⭐ایک جملہ جو ایک نظریہ بن گیا
⭐ایک جملہ جو دین کے ایک اہم شعبے کو بند کرنے کا ذریعہ بن گیا
⭐آئیے قرآن وسنت اور حقائق کی روشنی میں درست نتیجے تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں جو نعروں میں تبدیل ہوجاتے اور یہی نعرے آگے چل کر تحریک، مشن اور کبھی کبھی پورا ایک نظریہ اور فلسفہ بن جاتے ہیں۔۔۔
اگر یہ جملہ حقیقت اور صحیح رخ پر مبنی ہوتا ہے تو اس کے بڑے ہی مثبت اور کارآمد نتائج برآمد ہوتے ہیں اور اگر اس جملے کی بنیاد مغالطے اور غلط فہمی پر ہو تو اس کے نتائج بھی غلط اور سنگین ہوتے ہیں، اس مضمون کی ہیڈنگ کا جملہ بھی انتہائی غلط اور غیر حقیقی بنیادوں پر استوار ہے، جو عصر حاضر میں ایک عقیدہ بن چکا ہے، جس نے پورے پورے ایک ایسے شعبۂ دین ہی کو ناپید کرکے رکھ دیا ہے، جو دین میں حد درجہ اہمیت کا حامل ہے۔۔۔
یہاں اس جملے میں مسلمانوں کو اپنوں کی فہرست میں رکھا جاتاہے اور ان کے علاوہ بقیہ انسانوں کو غیروں کی فہرست میں!
سب سے پہلا سوال یہ ہے کیا اپنوں اور غیروں کی یہ اصطلاح اور تقسیم قرآن وسنت کی نگاہ میں درست ہے؟؟
اس کا واضح جواب ہے کہ قرآن وسنت اس قسم کی کسی بھی اصطلاح سے خالی ہے اور یہ مسلمانوں کی خود ساختہ اصطلاح ہے، اسلام میں اپنوں اور غیروں جیسی کوئی اصطلاح نہیں ہے، بلکہ قرآن تو وحدۃ رب اور وحدۃ اب کی تعلیم دیتے ہوئے کہتا ہے: اے تمام انسانوں! اپنے اس رب کا پاس وخیال رکھو جس نے تمہیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے۔ (قرآن4/1) یعنی تمہارا ربا بھی ایک ہے اورابا بھی ایک ہے۔۔۔
اسی طرح قرآن جب پیغمبروں اور غیر ایمان والوں کو ایک دوسرے کا مخاطب بنا کر پیش کرتا ہے تو سارے پیغمبروں نے بھائی، یا اے میری قوم! کی اصطلاح استعمال کی ہے۔۔۔
مثلاً: حضرت نوح علیہ السّلام جن کی مدعو قوم بت پرستی میں آخری حد تک ملوث تھی اور آخری وقت تک ملوث رہی یہاں تک کہ عذاب الہٰی سے ہلاک ہوئی، تاہم جب قرآن ان دونوں کے رشتوں کی نوعیت کو بیان کرتا ہے تو کہتا ہے: اور اس وقت کو یاد کرو جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا: کیا تم (اللہ) سے نہیں ڈرتے؟ 26/106
اسی طرح قوم ثمود جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے: قوم ثمود نے پیغمبروں کو جھٹلا دیا، جب ان کے بھائی صالح (پیغمبر) نے ان سے کہا: کیا تم ڈرتے نہیں؟
اسی طرح نبی آخرالزماں ﷺ نے ہر اس موقعہ پر جب غیر ایمان والوں نے آپ کو تنگ کیا، آپ ﷺ نے دعا دیتے ہوئے فرمایا: اللہم اھد قومی فانہم لا یعلمون۔۔۔ اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے دیجئے، یہ مجھے جانتے نہیں۔۔۔
چنانچہ قرآن وسنت کی اصطلاح میں اگر دیکھا جائے تو غیر ایمان والے، ایمان والوں کی اپنی مدعو قوم اور بھائی ہیں۔
حضرت مولانا مناظر حسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب النبی الخاتم صفحہ نمبر 124 پر اس کی طرف بہت واضح اشارہ کیا ہے وہ لکھتے ہیں: یہ امت مجتبی ومبعوثہ ہر قوم میں ہے، ہر ملک میں ہے، بس جو جہاں ہے وہ وہیں مبعوث ہے، مصیبت کی گھڑی وہی تھی جب اپنی قوم کو ہم نے اپنی قومیت سے نکالا تھا، اسی کے ساتھ اس کا درد بھی دل سے نکلا، حالانکہ اگر حضرت نوح کے منکر، ان کی قوم تھی، حضرت ہود کے کافر، ان کی قوم تھی، قریش رسول اللہ ﷺ کی قوم کے لوگ تھے تو کس نے کہا کہ ہندوستان کے ہندو، ہندوستان کے مسلمانوں کی قوم نہیں؟
اس غیر قرآنی اصطلاح کی دیوار کو ڈھا دینے کے بعد اب سارے انسان اپنے ہو جاتے ہیں، البتہ ان اپنوں کے اندر ابھی ایک تقسیم باقی ہے اور وہ ہے ایمان اور عدم ایمان کی بنیاد پر تقسیم!
