Article Image

اہل السنۃ والجماعۃ کی حقیقت اور اُن سے وابستگی کی اہمیت

✨❄ اِصلاحِ اَغلاط: عوام میں رائج غلطیوں کی اصلاح ❄✨ (سلسلہ نمبر 61)
✍️۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم

> 🌻 اہل السنۃ والجماعۃ کی حقیقت اور اُن سے وابستگی کی اہمیت

> 🌼 عقائد کی اَقسام:
ضروری عقائد کی دو قسمیں ہیں:
1⃣ عقائد کی ایک قسم تو وہ ہے جو مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہےکہ ان پر ایمان لائے  بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا، جیسے عقیدہ توحید، عقیدہ رسالت، عقیدہ آخرت اور عقیدہ ختم نبوت وغیرہ۔
2⃣ عقائد کی دوسری قسم وہ ہے جو حق جماعت یعنی اہل السنۃ والجماعۃ میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے خلاف عقیدہ رکھے گا تو وہ اہل السنۃ والجماعۃ سے خارج ہوکر گمراہ قرار پائے گا، جیسے ایصالِ ثواب کو حق سمجھنا، قبروں میں انبیاء علیہم السلام کی حیات کا قائل ہونا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اوّل ماننا، اور ان جیسے دیگر عقائد کو تسلیم کرنا۔ اس لیے دونوں قسم کے عقائد کو سمجھنا اور ان کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔

> 🌼 اہل السنۃ والجماعۃ کے ساتھ وابستگی کی اہمیت:
ماقبل میں ضروری عقائد کی دوسری قسم جو کہ اہل السنۃ والجماعۃ سے متعلق ہے اس سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے ایمان کے بعد اہل السنۃ والجماعۃ کے ساتھ وابستگی نہایت ہی ضروری ہے، اسی میں اس کے ایمان اور عقائد کا تحفظ ہے، جبکہ اہل السنۃ والجماعۃ سے انحراف گمراہی ہے۔ اس لیے ہر  مسلمان اہل السنۃ والجماعۃ کے ساتھ وابستگی رکھتے ہوئے اپنے عقائد کا تحفظ کرے اور ہر قسم کی کھلی اور پوشیدہ گمراہی سے اپنے آپ کو بچانے کی بھرپور کوشش کرے۔

> 🌼 اہل السنۃ والجماعۃ ہی حق جماعت ہے:
سنن الترمذی کی حدیث ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "بنی اسرائیل 72 فرقوں میں بٹے تھے، جبکہ میری  امت میں 73 فرقے بنیں گے، ان میں ایک کے سوا باقی سب جہنم میں جائیں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ ایک کامیاب اور برحق جماعت  کون سی ہوگی؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي" یعنی جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہوگی۔"
یہ حدیث احادیث کی متعدد کتب میں مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔
2641- عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بني إسرائيل حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ، حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ، وَإِنَّ بني إسرائيل تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً»، قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي».

> 🌻 مذکورہ بالا حدیث سے حاصل ہونے والی راہنما باتیں:
اس حدیث کی روشنی میں چند باتیں سمجھنے کی ہیں جن سے حقیقت پوری طرح واضح ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے شبہات کا اِزالہ بھی ہوسکے گا ان شاء اللہ۔ تفصیل کے لیے اس گروپ سے جڑے رہیں۔

