شیطان اپنے منصوبہ میں ناکام ہوجائے گا کیونکہ وہ وسوسہ کے ذریعہ مؤمن کو پریشان کرنا اور پریشانی میں دیکھنا چاہتا ہے۔







❷توجہ نہ دیں:

وسوسے کو دور کرنے کا سب سے زیادہ مُفید اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ آنے والے وسوسوں کی طرف توجہ ہی نہ دیں ،کیونکہ جب تک توجہ دیتے رہیں گے وسوسے بڑھتے چلے جائیں گے۔اِس لئے بہت ہی آسان سا حل یہ ہےکہ ”اپنے اِرادے سے خیالات لائے نہ جائیں اور اگر آجائیں تو تو اُن پر توجہ نہ دی جائے“۔(3)معوّذتین یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ النّاس سات سات دفعہ صبح شام اول آخر تین تین دفعہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر پانی پر دم کرکے پی لیں اور اپنے سینے پر دم بھی کریں، اِن شاء اللہ بہت فائدہ ہوگا۔







❸اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگیں:

ہر نماز کے بعد ایک دفعہ یہ دُعاء پڑھیں:



” اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ وَسَاوِسَ قَلْبِیْ خَشْیَتَکَ وَ ذِکْرَکَ وَاجْعَلْ ھِمَّتِیْ وَ ھَوَایَ فِیْمَا تُحِبُّ وَ تَرْضٰی“



ترجمہ:یا اللہ! میرے دل کے وسوسوں کو اپنی خشیت اور اپنی یاد بنادےاور میرےشوق اور ہمت کی چیز کو وہی کردے جسے تو اچھا سمجھتا ہو اور پسند کرتا ہو۔



اسی طرح اِس دعاء کا بھی اہتمام کریں:



”اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَأَعُوْذُبِكَ رَبِّ مِنْ أَنْ یَّحْضُرُوْنَ“



ترجمہ:اے اللہ ! میں شیطان کے لگائے ہوئے چرکوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اور میرے پروردگار ! میں ان کے اپنے قریب آنے سے بھی آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔



❹تین دفعہ بائیں جانب تھتکاردیں:

جب وسوسہ آئے تو تین دفعہ بائیں جانب تھتکار دیں، جیساکہ خود ماقبل ذکر کردہ حدیث میں یہ طریقہ تلقین کیا گیا ہے۔







❺سورۃ الاخلاص پڑھ لیں:

ایمانیات کے بارے میں یا اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں جب وسوسہ آئے تو یہ کلمات پڑھ لینے چاہیئے:



”اَللّهُ أَحَدٌ اَللّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ“۔







❻شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگیں:

شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیئے یعنی أعُوذ بِاللہ من الشَّیْطَان الرّجیم پڑھ لینا چاہیئے ۔اور بہتر ہے کہ صبح شام دس دس دفعہ تعوّذ پڑھنے کا معمول بنالیں۔اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے:”اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے تمہیں کوئی کچوکا لگ جائے تو اللہ کی پناہ مانگ لو“۔(الأعراف)







❼غسل خانہ میں پیشاب کرنے سے بچیں:

غسل خانہ میں پیشاب کرنے سے احتراز کریں، کیونکہ اس کی وجہ سے وسوسہ کی بیماری پیدا ہوتی ہے، حدیث میں ہے،نبی کریمﷺنےاِرشاد فرمایا: تم میں سے کوئی غسل خانہ میں پیشاب نہ کرے کہ اس سے عموما وسوسہ پیداہوتا ہے۔(ابن ماجہ)







❽گناہوں سے اجتناب کریں:

گناہوں سے اجتناب کریں بالخصوص اپنی نگاہوں اور کانوں کی حفاظت کریں کیونکہ اِن دونوں راستوں سے براہِ راست دل میں گندگی جاتی ہے۔







❾حلال اور پاکیزہ غذا کا اہتمام کریں:

حلال غذاء کا اہتمام کریں ، کیونکہ اِنسان کی سوچ و فکر اور اُس کے خیالات پر اُس کے کھانے پینے اور برتنے کی چیزوں کا بڑا گہرااثر ہوتا ہے۔





⓫نیک صحبت اختیار کریں:

نیک صحبت اختیار کریں ، بُری صحبت سے احتراز کریں ، اللہ کے نیک بندوں کی صحبت کی برکت سے بڑے بڑے فتنوں سے حفاظت ہوجاتی ہے ۔



٭—٭—٭



مفتی سلمان زاہد:



کتابوں کیلئے اسلامک گیان کا چینل دیکھئے:

https://islamicgyan.shakirgyan.com/all-channels/channel-details/@AlnoorIslamicChannel/books



بیانات سننے کیلئے یوٹیوب چینل دیکھئے:

https://www.youtube.com/channel/UCUexJiDI9YgSrlZdWRn09ag

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H