بسم اللہ الرحمن الرحیم
وراثت کی بنیاد پر اوقاف کی تولیت
ضرورت واہمیت
اس وقت امت مرحومہ جس بدحالی اور بےدینی کا شکار ہے،وہ محتاج بیان نہیں ہے، اس کے بنیادی اسباب میں سے اہم اور اساسی سبب "اسلامی خلافت" کا فقدان اور ملت کی اس عظیم نعمت سے محرومی بھی ہےجس کاکوئی دوسرا پور ا پائیدار متبادل موجود نہیں ہے، تاہم اسلامی معاشرہ میں وقف ادارے جزوی اور عارضی طور پر امت کے حق میں سود مند ثابت ہوسکتے ہیں اور ماضی وحال میں ان اداروں سے امت کو بڑا فائدہ پہنچ رہاہے۔تاہم بدقسمتی یہ ہے کہ متعدد عناصرکی بنیاد پر یہ فائدہ بھی تعداد وکیفیت دونوں کےلحاظ سے سکڑرہاہے،ان متعدد عناصر میں سےایک اہم عنصر یہ ہےکہ متولی بننے ،بنانے میں اہلیت ولیاقت کا لحاظ نہیں رکھاجاتاہے بلکہ وراثت یا تعلق وغیرہ بنیادوں پر کسی کو اس اہم کام کےلئےنامزد کردیاجاتاہے۔یہاں صلاح واصلاح کے جذبےسے اس کےمتعلق چند ضروری باتیں درج کی جاتی ہیں۔
تولیت کا معیاراور اس کی ضروری شرائط
حضرات فقہائےکرام کے ہاں یہ بات مُسلّم ہے کہ وقف کا مُتولی وہی شخص ہوسکتا ہے جس میں درج ذیل شرائط موجود ہیں:
۱:امین اور دیانت دار ہو،خیانت کرنےوالا نہ ہو۔ جو شخص خیانت کرنےوالا ہو یا اس کےبارےمیں خیانت کرنےکا اندیشہ ہو،وہ متولی بننے کااہل نہیں ہے۔
۲:وقف سےمتعلق تمام تر ذمہ داریوں کو درست طریقےسےانجام دینے کی اہلیت واستطاعت رکھتا ہو۔اگر ایک شخص بہت ہی نیک ودیانت دار ہو لیکن وقف کی مطلوبہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کسی وجہ سے کوتاہی کرتاہو، چاہے یہ کوتاہی ناتجربہ کاری کی بنیاد پر ہو، مزاج ومذاق کی وجہ سے ہو، شعور کی کمی کی وجہ سے ہو، یا کسی بھی بنیاد پر ہو، تو ایسا شخص متولی بننےکا اہل نہیں ہے۔
۳:وہ خود متولی بننے/بنائےجانےکا مطالبہ نہ کرے، کوئی شخص خود ہی متولی بننےکا مطالبہ کرتاہے تو(عام حالات میں )ایساشخص بھی اس منصب کا اہل شمار نہیں ہوگا۔
۴:بہت سے اہلِ علم نے اس کے ساتھ ساتھ "عدالت"بھی شرط قرار دیا ہے، اس کاحاصل یہ ہے کہ متولی تقویٰ اور مروت ،دونوں سے مالا مال ہو، لہٰذا اگرکوئی شخص کبیرہ گناہ کرتاہےاور اس سے توبہ نہیں کرتا،یا صغیرہ گناہوں پر اصرار کرتا ہے تو ایسا شخص بھی ان اہل علم کے نزدیک متولی بننے کی لیاقت نہیں رکھتا۔
حضرات فقہائےکرام کی تصریحات
وقف کےمسائل سے متعلق فقہ حنفی کی مشہور کتاب"الاسعاف"میں ہے:
"لا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه، لأن الولاية مقيدة بشرط النظر، وليس من النظر تولية الخائن، لأنه يخل بالمقصود وكذا تولية العاجز لأن المقصود لا يحصل به ويستوي فيها الذكر والأنثى وكذلك الأعمى والبصير وكذلك المحدود في قذف إذا تاب لأنه أمين. رجل طلب التولية على الوقف قالوا :لا تعطي له وهو كمن طلب القضاء لا يقلد"
