ان چراغوں کی تھوڑی سی لو کاٹ دو

سنوسنو!!

"ان چراغوں کی تھوڑی سی لو کاٹ دو"

(ناصر الدین مظاہری)

میں نے اپنے گاؤں میں دیکھا ہے جب کسی کو چھپر چڑھانا ہوتا ہے تو گاؤں کے بہت سے لوگوں کو بلایا جاتا ہے ،لوگ آتے ہیں اور ایک آواز ہوکر چھپر میں زور لگاتے ہیں اور چھپر چڑھ جاتا ہے ایسے ہی ایک موقع پر میرے والد صاحب مرحوم بتانے لگے کہ اگر دس لوگ چھپر چڑھانے والے ہوں اور ایک ان میں شریر پہنچ جائے تو اس ایک کی عیاری و مکاری کی وجہ سے چھپر نہیں چڑھ سکتا ہے۔

یہ مثال اس لئے لکھی کہ معاشرہ کی اصلاح ہو یا طاعات وریاضات ، تدریس و تقریر کا مرحلہ ہو یا کوئی بھی تعمیری قدم اگر آپ کے درمیان کچھ منفی دماغ رکھنے والے گھٹیا لوگ موجود ہوں تو آپ شاید ہی اپنی تحریک میں کامیاب ہوسکیں، مثال کے طور پر جب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈ کو اسلام کی طرف راغب کرنے والے کئی دعاۃ ومبلغین نے کوششیں کیں عین ممکن تھا کہ امبیڈکر اسلام میں داخل ہو جاتے لیکن ایک اسلام دشمن نے ایسی پٹی پڑھائی کہ امبیڈکر نے بودھ دھرم قبول کرلیا۔

کسی بھی تمدن یا معاشرہ کو بدنام کرنے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ تمام ہی لوگ خراب ہوں بلکہ آپ نے تالاب کی مچھلی والی کہاوت ضرور سنی ہوگی کہ ایک گندی اور سڑی مچھلی بقیہ تمام کو بدنام کر دیتی ہے ، خوشبودار مجلس میں کوئی ایک گندا انسان داخل ہو جائے تو گندگی خوشبو پر غالب آجاتی ہے۔

اس وقت آپ اپنے گردوپیش میں نظر دوڑائیں تو ایک چیز سب سے زیادہ محسوس ہوگی کہ ہر جگہ کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو بالکل الٹی سوچ اور الٹی کھوپڑی رکھتے ہیں انھیں آپ کی ہر اچھی بات میں کیڑے نکالنے کا ہیضہ سوار ہوتا ہے آپ کچھ بھی اچھی بات کرلیں، لکھ لیں ،تقریر کردیں منفی سوچ کے گالی مقام حاملین ضرور بالضرور آپ کی محنت کو سبو تاز کردیں گے۔

یہ وہ طبقہ ہے جو خود کچھ نہیں کرتاہے ،غلط کرنے والوں کی پیٹھ تھپتھپاتا ہے ،منفی نظریات رکھنے والوں سے دوستانہ اور یارانہ رکھتا ہے کیونکہ ظاہر ہے وہ ان ہی کا کام کررہا ہوتا ہے ،آپ مفلس قلاش بنے بے روزگار پھرتے رہیں ہرگز آپ کی کوئی خیریت معلوم نہیں کرے گا رشتہ دار اپنا ناتہ توڑ لیں گے یاران قدیم انجان بن جائیں گے، ہم پیالہ وہم نوالہ رخ موڑ لیں گے ،اہل ثروت آپ سے کنارہ کش ہو جائیں گے لیکن آپ کوئی کاروبار شروع کردیجیے تو پروانہ وار آپ کے احباب بڑھنے لگیں گے ،کچھ مشیران ،کچھ مفاد پرستان، کچھ کج کلاہان آپ کے پاس جمگھٹا لگادیں گے۔