🌳 حق جماعت کا نام اہل السنۃ والجماعۃ:
اس حدیث میں حق جماعت کی جو علامت  بیان فرمائی گئی ہے وہ ہے: "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي" یعنی وہ جماعت حق پر ہوگی جو حضور ﷺ کی سنت اور حضرات صحابہ کی پیروکار ہو۔ اسی سے اس حق جماعت کا نام بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کا نام "اہل السنۃ والجماعۃ" ہے، اس نام میں سنت سے مراد حضور ﷺ کی سنت ہے جبکہ جماعت سے مراد حضرات صحابہ کی جماعت ہے، گویا کہ یہ نام اسی حدیث سے مأخوذ ہے۔
▪️ یہ نام حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ثابت ہے، چنانچہ سورۃ آل عمران آیت نمبر 106 کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما  فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اہل السنۃ والجماعۃ کے چہرے روشن ہوں گے جبکہ بدعتی اور گمراہ لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے، ملاحظہ فرمائیں:
☀️ تفسير ابن أبي حاتم:
3950: عن ابن عباس رضي الله عنهما في قوله: «يوم تبيض وجوه وتسود وجوه» قال: تبيض وجوه أهل السنة والجماعة...
3951: وبه عن ابن عباس رضي الله عنهما: «وتسود وجوه» قال: تسود أهل البدع والضلالة.
☀️ تفسير ابن کثیر:
وقوله تعالى: «يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ» يعني: يوم القيامة، حين تبيض وجوه أهل السنة والجماعة، وتسودّ وجوه أهل البِدْعَة والفرقة، قاله ابن عباس رضي الله عنهما.

🌳 اہل السنۃ والجماعۃ کی علامت:
ماقبل کی حدیث میں حق جماعت کی جو علامت  بیان فرمائی گئی ہے وہ ہے:"مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي" یعنی وہ جماعت حق پر ہوگی جوحضور ﷺ کی سنت اور حضرات صحابہ کی پیروکار ہو۔ یہ ایک واضح معیار اور پیمانہ ہے اپنے عقائد و نظریات، اعمال، اخلاق، کردار اور زندگی کے تمام امور کو جانچنے اور پرکھنے کا کہ اگر یہ تمام باتیں سنت اور صحابہ کرام کے مطابق ہیں تو کامیابی ہے ورنہ تو ناکامی ہی ناکامی ہے۔ یقینًا اس معیار کو اپنانے سے بہت سی بدعات سمیت  فرقہ واریت کا خاتمہ بھی ہوسکتا ہے۔

🌳 صرف اہل السنۃ والجماعۃ نام رکھ لینا کافی نہیں:
اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ صرف اہل السنۃ والجماعۃ نام رکھ لینے سے کوئی اہل السنۃ نہیں بن جاتا ہے بلکہ اس کے لیے سنت اور صحابہ کرام کی مکمل پیروی ضروری ہے۔

🌳 کیا تمام فرقے صحیح ہیں؟
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اِس امت میں 73 فرقے بنیں گے جن میں سے صرف ایک جماعت حق پر ہوگی،اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ امت میں موجود تمام فرقے حق پر نہیں ہو سکتے، اس سے ان حضرات کی غلطی واضح ہو جاتی ہے جو کہ یہ سمجھتے ہیں کہ سارے فرقے اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں، اس لیے کسی بھی فرقے کو غلط نہیں کہنا چاہیے۔

🌳 کیا سارے فرقے غلط ہیں؟
اس حدیث سے ان حضرات کی غلطی بھی معلوم ہوگئی جو یہ سمجھتے ہیں کہ تمام فرقے غلط ہیں، اس لیے کسی بھی فرقے کو نہیں ماننا چاہیے بلکہ ہم صرف مسلمان ہیں اور ہمارا کسی بھی فرقے اور جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان حضرات کی یہ بات اس لیے درست نہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے اس حدیث مبارک میں یہ واضح فرما دیا کہ ان 73 فرقوں میں سے ایک جماعت ضرور حق پر ہوگی، اس لیے ہر مسلمان کو اسی حق جماعت کے ساتھ وابستگی نہایت ہی ضروری ہے۔

🌳 حق جماعت اہل السنۃ والجماعۃ کے ساتھ وابستگی کی ضرورت:
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ  ہر مسلمان کے لیے ایمان کے بعد گمراہی سے بچتے ہوئے حق جماعت اہل السنۃ والجماعۃ کے ساتھ وابستگی نہایت ہی ضروری ہے، یہی اس کی کامیابی اور نجات ہے، جبکہ اس سے غفلت کے نتیجے میں یہ قوی اندیشہ ہے کہ وہ گمراہ فرقوں میں شامل ہوکر اس حدیث کی وعید کا مصداق بن جائے۔