یہاں آکر سارے انسان دو خیموں میں تقسیم ہوتے ہیں، ایک ایمان والے دوسرے غیر ایمان والے!
اب سوال یہ ہے کہ پہلے ایمان والے بھائیوں کو دعوت دیں گے یا غیر ایمان والے بھائیوں کو؟؟
اس سوال کے جواب کی گہرائی میں جانے سے پہلے ہمیں ایمان والوں اور غیر ایمان والوں میں انجام دی جانے والی سرگرمی کو قرآن وسنت میں کس نام سے موسوم کیا گیا ہے؟ اسے اچھی طرح جاننا ضروری ہے، کیونکہ یہ دونوں الگ الگ میدان ہیں اور اپنے نظریات کے اعتبار سے دونوں میدانوں کے الگ الگ مخاطب ہیں اور دونوں مخاطبین کو پیش کی جانی والی الگ الگ چیزیں ہیں۔۔۔
جو کام ایمان والوں میں انجام دیا جائے اسے قرآن وسنت کی نگاہ میں اصلاح وتذکیر کہتے ہیں اگرچہ توسعا کبھی کبھی اسے دعوت بھی کہہ سکتے ہیں اور جو کام غیر ایمان والوں میں انجام دیا جائے دراصل اسے دعوت وتبلیغ کہتے ہیں۔*
اب ہم اصل مسئلے کا جائزہ لیتے ہیں: پہلے ایمان والوں میں اصلاح وتذکیر کا کام کرو پھر غیر ایمان والوں میں دعوت وتبلیغ کا؟؟
اگر سوال کرنے والے کی منشاء یہ ہے کہ پہلے ایمان والوں کی اصلاح کر لی جائے تب جاکر غیر ایمان والوں میں دعوت کا کام کیا جائے اور جب تک ایمان والوں کی اصلاح نہ ہوجائے غیر ایمان والوں میں دعوت کا کام نہ کیا جائے. اگر یہی منشاء ہے تو یہ منشاء بالکل غلط اور غیر اسلامی ہے اور ایسی سوچ وفکر کا دین اسلام سے کوئی واسطہ اور تعلق نہیں ہے، کیونکہ دعوت وتبلیغ اور اصلاح وتذکیر دونوں الگ الگ کام ہیں اور یہ دونوں کے دونوں کام اس امت سے مطلوب ہیں اور جب تک دونوں میدانوں میں تقاضے موجود ہیں (یعنی ایمان والوں میں بگاڑ اور غیر ایمان والوں کی ایمان سے محرومی) تب تک یہ دونوں کام اپنے تقاضوں کے اعتبار سے جاری رہنے چاہئیں اور ایک کو دوسرے پر موقوف نہیں کیا جانا چاہئے، کیونکہ اگر ایک طرف ایمان والے اس کے مستحق ہیں کہ ان کو بچپن سے لے کر موت تک بار بار سمجھایا جائے تو وہیں دوسری طرف غیر ایمان والے بھی اس کے شدید حقدار ہیں کہ پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک ایک بار ہی سہی اللہ کا پیغام ان کو سنایا جائے۔۔۔
بلکہ اگر دونوں میدانوں میں تقاضے کی شدت کے اعتبار سے کبھی ترجیح کی نوبت آجائے تو غیر ایمان والوں میں دعوت وتبلیغ کے کام کو ترجیح دی جائے گی۔۔۔
دلیل: مصر میں جب حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو بھیجا گیا تو انکے سامنے دو انسانی گروہ تھے، 20 فیصد انتہائی بگڑے ہوئے یہاں تک کہ بت پرستی تک میں ملوث ،ایمان والے بنی اسرائیل اور 80 فیصد غیر ایمان والے قبطی، اللہ تبارک وتعالٰی نے موسیٰ علیہ السّلام کو نبوت سے سرفراز فرمانے کے بعد جو پہلا حکم دیا وہ ایمان والوں کی اصلاح کا حکم نہیں تھا، بلکہ فرعون کو دعوت دینے کا حکم