ترجمہ:"جوشخص امانت دارہواوروقف کی ذمہ داری بذات خود یاکسی نائب کے ذریعے نبھانے پرقادرہو،اُسے ہی متولی بنایاجائے،کیونکہ یہ ذمہ داری مصلحت کی بنیاد پردی جاتی ہے اورخائن کوذمہ داری سپردکرنے میں کونسی مصلحت ہوسکتی ہے؟وہ تومقصد کے حصول میں رکاوٹ بنتاہے۔نیز جوشخص ذمہ داری اداکرنے پرقادرنہ ہواسے بھی مقصد حاصل نہ ہونے کی وجہ سے یہ ذمہ داری سپرد نہیں کی جائے گی ۔اس معاملہ میں مردوعورت برابرہیں،اسی طرح بینااورنابینا بھی،محدود فی القذف جس نے توبہ کیاہو،چونکہ وہ بھی امین ہے۔اگرکوئی خود متولی بننے کی خواہش ظاہرکرے تواسے متولی نہ بنایاجائے جیساکہ منصب قضاء کے خوہش مند کویہ ذمہ داری نہیں سونپی جاتی "۔
"تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ"میں ہے:
(سئل) في الصالح للنظر من هو؟(الجواب) : هو من لم يسأل الولاية للوقف وليس فيه فسق يعرف، هكذا في فتح القدير وفي الإسعاف لا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو نائبه ويستوي في ذلك الذكر والأنثى
ترجمہ:" فتح القدیر میں ہے کہ :وقف کی ذمہ داری کے لیے زیادہ مناسب وہ شخص ہے جوخود ذمہ داری طلب نہ کرے نیزوہ ظاہری طورپرفاسق بھی نہ ہو۔اسعاف میں ہے کہ: جوشخص امانت دارہواوروقف کی ذمہ داری بذات خود یاکسی نائب کے ذریعے نبھانے کی صلاحیت رکھتاہو،اسے ہی متولی بنایاجائے خواہ مرد ہویاعورت"۔
کویت کے "موسوعہ فقہیہ"میں ہے:
مَا يُشْتَرَطُ فِي الْمُتَوَلِّي: يُشْتَرَطُ فِي الْمُتَوَلِّي عِنْدَ أَكْثَرِ الْفُقَهَاءِ الْعَدَالَةُ وَالْقُدْرَةُ عَلَى التَّصَرُّفِ وَالأَْمَانَةُ
ترجمہ:"اکثرفقہاء کرام کے نزدیک متولی کے لیے عدالت ،امانت اورمتعلقہ کام بخوبی اداکرنے کی لیاقت شرط ہے"۔
خیانت کا مفہوم
یہاں اس غلط فہمی کو بھی دور ہونا چاہئے جو"امانت"اور"خیانت"کےمتعلق عام ہے کہ اس کو صرف مالی امور ومعاملات کے ساتھ خاص سمجھاجاتاہے،جو شخص مالی امور میں غبن نہیں کرتا،اس کو بہرحال امانت دار خیال کیاجاتاہے۔ یاد رہے کہ یہ "امانت"کا ادھورا تصور ہے، امانت اورخیانت کا تعلق صرف مالیات کےساتھ خاص نہیں بلکہ وقف سےمتعلق تمام تر ذمہ داریوں کےساتھ اس کا تعلق ہے، لہٰذا جس طرح وقف کے اموال میں بے جا تصرف کرنا خیانت ہے یوں ہی وقف کی ذمہ داریوں کو درست طریقہ سے نہ بجالانا بھی خیانت ہی کی ایک شاخ اور اسی کی ایک صورت ہے،جس طرح مالیات میں غبن اور کوتاہی کرنےوالامتولی بننےکااہل نہیں ہے، یوں ہی تولیت کے فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی کرنےوالا بھی اس بار گراں کا کسی طرح لائق نہیں ہے۔