🌳 اہل السنۃ والجماعۃ سے انحراف جرم ہے:
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اِس حق جماعت اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد سے ہٹ کر باطل اور گمراہ کن عقیدے ایجاد کرنا نہایت ہی سنگین جرم ہے، بلکہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ حق عقائد اور حق جماعت ہی کے ساتھ وابستہ رہے۔

🌳 فرقہ واریت کی شدید مذمّت:
اس حدیث سے فرقہ واریت کی نہایت ہی مذمّت ثابت ہوتی ہے کہ مسلمان حق جماعت اہل السنۃ والجماعۃ کا دامن تھامے رکھیں اور نئے فرقے ایجاد کرنے سے بچیں۔

🌳 اہل السنۃ والجماعۃ کی طرف دعوت فرقہ واریت نہیں:
اس حدیث سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اہل السنۃ والجماعۃ جب حق جماعت ہے تو اس کی طرف دعوت فرقہ واریت ہرگز نہیں، بلکہ یہ تو اس حدیث کا منشا ہے کہ اسی کی طرف دعوت حضور ﷺ کے اس ارشاد سے معلوم ہوتی ہے اور یہ تو ہدایت کا تقاضا ہے کہ حق جماعت اہل السنۃ والجماعۃ کی وابستگی کی ترغیب اور تاکید کی جائے۔

🌳 اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد و نظریات واضح کرنے کی ضرورت:
اس حدیث سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جب اہل السنۃ والجماعۃ حق جماعت ہے اور اس کے ساتھ وابستگی ضروری ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد و نظریات، اعمال وغیرہ واضح طور پر بیان کئے جائیں تاکہ لوگ ان کی پیروی کرتے ہوئے اہل السنۃ والجماعۃ کے ساتھ وابستہ ہو جائیں۔

🌳 مسلمانوں کے اتحاد کی ایک صحیح صورت:
امت مسلمہ کے باہمی اتحاد اور اتفاق کی سب سے صحیح اور بہترین صورت وہی ہے جو اس حدیث میں بیان ہوئی کہ مسلمان "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي" کے پیروکار بن جائیں، یہی ایک صورت ہے باہمی اتحاد کی اور فرقہ واریت کے خاتمے کی اور یہی صورت اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے، اس کے علاوہ غلط عقائد و نظریات یا بدعات کی بنیاد پر اتحاد کی کوشش عند اللہ مذموم ہوگی، جیسا کہ اس حدیث سمیت متعدد دلائل سے واضح ہے۔

> 🌼 اہل السنۃ والجماعۃ کے سوا دیگر 72 فرقوں کا حکم:
یہ تمام 72 فرقے اسلام میں داخل ہوں گے البتہ اپنے گمراہ کن  عقائد کی وجہ سے گمراہ اور بدعتی شمار ہوں گے، جس کی سزا اُنہیں ملے گی اور پھر بالآخر ایمان کی وجہ سے جنت میں جائیں گے۔ البتہ جو  شخص انفرادی طور پر کفر یا شرک میں مبتلا ہو جائے تب تو کفر اور شرک  کا حکم لاگو ہوگا۔

> 💐 اہل السنۃ والجماعۃ سے خارج کون؟
ماقبل کی تفصیل سے واضح ہوا کہ اہل السنۃ والجماعۃ سے وابستگی ہدایت ہے جبکہ ان سے انحراف واضح گمراہی ہے، یہ بات تو بالکل ظاہر ہے کہ اہل السنۃ والجماعۃ سے وابستگی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تمام اہم نظریات و عقائد کو تسلیم کرلیا جائے، اگر کسی کا ایک عقیدہ بھی اہل السنۃ والجماعۃ کے خلاف ہو تو اس کو اہل السنۃ سے خارج ہی قرار دیا جائے گا جیسے کہ کسی ایک کفریہ عقیدے کی وجہ سے مسلمان اسلام سے نکل جاتا ہے۔

استاد محترم شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم نے اہل السنۃ والجماعۃ سے خارج ہونے کے لیے یہ اصول ذکر فرمایا ہے کہ: "جو شخص عقائد یا اجماعی مسائل میں جمہور کی مخالفت کرے یا سلف صالحین کو برا کہے تو ایسا شخص اہل السنۃ والجماعۃ سے خارج اور اہل ِبدعت میں داخل ہے۔" (اُصول الاِفتاء و آدابہ)

