جب عرب میں ہر طرف کفر وشرک اور جاہلی رسومات کی ظلمتیں گہری ہوگئیں تو اللّٰہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول فرما کر مکہ مکرمہ میں قریش کے خاندان بنو ہاشم میں حضرت عبد اللّٰہ کے گھر آخری نبی محمد ﷺ پیدا فرمادیا۔ آپ ﷺ کی ولادت باسعادت مکہ مکرمہ میں، عام الفیل میں، ماہِ ربیع الاوّل میں، پیر کے دن ہوئی۔ آپ ﷺ بطنِ مادر میں تھے کہ والد ماجد حضرت عبد اللّٰہ کا انتقال ہوگیا، چند روز والدہ ماجدہ حضرت آمنہ نے دودھ پلایا، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللّٰہ عنہا آپ ﷺ کو اپنے ساتھ پرورش کے لیے لے گئیں، وہاں چار سال کی عمر میں شقِّ صدر کا واقعہ پیش آیا، پھر جب عمر مبارک چھ سال ہوئی تو والدہ ماجدہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ آتے ہوئے مقامِ ابواء پر والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا اور وہ وہیں دفن ہوئیں۔ ان کے بعد آپ ﷺ دو سال دادا عبد المطلب کی پرورش میں رہے، ان کے انتقال کے بعد چچا جناب ابو طالب کی کفالت میں رہے۔ دس سال کی عمر میں دوسری بار شقِّ صدر ہوا۔ بارہ سال کی عمر میں چچا ابو طالب کے ساتھ ملکِ شام کا پہلا سفر کیا، لیکن راستے میں بَحِیرا راہب کے مشورے پر چچا ابو طالب نے آپ ﷺ کو مکہ واپس بھیج دیا۔ پھر پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کا مالِ تجارت لے کر ملکِ شام کا دوسرا سفر کیا اور خوب نفع کما کر واپس ہوئے۔ اس کے دو مہینے اور پچیس دن بعد حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا نے آپ ﷺ کو نکاح کا پیغام بھیجا، یوں یہ نکاح اس حال میں ہوا کہ حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کی عمر مبارک 40 سال جبکہ حضور اقدس ﷺ کی عمر 25 سال تھی۔ آپ ﷺ اپنی قوم میں اس شان سے جوان ہوئے کہ آپ اپنی قوم میں سب سے زیادہ با مروت، با اخلاق، حلیم، سچے، امانت دار، ہمدردی رکھنے والے تھے اور ہر طرح کے جھگڑوں اور بری باتوں سے پاک تھے۔ قوم نے آپ کو صادق وامین کا لقب دیا۔ نبوت ملنے سے پہلے آپ ﷺ کو خلوت محبوب ہوئی، جس کی وجہ سے غارِ حرا میں جاکر کئی کئی راتیں عبادت میں گزار دیتے، پھر نبوت ملنے سے کچھ عرصہ پہلے آپ ﷺ کو سچے خواب آنا شروع ہوئے، پھر چالیس سال کی عمر میں اسی غار میں جبرئیل علیہ السلام سورۃ العلق کی ابتدائی تین آیات کی پہلی وحی لے کر آئے۔ آپ ﷺ وحی کا بوجھ اور بدن پر لرزہ لیے گھر تشریف لائے، تو حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا نے تسلی دی اور آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، انھوں نے صورتحال سنی تو آپ ﷺ کو تسلی دی اور آپ کے نبیِ آخر الزّمان ہونے کی بشارت دی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے دینِ اسلام کی دعوت دینی شروع کی، جیسے جیسے لوگ اسلام قبول کرتے گئے مشرکینِ مکہ ظلم وستم کی انتہا کرتے گئے، جس کی وجہ سے متعدد صحابہ کرام نے سن 5 نبوی میں حبشہ کی طرف ہجرت کی، اس پر سیخ پا ہوتے ہوئے قریش نے آپ ﷺ اور آپ کے بنو ہاشم خاندان کا ’’شِعَبِ ابی طالب‘‘ میں بائیکاٹ کیا، یہ تین سال بڑی مشکلوں کے تھے، اس کے بعد سن 10 نبوی میں جناب ابو طالب اور حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کا وصال ہوا، یہ سال عام الحزن کہلایا، اسی سال طائف کا المناک واقعہ بھی پیش آیا، اس کے بعد سَن 11 نبوی میں معراج کا سفر ہوا، اسی میں پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔ اس کے بعد سن 12 نبوی میں بیعتِ عَقبہ اولٰی اور سن 13 نبوی میں بیعتِ عَقبہ ثانیہ ہوئی جس میں مدینہ کے کئی لوگوں نے حج کے موسم میں مسجد العَقبۃ یعنی مسجد البیعۃ کی جگہ اسلام قبول کرکے بیعت کی۔ مسلمانوں کی اس بڑھتی ہوئی تعداد سے خوف کھاکر مکہ کے دارُ النَّدوہ میں سردارانِ مکہ کا بڑا اجلاس ہوا، جس میں سارے قبائل کے مل کر آپ ﷺ کو قتل کرنے کی رائے پر اتفاق ہوا، اس پر حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر ہجرت کرنے کا حکمِ خداوندی سنایا، یوں حضور اقدس ﷺ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کو امانتیں حوالہ کرکے اپنے مبارک بستر پر لیٹنے کا حکم دے کر کفار کے محاصرے سے حفاظت کے ساتھ نکل گئے اور حضرت ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ کو ساتھ لے کر غارِ ثور میں تین دن قیام فرمایا، پھر وہاں سے روانہ ہوئے اور مدینے کے قریب قُبا کے مقام پر قیام کرکے مسجدِ قبا کی بنیاد رکھی۔ پھر جب آپ ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو عظیم الشان استقبال کیا گیا، اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللّٰہ عنہ کے گھر مہمان ہوئے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد ہجرت کے پہلے سال دو یتیموں سہل اور سہیل سے جگہ خرید کر وہاں مسجد نبوی تعمیر فرمائی۔ اس کے قریب ازواج مطہرات رضی اللّٰہ عنہن کے حجرے تعمیر کیے گئے۔ مہاجرین اور انصار میں مؤاخات یعنی بھائی چارہ قائم کیا گیا۔ اذان کی ابتد اہوئی۔ مدینہ منورہ کے یہودیوں سے معاہدہ ہوا۔ پھر ہجرت کے دوسرے سال قبلہ تبدیل ہوکر بیت اللہ مقرر ہوا۔ غزوات اور سرایا کا آغاز ہوا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی ہوئی۔ عیدین کی نمازیں واجب ہوئیں۔ غزوہ بدر ہوا۔ پھر ہجرت کے تیسرے سال غزوہ اُحد ہوا۔ شراب حرام ہوئی۔ پھر چوتھے سال مختلف غزوات اور سرایا ہوئے۔ عورتوں کے لیے حجاب کا حکم نازل ہو۔ پانچویں سال حضرت عائشہ طاہرہ طیبہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے متعلق مشہور المناک واقعہ اِفک پیش آُیا اور تیمم کی آیات اتریں۔ غزوہ خندق ہوا۔ چھٹے سال صلحِ حدیبیہ ہوئی۔ بادشاہانِ عالم کو خطوط روانہ کیے گئے۔ ساتویں سال غزوہ خیبر ہوا۔ آٹھویں سال جنگِ مؤتہ ہوئی۔ فتحِ مکہ ہوا۔ غزوہ حنین ہوا۔ نویں سال زکوٰۃ کی وصولی کے لیے عامل بھیجے گئے۔ غزوہ تبوک پیش آیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ کی امارت میں اسلام کا پہلا حج ادا ہوا۔ اطرافِ عالم سے وفود آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دسویں سال حجۃ الوداع ادا ہوا۔ گیارہویں سال آپ ﷺ کا وصال ہوا۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ از حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللّٰہ تعالٰی، کشف الباری شرح البخاری ودیگر کتبِ سیرت)
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّكَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّكَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ
✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H