دین اسلام اپنے عروج کے دور میں اس قدر بڑھا کہ مشرق ومغرب کی سرحدیں ختم ہوگئیں ،دائرہ اسلام سے وابستہ ہونے والوں کی لائنیں لگ گئیں ،پورے پورے ملک داخل اسلام ہوگئے اور جب فاتحین اسلام اور سربرآوردگان دین متین اپنی قبروں میں جاسوئے تو کتے کے پلوں نے بھی بھونکنا شروع کردیا،جنھیں اپنی گلی میں بھی کوئی منہ نہیں لگاتا وہ چینلوں پر دانشور بن بیٹھے ،جو خود کاسہ گدائی اور کشکول فقیری لئے دردر گھرگھر جاتے دیکھے گئے وہ ساہوکار بن گئے ۔جوکل تک آپ کی دیوڑھی کوکراس نہیں کرسکتے تھے وہ آپ ہی کا انٹرویو لینے لگے۔اور یہ سب ہوا اس لئے کہ ہماری ہوا اکھڑ گئی ،ہم اتباع ہوی کے تابعدار ہوگئے ،ہم نے اپنے چپو،اپنے بادبان،اپنے لنگر اور اپنے ساحل سے کنارہ کشی اختیار کرلی، ہم نے اپنے گھروں میں اپنے بچوں کی جی حضوری شروع کردی ،مصلحت کے نام پر، مفاد کے نام پر،خونی رشتہ کے نام پر اور پھر یہ ہوا کہ پہلے آزاد خیالی نے گھر کے اندر گھر بنایا،آپ کی اولاد نے بالوں کا فیشن اختیار کیا آپ چپ رہے،شرعی لباس اتار پھینکا آپ خاموش رہے ، عبادات اور طاعات سے غافل ہوا آپ نے نظریں میچ لیں اور پھر ایک وقت آیا کہ دھڑلے سے کبھی دین کے کسی جزء کو ،کبھی اسلام کے کسی رکن کو، کبھی سلوک کے کسی سبق کو ،کبھی شریعت کے کسی مسئلہ کو ،کبھی طریقت کے کسی لطیفہ کو،کبھی اکابر کے کسی عمل کو اور کبھی اپنے ہی بڑوں ، بزرگوں کے کسی معمول کو حرف تنقید بنانا شروع کیا اور آپ پھر خاموش رہے کہ وہ آپ کی اولاد ہے ،آپ کی اس سے ذاتی اغراض وابستہ ہیں اور اس طرح آپ نے اپنی ہی اولاد کے ذریعہ دین حنیف کی مضبوط جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں خواہی نخواہی شرکت کاگناہ کیا۔آپ اپنی نااہل اولاد کو پھر بھی اپنا جانشین بنائیں گے،سجادگی سپرد کریں گے،کچھ ایسے حالات بنائیں گے کہ آپ کے وارثین کا مستقبل محفوظ ہو جائے اور اس موقع پر بالکل نہیں سوچیں گے کہ ابوبکر بھی صاحب اولاد تھے لیکن خلیفہ عمر بن خطاب بنے،عمر بن خطاب بھی صاحب اولاد تھے لیکن خلیفہ عثمان بن عفان بنے،عثمان بن عفان کے بعد خلافت حضرت علی کے پاس پہنچی حالانکہ اخیر کے دونوں حضرات تو داماد تھے اور بیٹا نہ ہونے کی صورت میں آج کل داماد بہترین انتخاب اور اولین چوائج ہوتا ہے ۔

اس طرح صلاحیت مند مرتے گئے بے صلاحیت آتے گئے،شریف جاتے رہے اوباش آتے رہے،دین دار جاتے رہے دنیادار آتے رہے ،مشرع جاتے رہے مقطع آتے رہے اور اس طرح آپ کے گھر سے کبھی دین کاغلغلہ بلندیوا تھا آج دنیا داری کا غلغلہ بلند ہوگیا اور آپ چپ ہیں۔سوچیں اسٹیج پر آپ کس سے خطات کرتے ہیں اور گھر میں آپ کاکیا حال ہوتا ہے ؟پہلے لوگ آپ کی باتوں پر پروانہ وار نثار ہوتے تھے آج آپ کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہورہی ہے ،کیونکہ پہلے خیرکے علمبردار آپ تھے اور آج شر کے ہراول دستے کے رئیس المنافقین بنے ہوئے ہیں۔

ان چراغوں کی تھوڑی سی لو کاٹ دو
جن چراغوں سے اٹھنے لگا ہو دھواں

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H