یہ بنیادی اصول ہے جس سے بہت سے امور حل ہو سکتے ہیں۔ اس تفصیل سے ہر مسلمان کے لیے اہل السنۃ والجماعۃ کے ساتھ مضبوط وابستگی کی اہمیت بخوبی واضح ہو جاتی ہے۔

> 💐 اہل السنۃ والجماعۃ دیوبند کی حقیقت:
دیوبند کسی فرقے کا نام نہیں، بلکہ یہ برّصغیر میں اہل السنۃ والجماعۃ کے مکمل پیروکار اور صحیح ترجمان ہیں، گویا کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا جو قافلہ حق حضرات صحابہ سے چلا تو دیوبند اسی قافلہ حق کا تسلسل ہے۔

> 💐 اہل السنۃ والجماعۃ کا مختصر تعارف 💐
> 🌼 عقائد میں اہل السنۃ والجماعۃ کے مشہور ائمہ دو ہیں:
1⃣ امام ابو منصور ماتریدی رحمہ اللہ۔
2⃣ امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ۔

یہ دونوں ائمہ کرام اہل السنۃ والجماعۃ کے متفقہ امام ہیں، اور ہم بنیادی طور پر عقائد میں ان دونوں حضرات ہی کے پیروکار ہیں۔ دونوں ائمہ کا عقائد میں کوئی قابلِ ذکر اختلاف نہیں، ان دونوں حضرات نے قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح عقائد و نظریات واضح طور پر بیان فرمائے، اور گمراہ فرقوں سے امت کو بچانے اور صحیح عقائد کی اشاعت میں گراں قدر خدمات سر انجام دیئے، اس لیے امت میں انہیں عقائد کے معاملے میں امامت کا درجہ حاصل ہوا۔ انہی حضرات کی پیروی میں ہم ماتریدی اور اشعری کہلائے جاتے ہیں۔

> 🌼 فقہ میں اہل السنۃ والجماعۃ کے چار ائمہ ہیں جن کے مذاہب دنیا میں رائج ہوئے:
1⃣ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ۔
2⃣ امام مالک بن انس رحمہ اللہ۔
3⃣ امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ۔
4⃣ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ۔
یہ چاروں امام برحق ہیں، البتہ ان میں سے کسی ایک امام ہی کی تقلید ضروری ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح رہے کہ مذاہبِ اربعہ کا یہ اختلاف فرقہ واریت ہرگز نہیں کیوں کہ فرقے عقائد کے اختلاف سے بنتے ہیں جو کہ نہایت ہی مذموم ہے، جبکہ ان مذاہبِ اربعہ کے مابین عقائد کا کوئی اختلاف نہیں، یہ چاروں مذہب عقائد میں اہل السنۃ والجماعۃ ہی سے منسلک ہیں، بلکہ ان کے مابین جو اختلاف ہے وہ فروعی اجتہادی اختلاف ہے جو کہ عہدِ نبوی اور عہدِ صحابہ سے چلا آ رہا ہے، یہ مذموم نہیں بلکہ یہ حق ہے اور امت کے لیے بڑی رحمت بھی!

> 🌼 تصوف میں اہل السنۃ والجماعۃ کے متعدّد سلسلے ہیں البتہ ان میں سے چار سلسلے مقبول اور مشہور ہیں:
1⃣ چشتیہ، جو کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے۔
2⃣ قادریہ، جو کہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے۔
3⃣ نقشبندیہ، جو کہ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبندی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے۔
4⃣ سہروردیہ، جو کہ حضرت شہاب الدین سہروردی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے۔
یہ چاروں سلسلے برحق ہیں، بعض مشایخ ان میں سے کسی ایک میں بیعت کرتے ہیں جبکہ بعض مشایخ ان چاروں میں بیک وقت بیعت کرتے ہیں، دونوں طریقے رائج اور درست ہیں۔ البتہ یہ واضح رہے کہ پیری مریدی کے نام پر رائج ہونے والی خرافات اور غیر شرعی اعمال کا اہل السنۃ والجماعۃ اور اس کے صحیح تصوف سے کوئی تعلق نہیں۔