متولی کےفرائض اور ذمہ داریاں
رہاں یہ سوال کہ متولی کی کیا ذمہ داریاں ہیں جن میں کوتاہی کرنا خیانت کہلاتاہے،جواب یہ ہے کہ بنیادی طورپر متولی کے درج ذیل ذمہ داریاں ہیں:
۱:متعلقہ وقف کے مقاصد کا تحفظ کرنا: اوقاف کی متنوع صورتیں ہوسکتی ہیں، پھر وقف کرنے والےشخص کو بھی شریعت نے اختیار دیا ہے کہ چاہے تو وقف کرتے وقت کچھ شرائط لگائے،ان شرائط کی رعایت رکھنا ضروری ہے، متولی کی ذمہ داری ہے کہ ان تمام باتوں کی رعایت رکھے۔
۲:وقف کے منافع/فوائد کو شرعی ضوابط کےمطابق ہی استعمال کرلیاکرے۔ یہ منافع مال کی شکل میں بھی ہوسکتے ہیں اور منافع و سہولیات کی صورت میں بھی۔ ہر قسم کے منافع کو شرعی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے استعمال کرتے رہنا ضروری ہے۔مثال کےطور پر مسجد ایک وقف ادارہ ہے،نقد رقم کی شکل میں اس کا کچھ فنڈ بھی ہوسکتاہے، اس میں پانی، بجلی وغیرہ کی سہولیات بھی دستیاب ہوتی ہیں، اب ان پیسوں کو کہاں اور کس طرح خرچ کرنا چاہئے؟ پانی اوربجلی وغیرہ کی سہولیات کو کہاں کس حد تک استعمال کیاجاسکتاہے؟ کون ان سہولیات سے کہاں تک استفادہ کرسکتا ہے؟ مسجد کی زمین کو کن کن کاموں میں کہاں تک اور کس طرح استعمال کیاجاسکتاہے؟ یہ، اور اس نوعیت کی تمام باتوں میں شرعی احکام وضوابط کی پابندی کرتے رہناضروری ہےاور یہ تولیت کے منصب کی ذمہ داریوں میں سے ہے۔
۳:وقف کو درپیش مسائل ومعاملات میں متعلقہ وقف کے مصالح کا بھر پور تحفّظ کرتےرہنا۔ وقف ادارہ کو خرید وفروخت، کرایہ داری کےمعاملات بھی پیش آسکتےہیں،کوئی اس کے خلاف کچہری میں دعوی بھی کرسکتاہے،بعض اوقات خود وقف کےلئے بھی دعوی کرنے کی ضرورت پیش آجاتی ہے، ان جیسے تمام معاملات میں متعلقہ وقف کے مصالح کا اچھی طرح نگہداشت کرتے رہنا بھی متولی کی ذمہ داری اور اس کا فرضِ منصبی ہے۔
متولی نامزد کرنےکا مناسب طریقہ کار
کسی بھی وقف ادار ہ کے متولی کو نامزد کرنے کا مناسب طریقہ کار یہ ہے کہ:
۱:اگر وقف کرنےوالا شخص خود متولی بننے کی اہلیت رکھتا ہے اور عملی طور پر بھی اس کی ذمہ داریاں ٹھیک طریقے سے انجام دےسکتا ہے، تو وہ متولی بن جائے۔
۲:اگر خود لیاقت نہ رکھتا ہو، یا لیاقت تو رکھتا ہے لیکن عملی طور پر مشاغل وغیرہ کسی وجہ سے متعلقہ ذمہ داریاں انجام دینا مشکل ہے تو کسی ایسے معتمد شخص کو متولی نامزد کرلے جو درج بالا شرائط وکوائف پر پورا اترتا ہو۔
۳:وقف نامہ تحریری طور پر محفوظ رکھ لے،اوراس میں اس بات کی بھی صراحت کرےکہ فلاں کو ان ان شرائط وکوائف کے بنیاد پر فلاں فلاں مقاصد واہداف کے لئے متولی مقرر کیا گیا ہے، اگر وہ ان ضروری کوائف کا حامل نہ رہے تو اس کاحق تولیت بھی نہ رہے گا اوراس کے بعد بھی ہمیشہ کےلئےایسا ہی آدمی اس کا متولی رہےگا جو فلاں فلاں شرائط وکوائف کاحامل ہو،اور تولیت کے اس منصب پر اسی وقت تک برقرار رہے گا جب تک وہ ان شرائط کاحامل اوران پر عامل ہو۔
