Article Image

*خُدا فراموش*

مادہ پرستی میں انسان بہ ظاہر آزاد نظر آتا ہے؛ مگر حقیقت میں وہ غلام ہوتا ہے، نفس کا غلام، خواہشات ولذات کا غلام اور بے وفاء و بے ثبات اسباب عشرت کا غلام، یہ غلامی اسے خود فراموش بھی بنا دیتی ہے اور خدا فراموش بھی، وہ بھول جاتا ہے کہ خدا نے اسے ایک انسان کی صورت میں پیدا کیا ہے، اسے سلیم فطرت اور دردمند دل سے نوازا گیا ہے، اس کو حیاء و اخلاق کا جو ہر عطاء کیا گیا ہے، یہ خود فراموشی اسے خود غرض بنا دیتی ہے، خواہشات پرستی کا نشہ اسے اپنے آپ سے ایسا بے خبر کر دیتا ہے کہ وہ اپنی حرص و ہوس اور خود غرضی کی بنیاد پر سماج کی آنکھ کا نور بننے کے بجائے کانٹے کی طرح چھپنے لگتا ہے اور سماج میں قتل و غارت گری کے واقعات پیش آتے ہیں، لذت پرستی اسے ایسے گناہوں کے دلدل میں پھنسا دیتی ہے کہ خود اس کا وجود ان گناہوں کی سزا پا کر سراپا عبرت ہو جاتا ہے، جس کی مثال اس وقت ایڈس جیسی بیماری ہے.
خدا فراموشی اسے بداخلاقی، خیانت اور بد دیانتی پر دلیر بنا دیتی ہے، اُس میں جوابدہی کا احساس ختم ہو جاتا ہے اور جو شخص اس نوبت پر آجائے وہ سماج کے لئے ناسور بن جاتا ہے.

✍️ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H