> 🌻 حق جماعت اہل السنۃ والجماعۃ کے اوصاف:
قرآن و سنت، حضرات صحابہ کرام اور شرعی دلائل کی روشنی میں اہل السنۃ والجماعۃ کے جو اوصاف سامنے آتے ہیں ان کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے:
اہل السنۃ والجماعۃ وہ جماعت ہے جو قرآن کریم، سنت اور صحابہ کے طریقے پر بڑی مضبوطی کےساتھ قائم ہو، انھی کی پیروی اپنے لئے باعثِ ہدایت سمجھتی ہو۔ عقائد، فقہ اور اخلاقیات سمیت زندگی کے ہر قول و فعل اور کردار میں ان کی اتباع کو اصل اور اہم قرار دیتی ہو، ان سے انحراف کرتے ہوئے دین میں بدعات ایجاد کرنے سے مکمل اجتناب کرتی ہو۔ جو سنت سے محبت اور بدعات سے شدید نفرت کرتی ہو۔ جو قرآن و سنت اور اجماع و قیاس کو شرعی دلائل قرار دیتی ہو اور بالترتیب ہر ایک دلیل کو اس کے مقام و مرتبہ پر رکھتی ہو۔ جو اجتہادی امور میں مجتہد کے لئے اجتہاد جب کہ غیر مجتہد کے لئے ان کی تقلید کو ضروری قرار دیتی ہو۔ جو تمام اسلامی عقائد کو ان کی صحیح اور اصلی شکل میں قبول کرتی ہے اور کسی بھی عقیدے کے بارے میں غلو یا اِفراط و تفریط کا شکار نہیں ہوتی۔ جو توحیدِ الہٰی کا اہم عقیدہ رکھتے ہوئے اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتی، جو غیرُ اللہ سے حاجتیں اور مرادیں نہیں مانگتی، غیرُ اللہ کو دعا اور مدد کے لئے نہیں پکارتی، غیرُ اللہ کی نذر و نیاز نہیں مانتی اور غیرُ اللہ کے نام پر جانور ذبح نہیں کرتی۔ جو پیغمبروں کو معصوم سمجھتی ہے، ان کے علاوہ امت میں کسی کو معصوم نہیں سمجھتی۔ جو تمام صحابہ کرام اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعظیم و احترام کرتی ہے، ان کا تذکرہ خیر کے سوا کچھ نہیں کرتی اور ان پر تنقید کو روا نہیں رکھتی، انہیں اللہ کے محبوب بندے قرار دیتی ہے جن کے لئے اللہ نے مغفرت اور جنت کی بشارت دی ہے، جو انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سب سے افضل قرار دیتی ہے، پھر حضرات صحابہ میں سے بھی سب سے افضل صحابی حضرت ابوبکر، پھر حضرت عمر، پھر حضرت عثمان، پھر حضرت علی کو قرار دیتی ہے۔ جو کہ اولیاء اللہ، بزرگانِ دین، علمائے امت اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ کا احترام کرتی ہے، توحید کی آڑ میں نہ تو بزرگوں کے کمالات و کرامات کا انکار کرتی ہے، اور نہ ہی بزرگوں کے کمالات و کرامات کی بنا پر ان کو خدائی کا درجہ دیتی ہے بلکہ ان کو خدا کے محبوب بندے گمان کرتے ہوئے ان کو انہی کے مقام و مرتبہ پر رکھتی ہے۔ جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتی ہے اور اس میں غیر شرعی طریقوں سے اجتناب کرتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ جو عقائد، فقہ اور اخلاق میں قرآن و سنت، صحابہ اور ائمہ کی پیروکار ہے۔

> (یہ اوصاف بنیادی طور پر حضرت مفتی طاہر مسعود صاحب مدظلہم کی کتاب "عقائدِ اہل السنۃ والجماعۃ" سے مأخوذ ہیں البتہ ان میں کافی ترمیم و اضافہ کیا گیا ہے۔)


Follow the (راہِ حق) RAAH E HAQ channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VaRR3zV3QxRuQSHYfL3Z

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H