اسوہ فاروقی
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خیبر میں "ثمغ"نامی ایک جگہ ملی تھی جو بڑی نفیس اور قیمتی زمین تھی،حضورﷺکے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد آپ نے اس کو وقف کیا اور وقف نامہ میں یہ بھی تحریر فرمایا:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ أَنَّ ثَمْغًا وَصِرْمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ وَالْعَبْدَ الَّذِي فِيهِ وَالْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ وَرَقِيقَهُ الَّذِي فِيهِ، وَالْمِائَةَ الَّتِي أَطْعَمَهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوَادِي تَلِيهِ حَفْصَةُ مَا عَاشَتْ، ثُمَّ يَلِيهِ ذُو الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا أَنْ لَا يُبَاعَ وَلَا يُشْتَرَى يُنْفِقُهُ حَيْثُ رَأَى مِنَ السَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَذَوِي الْقُرْبَى، وَلَا حَرَجَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ إِنْ أَكَلَ أَوْ آكَلَ أَوِ اشْتَرَى رَقِيقًا مِنْهُ "
ترجمہ:" یہ وصیت نامہ اللہ کے بندےامیرالمؤمنین (حضرت) عمر(رضی اللہ عنہ ) کی طرف سے ہے۔ اگرمیرے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئےتو" ثمع "اور"صرمہ بن اکوع" والی جائیداد اوروہ غلام جووہاں ہیں اورخیبر(کی غنیمت سے حاصل شدہ )سوحصےاوراس میں جوغلام ہیں اوروہ سوحصے جوحضورﷺ نے وادی "قر"میں اپنے اہل وعیال کے اخراجات کے لیے چھوڑے ہیں ان کی متولی حضرت ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہاہوں گی جب تک زندہ رہیں، ان کے بعد ان کے اہل میں سے صاحب رائےاس کے متولی ہوں گے۔اورشرط یہ ہے کہ اس جائیداد کونہ بیچاجائےگانہ خریداجائے گا۔متولی اپنی صوابدید کے مطابق گداگروں ،ناداروں اورقرابت داروں میں خرچ کرے گااوراس کے خود کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں،مہمانوں کوکھلائے یاغلام خریدے"۔
اس عبارت کا خط کشیدہ حصہ معنی خیز ہے،ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا آپ کی بیٹی اور حضورنبی اکرمﷺکی اہلیہ محترمہ ہے، اس کو متولی بنایا کہ جب تک وہ زندہ رہے،اس کی متولی رہےگی، اس کے انتقال کے بعد کون متولی ہوگا؟ اس کا بھی فیصلہ فرمادیاکہ ان کےاہل میں سے جو شخص " اہل رائے"ہو ،وہی اس کا متولی قرار پائےگا،اورحضرات صحابہ کرام کے ہاں "اہل رائے"وہی شخص سمجھاجاتاہے جو دیندار اور عقل مند ہو۔
