سیاسی خود مختاری کے عناصر کے بارہ میں علامہ سید سلیمان ندوی -رحمہ اللہ- لکھتے ہیں:
ہندوستان کے مسلمان اپنی سیاسی خود مختاری کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نفس سیاسی خود مختاری کی دنیا میں قیمت کیا ہے؟ سیاسی خود مختاری اس وقت تک دل خوش کن خواب سے زیادہ نہیں جب تک اس کی اساس ایمانی، جسمانی، اقتصادی اور تعلیمی طاقتوں کے چار ستونوں پر قائم نہ ہو.
انسان صرف اپنی طاقت سے زندہ رہتا ہے، ہماری انفرادی زندگی بھی ہماری طاقت ہی کا نتیجہ ہے، اگر ہمارے جسم اعصاب اور دل و دماغ کے اندر قوت باقی نہ رہے تو ہم میں سے کسی فرد کی بھی انفرادی زندگی قائم نہیں رہ سکتی، اگر اس کے اندر ایمان کی طاقت، جسم کی طاقت، اقتصاد کی طاقت اور تعلیم کی طاقت نہ ہو.
قرآن پاک نے بنی اسرائیل کے آغاز سلطنت کے قصہ کے ضمن میں یہ بتا دیا ہے کہ حکمرانی کی استعداد و صلاحیت کے لیے دو صفتیں ضروری ہیں البسطۃ فی العلم والجسم یعنی علم و جسم کی طاقت، علم کی طاقت کے دائرے میں ایمان و تعلیم صحیح دونوں داخل ہیں اور جسم کی طاقت میں اس کے سپاہیانہ جوہروں کی طرف اشارہ ہے اور جہاد الہی کی راہ میں انفاق فی سبیل اللہ کی بار بار تاکید جماعت کی اقتصادی طاقت کو نمایاں کرتی ہے.
لوگ جسمانی و اقتصادی طاقت کی ضرورت کو تو تسلیم کریں گے مگر ایمانی اور تعلیمی طاقت کے بارے میں ہم سے دلیل کے طالب ہوں گے لیکن ایمان اور تعلیم کی حقیقت سمجھ لینے کے بعد یہ شک خود بخود زائل ہو جائے گا. انسان جس غرض سے کوئی کام کرتا ہے اس غرض کی صحت، اس صحت کا یقین اور اس یقین کے لیے جاں فروشی کا جذبہ ایمان ہے، مسلمانوں کے جہاد کی غرض و غایت حکومت، تجارت، قومیت، وطنیت نہیں بلکہ صرف اعلائے کلمۃ اللہ ہے یعنی اللہ تعالی کی حاکمیت علی الاطلاق کے تحت انسانوں کی دینی اخوت کا قیام اور اس مقصد کے حصول کے لیے صحیح طریقہ تدابیر کے علم کا نام تعلیم ہے.
اس مختصر تمہید کے بعد یہ عرض کرنا ہے کہ اگر مسلمان اپنی سیاسی خود مختاری کے طلب گار ہیں تو ان کو چاہیے کہ اپنے اندر پہلے ایمان کی طاقت، جسم کی طاقت، جماعتی اقتصاد کی طاقت اور تعلیم کی طاقت جمع کریں اور اس کے وسیلے سے سیاسی طاقت کا خواب دیکھیں.
دنیا میں آج بھی اور پہلے بھی جب کسی قوم نے سیاسی طاقت حاصل کی ہے، ان چار طاقتوں کے حصول کے بعد ہی کی ہے. دنیا کی پچھلی تاریخ تو افسانہ ہے، مگر آج کا پیش نظر قصہ تو ناقابل انکار حقیقت ہے، جس قسم کی سیاسی طاقت اور جس غرض کے لیے حکومت کا قیام آج جو قوم کر رہی ہے، خوب غور سے دیکھیے کہ اس کے لیے ایمانی طاقت، جسمانی طاقت، اقتصادی طاقت اور تعلیمی طاقت کس کس طرح اس کو سنبھال کے آگے بڑھا رہی ہے.
اقتصادی طاقت کے معنی شخصی دولت مندی نہیں ہے، بلکہ کسی نصب العین کے لیے قوم کی جماعتی حالت کی بہتری اور اس سے زیادہ اس کے لیے ایثار اور اس کے حصول کی راہ میں ہر انفرادی ضرورت کی قربانی. (معارف، جون ١٩٤٢ء)
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H