Article Image

نماز کے قیام میں پاؤں کے درمیان فاصلہ رکھنے کی کی مقدار

✨❄ اِصلاحِ اَغلاط: عوام میں رائج غلطیوں کی اِصلاح ❄✨
سلسلہ نمبر: 1803

🌻 نماز کے قیام میں پاؤں کے درمیان فاصلہ رکھنے کی کی مقدار

📿 مرد اور عورت کے لیے نماز کے قیام میں پاؤں کے درمیان فاصلہ رکھنے کی مقدار:
نماز کے قیام میں پاؤں کے درمیان فاصلہ رکھنے کی کوئی خاص مقدار روایات سے ثابت نہیں، اس لیے اپنی جسمانی ساخت کے اعتبار سے پاؤں کے مابین مناسب فاصلہ رکھنا درست ہے، البتہ متعدد فقہاء کرام نے دونوں پاؤں کے مابین چار انگلی کی مقدار فاصلہ رکھنے کو بہتر اور مناسب قرار دیا ہے۔ (رد المحتار، فتاوٰی محمودیہ) یہ حکم مرد اور عورت دونوں کے لیے ہے۔ (امداد الاحکام) البتہ اگر عورت قیام میں پاؤں مِلا لے تو یہ بھی درست ہے۔ (عمدۃ الفقہ)

☀ رد المحتار على الدر المختار:
وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا مِقْدَارُ أَرْبَعِ أَصَابِعِ الْيَدِ؛ لِأَنَّهُ أَقْرَبُ إلَى الْخُشُوعِ، هَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي نَصْرٍ الدَّبُوسِيِّ أنَّهُ كَانَ يَفْعَلُهُ، كَذَا فِي «الْكُبْرَى». (فَرَائِض الصَّلَاة)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H