وقف کرنے والوں کو چاہئےکہ وہ اپنے وقف ناموں میں اس بات کی صراحت کرلیاکریں ۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اہل وعیال یا خاندان کاہر فرد تولیت کے منصب پر براجماں ہوکر وقف کے حقیقی مقاصد میں خلل انداز نہ ہوسکے گا بلکہ صرف وہی افراد اس ذمہ داری کو سر لے سکیں گے جو اس کی اہلیت ولیاقت رکھتےہیں اور یوں وقف کے مقاصد درست طریقےسے پورے ہوتے رہیں گے جس سے امت کا بھی فائدہ ہوگا اور وقف کرنے والے کے نیک اعمال میں بھی اس حساب سے اضافہ ہوتارہےگا۔
موجودہ صورت حال اور اس کے نقصانات
اس وقت وقف کے جن اداروں کی تولیت عام مسلمانوں کےہاتھ میں ہے،ان میں عام طور پر رواج یہ ہےکہ خاندان اور وراثت کی بنیاد پر تولیت منتقل ہوتاہے، مدارس، خانقاہ اور مساجد وغیرہ میں یہی ترتیب چل رہی ہے، متولی اگر انتقال کرجاتاہے تو اس کے بعد اس کا بیٹا اس کا منصب سنبھال لیتاہے ، بیٹا نہ ہو تو اس کا بھائی ، چاہے یہ بیٹا/بھائی متعلقہ منصب کو سنبھال کی شرعی اور معاشرتی اہلیت ولیاقت رکھتا ہو یا نہ ، بہرصورت اس کو نامزد کردیاجاتاہے ،کوئی نامزد نہ بھی کرے توبھی خودبخود وہ نامزد ہوجاتاہے۔ ہمارے ملک کے بڑے جامعات ومدارس میں ایسے گنتی کے چند مدارس ہی ہیں جو اس رواج سےپاک ہےاور وہاں باقاعدہ شرعی ضابطہ ومزاج کےمطابق اہلیت ولیاقت کو دیکھ کرکسی کو مہتمم نامزد کیاجاتاہے۔
اس غلط رواج کےدسیوں نقصانات ہیں، ان میں سے یہ بھی ہے کہ:
الف:اجتماعی نظم سےدین داری کی سلطنت ختم ہوجانے کےبعد اب معاشرےمیں دین داری کا بڑا سر چشمہ یہی دینی ادارے ہیں، نا اہل لوگوں کو ان پر براجماں ہوجانے کی صورت میں پوری ملت کا نقصان شروع ہوجاتا ہے۔
ب:متعلقہ وقف کے تقاضے ادھورے رہ جاتےہیں۔
ج:شعوری یا لاشعوری طورپر وقف کےمعاملہ میں خیانتوں کا تسلسل شروع ہوجاتاہے، جو وقف جس قدر وسعت رکھتا ہو،خیانتوں کا سرا بھی اسی قدر لمبا ہوتاہے۔
د:معاشرےکو رجالِ کار ملنا کم ہوجاتاہے،بلکہ رجال کار پیدا ہوجانےکا راستہ ہی مخدوش ہوجاتاہے۔
بعض علماء کی تحقیق:ابتداع کا پہلو
بعض اہل علم نے دینی مناصب کو وراثت کی بنیاد پر سپرد کرنے کو بدعات میں سے شمار فرمایاہے، چنانچہ علامہ قرافی رحمہ اللہ فرماتےہیں:
(القسم الثاني) : محرم، وهو بدعة تناولتها قواعد التحريم وأدلته من الشريعة كالمكوس والمحدثات من المظالم المنافية لقواعد الشريعة كتقديم الجهال على العلماء وتولية المناصب الشرعية من لا يصلح لها بطريق التوارث وجعل المستند لذلك كون المنصب كان لأبيه، وهو في نفسه ليس بأهل
