Article Image

◆☜ سلسلہ نمبر (۱۶)

╭═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╮
🌹 مکمل ومدلل مسائلِ نماز 📚
╰═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╯
◆☜ سلسلہ نمبر (۱۶)
◆☜ نماز کے صحیح ہونے کی شرطیں:
◆☜ چوتھی شرط:
◆☜(۴) نیت:—— یعنی دل میں نماز پڑھنے کا قصد کرنا، زبان سے بھی کہنا بہترہے، (نیت تو فقط ارادہ کا نام ہے جس کا محل دل ہے نہ کہ زبان، اگر فرض نماز پڑھنا ہو تو نیت میں اس فرض کی تعیین بھی ضروری ہے مثلاً اگر ظہر کی نماز کی نماز پڑھنا ہو تو دل میں یہ قصد کرنا کہ میں ظہر کی نماز پڑھتاہوں وغیرہ وغیرہ۔ اور اگر واجب نماز پڑھتاہو تو اس کی تخصیص بھی ضروری ہے کہ یہ کون ساواجب ہے وتر عیدین کی نماز ہے یا نذرکی نماز۔
◆☜ نیز مقتدی کو اپنے امام کی اقتداء کی نیت کرنا بھی شرط ہے۔ امام کو صرف اپنی نماز کی نیت کرنا شرط ہے، امامت کی نیت کرنا شرط نہیں، ہاں اگر کوئی عورت اس کے پیچھے نماز پڑھنا چاہے اور مردوں کے برابر کھڑی ہو اور نماز جنازہ اور جمعہ اور عیدین کی نہ کی ہو تو اس کی اقتداء صحیح ہونے کےلئے اس کی امامت کی نیت کرنا شرط ہے اور اگر مردوں کے برابر نہ کھڑی ہو یا نماز جنازے یا جمعے یا عیدین کی ہو تو پھر شرط نہیں ہے۔ جنازہ کی نماز میں یہ نیت کرنا چاہئے کہ میں یہ نماز اللہ تعالٰی کی خوشنودی اور اس میت کی دعاء کےلئے پڑھتا ہوں اور اگر مقتدی کو یہ نہ معلوم ہو کہ یہ میت مرد ہے یا عورت تو اس کو یہ نیت کرلینا کافی ہے کہ میرا امام جس کی نماز پڑھتا ہے اس کی میں بھی پڑھتاہوں۔
[ علم الفقہ: ج ۲/ ص ۳۰]
◆☜ مسئلہ:—— نیت کو تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہونا چاہئے اور اگر تکبر تحریمہ سے پہلے نیت کرلے تب بھی درست ہے بشرطیکہ نیت اور تحریمہ کے درمیان کوئی ایسی چیز فاصل نہ ہو جو نماز کے منافی ہو مثلاً کھانے پینے بات چیت وغیرہ کے اور اسی شرط سے اگر وقت آنے پہلے نیت کرلے تب بھی درست ہے بعد تحریمہ کے نیت کرنا صحیح نہیں اور اس نیت کا کچھ اعتبار نہ ہوگا۔
[ علم الفقہ: ج ۲/ ص ۳۱ وشرح وقایہ: ج ۱/ ص ۱۳۹ وبحرائق: ج ۱/ ص ۲۷۷ وکبیری: ص ۴۵۴، شرح نقایہ: ج ۱/ ص ۶۷ وکتاب الفقہ: ج ۱/ ص ۳۳۵]
◆☜ اگر نماز پڑھنے والے نے دل سے ارادہ کرلیا اور زبان سے کچھ نہ کہا تو نماز درست ہے، البتہ عوام الناس کےلئے دل کے ارادہ کے ساتھ زبان سے بھی تلفظ کرنا بہتر ہے۔ اور بعض حضرات لمبی چوڑی نیت کے الفاظ دہراتے رہتے ہیں، اس میں خرابی یہ ہے کہ امام قراءت شروع کردیتاہے اور یہ نیت کے الفاظ ہی دہراتے رہتے ہیں۔ (رفعت قاسمی غفرلہ)
◆☜ نیت کہتے ہیں خدا کےلئے نماز کا ارادہ کرنے کو، بایں طور کہ اس میں امور دنیوی میں سے کوئی امرشامل نہ ہو۔
[ کتاب الفقہ: ج ۱/ ص ۳۴۳ وبحر: ج ۱/ ص ۲۸۲]
◆☜ پانچویں شرط:
◆☜(۵) تکبیرتحریمہ:—— یعنی نماز شروع کرتے وقت اللہ اکبر کہنا یا اس کے ہم معنی اور کوئی لفظ کہنا چونکہ اس تکبیر کے بعد نماز شروع ہوجاتی ہے، کھانا پینا، چلنا پھرنا، بات چیت کرنا، اکثر وہ چیزیں جو خارج نماز میں جائز تھیں وہ حرام ہوجاتی ہیں، اس لئے اس کو تحریمہ کہتے ہیں۔
✧═════•❁❀❁•═════✧
📜☜ مزید ایسی پوسٹیں حاصل کرنے کیلئے ہمارا چینل جوائن کریں

╭•┅═❁♦♥♦❁═┅•╮​
⛲⚖ اچھی اورسچی باتیں ⚖⛲
╰•┅═❁♦♥♦❁═┅•╯
💕
🍃💕
💕✨💕
🍃💕🍃💕

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H