Article Image

◆☜ قسط نمبر (۱۰)

╭═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╮
🌹 عدل واِنصاف 📚
╰═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╯
🌸 قسط نمبر (۱۰) 🌸
✉️ امیرالمؤمنین سیدنا حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا مثالی عدل ✉️


💞 زیربحث آیت؟ اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُبِالْعَدْلِ 💞

☜📚 خلیفۂ ثانی امیرالمؤمنین سیدنا حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں عدل وانصاف کے ایسے نمونے پیش فرمائے جن کی مثال انسانی تاریخ میں خال خال ہی ملتی ہے آپ نے اسلام کے عادلانہ نظام کو اُجاگر کرنے کا ایسا عظیم کا رنامہ انجام دیا کہ آپ کی ذات اور عدل وانصاف گویا کہ لازم ملزوم بن گئے کہ آج جہاں بھی حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نام آتاہے تو ان کے عدل کا تصور نظروں میں گھوم جاتاہے اور دُنیا میں جب کہیں بھی عدل کا ذکر ہوتا ہے تو خود بخود نگاہیں حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عظیم کردار کی طرف اٹھ جاتی ہیں
◆☜ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے تمام عمال اور اُمراء کو عدل وانصاف کی ہدایت کر رکھی تھی اور پھر آپ اس کی نگرانی بھی فرماتے تھے اگر کسی حاکم کے بارے میں یہ پتہ چلتا کہ اس نے عدل کے خلاف کوئی حرکت کی ہے تو آپ اس کی سخت باز پرس فرماتے خاص طور پر معاشرہ کے سبھی طبقات کے ساتھ یکساں معاملہ کرنے پر آپ زور دیتے تھے اور قانون کی نظر میں سب کو برابر تصور فرماتے تھے
◆☜ ایک مرتبہ ایک باغ کے معاملہ میں آپ کا حضرت اُبی ابن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کچھ تنازع ہوا تو آپ دونوں حضرات قاضئ مدینہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس تشریف لے گئے اور اُن سے فیصلہ کی درخواست کی حضرت زید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اپنی جگہ بٹھانا چاہا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اعتراض ہوا کہ اس وقت میں ایک فریق بن کر آیاہوں مجھے امتیازی جگہ بٹھانا انصاف کے خلاف ہے چنانچہ حضرت زید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دونوں کو سامنے بٹھایا اور گفتگو شروع ہوئی حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے باغ پر اپنی ملکیت کا دعویٰ پیش فرمایا جب کہ حضرت عمر فاروقِ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس سے انکار فرمایا حضرت زید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے شرعی اصول کے مطابق حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ان کے دعویٰ پر گواہ طلب کئے تو انہوں نے فرما دیا کہ میرے پاس گواہ نہیں ہیں تو حضرت زید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے قسم کھانے کا مطالبہ کیا ساتھ ہی حضرت اُبی ابن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مخاطب ہو کر یہ فرمایا کہ امیرالمؤمینن سے آپ قسم نہ لیں تو بہتر ہے یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ارشاد فرما ہوئے کہ کیا آپ دوسروں کے مقدمات میں بھی اسی طرح قسم نہ لینے کا مشورہ دیتے ہیں تو حضرت زید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے انکار فرمایا حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمانے لگے کہ جیسے اور لوگوں کے مقدمات آپ سنتے ہیں اس طرح ہمارا بھی مقدمہ سنیں اور کوئی امتیاز نہ برتیں اس کے بعد آپ نے قسم کھاکر فرمایا کہ اس باغ میں حضرت اُبی ابن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا کوئی حق نہیں ہے چنانچہ حسب ضابطہ آپ کے حق میں ہوا لیکن اس موقع پر آپ نے ایک تاریخی جملہ بھی ارشاد فرمایا جو سبھی حکام وقضاۃ کےلئے بہترین مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے آپ نے ارشاد فرمایا
📚 لَايُدْرِكُ زَيْدٌ الْقَضَاءَ حَتّٰی يَكُوْنَ عُمَرُ وَرَجُلٌ مِنْ عُرْضِ الْمُسْلِمِيْنَ عِنْدَهٗ سَوَاءً 📚
[ اخبار القضاۃ ۱/ ۱۱۰ بخوالہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ مفتی محمد فاروق صاحب میرٹھ ۱۵۷ ۱۵۹]
✧═════•❁❀❁•═════✧
📜☜ مزید ایسی پوسٹیں حاصل کرنے کیلئے ہمارا چینل جوائن کریں

╭•┅═❁♦♥♦❁═┅•╮​
⛲⚖ اچھی اورسچی باتیں ⚖⛲
╰•┅═❁♦♥♦❁═┅•╯
💕
🍃💕
💕✨💕
🍃💕🍃💕

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H