ترجمہ:"شریعت کے قواعداوردلائل سے جس بدعت کی حرمت معلوم ہووہ حرام ہے۔ مثلا:مختلف قسم ٹیکس اورنت نئے مظالم جوشرعی احکام کے سراسرخلاف ہیں۔مثلا:جہلاء کوعلماء کرام پرفوقیت دینا،دینی مناصب محض وراثت کے طورپر اس دلیل کی بنیاد پرحوالہ کرناکہ اس کاباپ متولی تھا جب کہ وہ شخص اس کابالکل اہل نہ ہو"۔
علامہ شاطبی رحمہ اللہ "بدعات عادیہ"پر بات کرتےہوئےتحریرفرماتےہیں:
وأَما الْعَادِيَّةُ: فَاقْتَضَى النَّظَرُ وُقُوعَ الْخِلَافِ فِيهَا، وأَمثلتها ظَاهِرَةٌ مِمَّا تَقَدَّمَ فِي تَقْسِيمِ الْبِدَعِ، كالمُكُوس، والمحدثات مِنَ المَظَالِم، وَتَقْدِيمِ الْجُهَّالِ عَلَى العلماءِ فِي الولايات العلمية، وتولية المناصب الشريفة من ليس لها بأَهل؛ بل بِطْرِيقِ الْوِرَاثَةِ، وإِقامة صُوَرِ الأَئمة وَوُلَاةِ الأُمور وَالْقُضَاةِ،
ترجمہ:"پہلے بدعت کی تقسیم کے ضمن میں عبادات كے علاوه عادات ميں بدعات کی مثالیں واضح ہوچکی ہیں ،مثلا:مختلف قسم کے ٹیکس نافذکرنا،نت نئے مظالم ،علمی مناصب میں جہلاء کوعلماء پرفوقیت دینا،اہم مناصب نااہل لوگوں کے سپرد کرنا،بلکہ وراثت کے طورپردیناائمہ کرام،خلفاء اورقاضیوں کی مورتیاں نصب کرنا"۔
درج بالا تفصیل سےمعلوم ہوا کہ تولیت کا مقام سنبھالنے کے لئے کچھ شرائط ہیں جوشخص ان شرائط پر پورا نہ اترتا ہو، اس کو متولی بنانا، یا اس کا از خود متولی بننا شرعاً جائز نہیں ہے،ایک توخود یہ اقدام کرنا شرعاً غلط اور مذموم ہے اور ساتھ اس کے نتیجےمیں بہت سے منکرات ومفاسد پیدا ہوجاتے ہیں،ا س لئے اس کے ناجائز ہونے میں تو شبہ نہیں ہے۔ البتہ بدعت ہے یانہیں؟ تو اگر اس غلط اور مذموم رواج کو شرعی حکم کا درجہ دیا جائے یا ورواثت کو شرعی استحقاق کا سبب گردانا جائے تو بدعت ہونےمیں بھی شبہ نہیں ہے اور اگر کوئی اس حد تک تجاوز نہ کرے تو بدعت نہیں ہے۔ جن اہل علم نے اس کو بدعات میں سے شمار فرمایاہے، وہ اسی صورت پر محمول ہے،"الفروق"پر"تہذیب الفروق"کے نام سے علامہ محمد بن علی بن حسین مالکی رحمہ اللہ کا ایک حاشیہ ہے ،اس میں ہے:
وكذلك تقديم الجهال على العلماء وتولية المناصب الشريفة من لا يصلح لها بطريق التوريث فإن جعل الجاهل في موضع العالم حتى يصير مفتيا في الدين ومعمولا بقوله في الأموال والدماء والأبضاع وغيرها محرم في الدين فقط.وأما كون ذلك يتخذ ديدنا حتى يصير الابن مستحقا لرتبة الأب وإن لم يبلغ رتبة الأب في ذلك المنصب بطريق الوراثة أو غير ذلك بحيث يشيع هذا العمل ويطرد ويرده الناس كالشرع الذي لا يخالف بأن يعبروا عنه كما يعبر عن القاعدة الشرعية الكلية من مات عن شيء فنصيبه لولده ففيه جهتان جهة كونه بدعة بلا إشكال، وجهة كونه قولا بالرأي غير الجاري على العلم هو الذي بينه النبي - صلى الله عليه وسلم - بقوله «حتى إذا لم يبق عالم اتخذ الناس رؤساء جهالا فسئلوا فأفتوا بغير علم فضلوا وأضلوا»
