Article Image

◆☜ قسط نمبر (۱۲)

╭═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╮
🌹 عدل واِنصاف 📚
╰═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╯
🌸 قسط نمبر (۱۲) 🌸
✉️ عدل فاروقی نے ایک متکبر حکمراں کا غرور خاک میں ملادیا ✉️


💞 زیربحث آیت؟ اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُبِالْعَدْلِ 💞

☜📚 حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے زمانہ میں جبلہ ابن ایہم غسانی جوکہ علاقۂ غسان کے بادشاہوں میں سے تھا مسلمان ہوا موسم حج خانۂ کعبہ کا طواف کررہا تھا ایک دوسرا غریب آدمی بھی ساتھ طواف کر رہاتھا اتفاق سے اس غریب آدمی کے پیر تلے اس کی لنگی کا کنارے دَب گیا جبلہ آگے بڑھا تو اس کی لنگی کھل گئی اور وہ برہنہ ہوگیا چوکہ وہ اپنے کو بہت بڑا آدمی سمجھتا تھا اور دوسرا شخص نہایت غریب تھا لہٰذا اُس کو بہت غصہ آیا اور اس نے ایک طمانچہ اس زور سے مارا کہ اُس بےچارہ کا دانت ٹوٹ گیا وہ شخص اِس حالت میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین جبلہ نے میرا دانت توڑ دیاہے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جبلہ کو ہمارے پاس لاؤ جب وہ لایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یا تو تم مدعی کو رضا مند کرو ورنہ قصاص دینے پر راضی ہوجاؤ جبلہ کو خلافِ توقع فیصلہ سخت ناگوار گذرا اس نے کہا کہ ایک معمولی شخص کے عوض مجھ سے قصاص لیا جائے گا میں بادشاہ ہوں اور وہ عام رعیت کا ایک فرد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسلام نے تم کو اور اس کو یعنی بادشاہ اور رعیت کو اپنے احکام میں مساوی کردیا ہے کسی کو کسی پر فضیلت ہے تو اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کی وجہ سے ہے جبلہ نے کہا کہ میں تو یہ سمجھ کر مسلمان ہوا تھا کہ پہلے سے زیادہ باعزت ومحترم ہوکر رہوں گا آپ نے فرمایا کہ اسلامی قانون کا فیصلہ تو یہی ہے جس کی پابندی ہم پر اور تم پر لازمی ہے اس کے خلاف کچھ نہیں ہوسکتا عزت قائم رکھنی ہے تو اس کو راضی کرلو ورنہ مجمع عام میں بدلہ دینے کو تیار ہوجاؤ
[ اشاعتِ اسلام ۲۷۴]
◆☜ اس نے کہا کہ اچھا مجھے ایک دن کی مہلت مل سکتی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگریہ شخص مہلت دے تو ہوسکتی ہے صاحب حق سے پوچھا گیا وہ بےچارہ اس قدر نیک دل تھا کہ اس نے اجازت دے دی جبلہ موقع پاکر رات کو بھاگ گیا اور رومیوں سے جاملا اور بدستور سابق نصرانی ہوگیا
[ افادات حضرت حکیم الامت ماخوذ فاروق اعظم ازمفتی محمدفاروق صاحب میرٹھ ۱۶۱]
◆☜ اور زرکلی کی الاعلام میں بلاذری کے حوالہ سے یہ واقعہ اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ جب سیدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱۷ ہجری میں شام کے علاقہ میں تشریف لے گئے تو جبلہ ابن ایہم کا قبیلۂ مزنیہ کی ایک شخص سے جھگڑا ہوا اور اس نے اس کی آنکھ پر چپت مار دیا معاملہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دربار تک پہنچا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جبلہ کو حکم دیا کہ تمہیں قصاص دینا ہوگا تو جبلہ اکڑگیا اور کہنے لگا کہ میری اور اس کی آنکھ کیا برابر ہے میں ایسے علاقہ میں نہیں رہ سکتا جہاں مجھ پر کوئی اور حکومت کرے چنانچہ وہ مرتد ہوکر عیسائیوں سے جاملا اور وہیں اس کی موت آئی
[ الاعلام ۲/ ۱۱۱ دارلعلم بیروت بحوالہ فتوح البلدان للبلاذری ۱۴۱ ۱۴۲]
◆☜ اس واقعہ سے عدل فاروقی کا ایک شاندار نمونہ ظاہر ہوا جو قیامت تک آنے والی انسانیت کےلئے مشعل راہ ہے
◆☜ یہ تو چند نمونے ہیں ورنہ اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے خصوصاً خلفاء راشدین اور خلیفہ راشد سیدنا حضرت عمر بن عبدالعزیر رحمتہ اللہ تعالٰی کا دور حکومت عدل وانصاف کے اعتبار سے آج تک ضرب المثل ہے جن کے تفصیلی واقعات کا احاطہ موجب طوالت ہے
✧═════•❁❀❁•═════✧
📜☜ مزید ایسی پوسٹیں حاصل کرنے کیلئے ہمارا چینل جوائن کریں

╭•┅═❁♦♥♦❁═┅•╮​
⛲⚖ اچھی اورسچی باتیں ⚖⛲
╰•┅═❁♦♥♦❁═┅•╯
💕
🍃💕
💕✨💕
🍃💕🍃💕

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H