تھا، پھر ہم قرآن کریم میں دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اور فرعون اور اسکے اعلی درباریوں کے درمیان لمبا دعوتی مکالمہ ہوتا ہے، پھر اس دعوت کے نتیجے میں فرعون کے دربار میں کچھ لوگ ایمان بھی قبول کرتے ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ بعض حالات میں غیر ایمان والوں میں دعوت کے عمل کو ترجیح دی جائے گی..... اس دلیل کے تناظر میں اگر غور کیا جائے تو آج ہمارے ملک میں جو صورت حال ہے ہمیں غیر ایمان والوں میں دعوت کے عمل کو بند کرنے کے بجاۓ ترجیحی بنیادوں پر انجام دینا چاہیے۔۔۔
غیر ایمان والوں میں دعوت وتبلیغ کے کام کو ترجیح حاصل ہونے کی ایک واضح وجہ اور بھی ہے:
وہ یہ کہ ایک ایمان والا بندہ خواہ وہ کیسی ہی بداعمالیوں میں ملوث ہو بہرحال وہ اپنے ایمان کی وجہ سے مخلد فی النار نہیں ہوگا، بلکہ وہ کبھی نہ کبھی جنت میں جائے گا، جب کہ غیر ایمان والا بندہ زیادہ خطرے میں ہے کیونکہ وہ مر کر ہمیشہ ہمیش کی جہنم میں جائیگا، کبھی بھی وہ جنت میں نہیں جاسکتا، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ غیر ایمان والوں میں سے اپنے جانی دشمنوں کے لئے بھی ایمان کی دعاء فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کو ان کا ایمان نہ لانا انتہائی صدمہ میں ڈال دیتا تھا، ایسا لگتا تھا کہ آپ انکے ایمان نہ لانے کے صدمے میں اپنی جان گھونٹ ڈالیں گے۔ (قرآن: 18/6)۔۔۔۔۔۔
اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ غیر ایمان والوں میں دعوت وتبلیغ ایمان والوں کی اصلاح تک موقوف رہے گی، یا غیر ایمان والوں میں دعوت کی شرط یہ ہے کہ پہلے ایمان والوں کی سو فیصد اصلاح ہوجائے؟؟
تو اس شرط کا پورا ہونا قیامت کی صبح تک ممکن نہیں ہے، کیونکہ جیسے جیسے زمانہ قرب قیامت کا آتا جائیگا ایمان والوں میں بگاڑ بھی بڑھتا جائے گا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ غیر ایمان والوں میں دعوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے اب بند ہی رہے گا، جیسا کہ ایک طویل عرصے سے بند ہے، یہ اس فکر کے حاملین کی اللہ کے روبرو ایک بڑی جسارت ہے۔۔۔۔
اگر یہی اصول ہوتا کہ پہلے *اپنوں کو ٹھیک کرلو پھر غیروں کو":
تو رسول اللہ ﷺ زندگی بھر اپنے چچاؤں اور خاندان والوں ہی میں الجھے رہتے۔
نوح علیہ السّلام اپنے بیٹے ہی تک محدود رہ جاتے۔
لوط علیہ السّلام اپنی بیوی تک رہ جاتے۔
ابراہیم علیہ السّلام اپنے بت گر باپ آزر ہی کو سمجھاتے رہ جاتے۔
دعوت واصلاح کا زمینی جائزہ
موجودہ زمانے میں جب ہم دعوت واصلاح کے دونوں شعبوں کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایمان والوں میں بیشمار اصلاح وتذکیر کے کام انجام دئے جا رہے ہیں،
مثلاً:
⭐مدرسے ایمان والوں کے لئے،
⭐مسجدیں اور اس کے پروگرام ایمان والوں کے لئے،
⭐خانقاہیں ایمان والوں کے لئے،
⭐جماعت کا کام ایمان والوں کے لئے،
⭐جمعیتوں اور تنظیموں کا کام ایمان والوں کے لئے،
⭐جلسے جلوس ایمان والوں کے لئے،
⭐درس حدیث ایمان والوں کے لئے،
⭐درس تفسیر ایمان والوں کے لئے،
⭐اردو کی تمام تصنیف وتالیف ایمان والوں کے لئے۔
اور غیر ایمان والوں میں دعوت کا کام بالکل صفر کے برابر ہے
سوال یہ ہے کہ ہم نے غیر ایمان والے بھائیوں کو جہنم کے دہانے پر کیوں چھوڑ رکھا ہے؟؟؟
کیا وہ اللہ کے بندے نہیں ہیں؟؟
کیا وہ آدم علیہ السّلام کی اولاد نہیں ہیں؟؟
کیا وہ آخری نبی کی امت میں نہیں ہیں؟؟
کیا دین اسلام ان کے لئے نہیں ہے؟؟
کیا قرآن ان کے لئے نہیں ہے،؟؟
کیا آخرت ان کے لئے نہیں ہے؟؟
اگر یہ ساری چیزیں ان کے لئے ہیں تو ہم نے کیوں دعوت وتبلیغ کے دروازے کو ان پر بند کر رکھا ہے؟؟
جب کہ اللہ رب العالمین نے فرمایا ہے:
تم بہترین امت ہو تمہیں ساری انسانی برادری کے لیے نکالا گیا ہے۔ "3/110"
جب خالق کائینات نے ہمیں ساری انسانیت کے لیے نکالا ہے تو ہم نے کیوں اپنے آپ کو صرف ایمان والوں میں قید کر رکھا ہے؟؟
کیوں ہم نے 80 فیصد انسانیت سے ان کا نسخۂ نجات چھپا رکھا ہے؟؟؟
کیا یہ اللہ کے دین میں تحریف نہیں ہے؟؟
کس قدر ظلم بالائے ظلم ہے اور ستم بالائے ستم ہے کہ جب کوئی بندۂ خدا غیر ایمان والوں میں دعوت وتبلیغ کی بات کرتا ہے تو ہم ایمان والے جن کے لئے فرض ہے کہ ان کا ساتھ دیں، ان کے لئے دعاء کریں، الٹا ہم طرح طرح کے سوالوں میں اسے الجھا دیتے ہیں۔
یاد رکھیں! امت ہر شعبے میں کام کر رہی ہے،اور کرنا چاہئے، ایمان والوں کی اصلاح کے جتنے شعبے ہیں سب شعبوں کو مزید تقویت دینا چاہیے، لیکن جو شعبہ بند ہے اسے ضرور کھولنا چاہئے، کیونکہ اس شعبے کو بند کردینے کی وجہ سے ایمان والے انسانیت سے حق کو چھپانے کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں، جس کی سزا اللہ کے دستور میں نہایت سنگین ہے، قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے: بیشک وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی روشن دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں، باوجودیکہ ہم نے انہیں کتاب میں کھول کھول کر ساری انسانیت کیلئے بیان کر دیا ہے، تو ایسے لوگوں پر اللہ تعالی بھی لعنت بھیجتا ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی لعنت بھیجتے ہیں۔۔۔ (قرآن 2/159)
خلاصۂ کلام:
⭐دعوت واصلاح دین کے دو شعبے ہیں دونوں کو جاری رہنا چاہیۓ۔
⭐اپنوں اور غیروں کی اصطلاح غیر اسلامی ہے۔
⭐دعوت کو اصلاح پر موقوف ومشروط کرنا دین سے ثابت نہیں ہے۔
بقلم: محمد افضل ندوی
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H