ترجمہ:" جہلاء کوعلماء پرفوقیت دینا،اہم مناصب نااہل لوگوں کووراثت کے طورپر سپرد کرنا(یہ بھی بدعات کی شکلیں ہیں) چنانچہ عالم کی جگہ جاہل کافتوی ٰ(اورقضاء ) کامنصب سنبھالنااوراس کی بات کو معاملات ،خون بہا،اورنکاح غیرہ معاملات میں فیصلے کی حیثیت دیناشرعاحرام ہے۔نیزوراثت کی بنیادپردینی مناصب کوتقسیم کرناکہ بیٹانااہلی کے باوجود محض وراثت کی بنیاد پرباپ کے منصب کامستحق ٹھہرے اوریہ معاملہ اس طرح جاری وساری ہو کہ لوگ اسے دینی حکم سمجھ کراس اس کی مخالفت کوگناہ سمجھے،اسے دینی ضابطہ کی حیثیت دی جائے کہ جوبھی کسی منصب پرفائز ہوتواس کے فوت ہونے کے بعدبیٹاہی اس کاوارث ہوگاتواس میں دو جہتیں ہیں:ایک لحاظ سے بدعت ہے اوربدعت ہونے میں کوئی اشکال کی بات بھی نہیں (کیونکہ تسلسل اورعام رواج کی وجہ سے نئی نسل اسے شرعی حکم اورشرعی ضابطہ سمجھیں گے)دوسری جہت جہالت کی ہے کہ علم وتحقیق سے عاری بات ہے جیساکہ آپ ﷺ نے بہت پہلے اس کی پیشن گوئی فرمائی تھی کہ :"جب عالم نہ رہے تولوگ اپنے ناواقف سربراہان کومقتدی بناکراس سے دینی رہنمائی حاصل کریں گے اوروہ بھی علم کے بغیر جواب دیں گےوہ خود بھی گم راہ ہوں گے اوردوسروں کوبھی گم راہ کریں گے"۔
حاصلِ تحریر
خلاصہ کلام یہ ہے کہ:
۱:وقف اداروں کا متولی بننا کوئی عام دنیوی معاملہ نہیں ہے، جس کو رائج طور وطریقے سےنمٹایاجائے بلکہ یہ ایک شرعی معاملہ ہے جس کے لئےشریعت نے ایک ضابطہ مقرر فرمایاہے، تولیت کا بوجھ سنبھالنےکےلئےکچھ شرائط مقرر فرمائے ہیں ،اگر کسی میں وہ شرائط موجود نہ ہوں تو نہ خود اس کا کسی وقف ادارےکا متولی بننا جائز ہے اور نہ ہی دیگر افراد کا ایسے نااہل شخص کو متولی بنانا درست ہے۔
۲:ایسےکل تین یا چار شرائط ہیں، جن کی تفصیل درج بالا سطور میں تحریر کی گئی ہے۔
۳:نا اہل شخص کو متولی بنانا خود تو ہے ہی غلط اور مذموم، اس کے نتیجےمیں بھی بہت سی غلطیاں اور منکرات ومفاسد پیدا ہوجاتے ہیں ، فی زمانہ اس کی وجہ سے امت کا اجتماعی طور پر بھی بڑا نقصان ہوتاہے۔
۴:ہمارے ہاں اس وقت جو رواج ہے کہ وراثت کی بنیاد پر متولی نامزد کیاجاتاہےچاہے اس میں اہلیت نہ بھی ہو،یہ بالکل غلط ،مذموم اور قابل اجتناب رواج ہے۔
۵:بعض اہل علم کے ہاں یہ بدعت ہے جس کی توجیہ سابقہ سطور میں درج کی گئی ہے۔
اخیر میں دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ امت مرحومہ کے حال پر خصوصی رحم وکرم فرمائیں اور ہمیں پوری استقامت اور تندہی کے ساتھ اپنے صراط مستقیم پر چلائے رکھے۔
واللہ اعلم بالصواب۔ ناکارہ عبید الرحمن، دار الافتاء والارشاد،مردان۔۱۴رمضان۴۵ھ
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H