╭═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╮
🌹 عدل واِنصاف 📚
╰═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╯
🌸 قسط نمبر (۵) 🌸
✉️ دشمنی کی وجہ سے عدل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے ✉️
﷽
💞 زیربحث آیت؟ اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُبِالْعَدْلِ 💞
☜📚 عموماً یہ دیکھا جاتاہے کہ جب کسی سے دشمنی ہوتی ہے تو اس کے بارے میں عدل وانصاف پرقائم رہنا سخت مشکل ہوجاتاہے اس لئے اس کے متعلق قرآنِ پاک میں خصوصی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا گیا
📚 یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫ وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا ؕ اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی 📚
[ سورۃ المائدۃ ۸]
◆☜ اے ایمان والو! کھڑے ہوجایا کرو اللہ کے واسطے گواہی دینے کو انصاف کی اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو عدل کرو یہی بات تقویٰ سے زیادہ نزدیک ہے
◆☜ یعنی نہ تو کسی رشتہ دار وغیرہ کی ناحق حمایت کی جائے اور نہ ہی کسی دشمن کی ناحق مخالفت کی جائے ایسا نہ ہو کہ اگر دوستی ہے تو حق وناحق ہر اعتبار سے ساتھ دیا جارہاہے اور دشمنی اور بغض ہے تو حق وناحق ہر اعتبار سے مخالفت کی جارہی ہے جیسا کہ خود غرض اور بےضمیر لوگوں کا طریقہ ہوتاہے
◆☜ اسلام یہ چاہتاہے کہ پورا انسانی معاشرہ ہر اعتبار سے عدل وانصاف کا عادی بن جائے اور انصاف کے حصول میں نہ تو تعلقات حائل ہوں اور نہ ہی کسی کی دشمنی غلط فیصلہ کا محرک ہے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسی انداز میں فرمائی تھی
◆☜ چنانچہ روایات میں واردہے کہ نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو خیبر کے باغات کے پھلوں کا جائزہ لینے کےلئے بھیجا تو وہاں کے یہودی باشندوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کچھ رشوت دینے کا ارادہ کیا تاکہ وہ ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں یہ بھانپ کر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایاکہ
◆☜ اللہ کی قسم! میں جس ذات کے پاس سے آرہا ہوں وہ میرے نزدیک تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ محبوب ہیں یعنی نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم جب کہ تم لوگ میرے نزدیک بندر اور خنزیر جیسے ذلیل جانوروں سے بھی زیادہ ناپسندہو لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور تم لوگوں سے بغض مجھے اس بات پر ہرگز آمادہ نہیں کرسکتا کہ میں تمہارے ساتھ ذرہ برابر بھی ناانصاف کروں
◆☜ حضرت کا یہ صاف جواب سن کر خیبر کے یہودی بول اٹھے کہ ایسے ہی لوگوں سے زمین اور آسمان قائم ہیں
[ تفسیرابن کثیرمکمل ۳۶۸]
◆☜ ایک طرف صحابی رسول کا یہ کردارہے دوسری طرف آج ہمارے معاشرہ کا حال یہ ہے کہ فیصلے اور اقدامات کے اندر عدل وانصاف کے تقاضوں کے بجائے واضح طور پر دوستی اور دشمنی اثر انداز ہوتی ہے جب کسی سے دوستی ہوتی ہے تو اس درجہ کی کہ اس کی کھلی ہوئی غلط باتوں کو آدمی نظر انداز کر دیتا ہے اور دشمنی ہوتی ہے تو اس درجہ کی کہ اس کی اچھائیاں یکسر نظر سے کافور ہوتی ہیں ظاہر ہے کہ یہ صورتِ حال اسلامی تعلیمات کے قطعاً خلاف ہے آدمی کو بہر حال منصف مزاج ہونا چاہئے اگر انصاف نہیں کیا جائے گا تو دُنیا میں کسی بھی جگہ امن قائم نہیں رہ سکتا
✧═════•❁❀❁•═════✧
📜☜ مزید ایسی پوسٹیں حاصل کرنے کیلئے ہمارا چینل جوائن کریں
╭•┅═❁♦♥♦❁═┅•╮
⛲⚖ اچھی اورسچی باتیں ⚖⛲
╰•┅═❁♦♥♦❁═┅•╯
💕
🍃💕
💕✨💕
🍃💕🍃💕
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H