Article Image

*بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ* کا نعرہ، کتنی حقیقت کتنا فسانہ!

بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ ایک گمراہ کن پروپیگنڈہ:

از :۔ محمد توحید خان ندوی، لکھنؤ

پوری دنیا مغربی افکار و نظریات کی لپیٹ میں ہے مغرب کی لادینی تہذیب و معاشرت نے انسانیت کو اس کے تمام انسانی تشخصات سے محروم اور بے بہرہ کردیا ہے اب رفتہ رفتہ اس کے لادینی طوفان کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سےپردہ کشائی کا کام نت نئے پنپتے خطرناک رجحانات، بے شمار اندوہناک واقعات، تباہ کن سماجی اثرات کرتے جارہے ہیں اور علامہ اقبال علیہ الرحمہ کی یہ پیشگوئی صداقت کی تصویر بن کر سامنے آرہی ہے جو انھوں نے مغربی تہذیب کے دور شباب ہی میں کردی تھی:

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائدار ہوگا

مغرب نے عورتوں کو ان کے حقوق دینے کے نام پر جتنے بھی گمراہ کن نعرے بلند کیے ہیں اور جن اصطلاحات کا تلبیسی جال پھیلایا ہے ان میں سب سے نمایاں نعرہ "Human Rights" اور "Women Libration Movements" اور "Right to equality between man and women" کا رہا ہے مگر حقیقت پسند اور باخبر دنیا جانتی ہے کہ ان نعروں کی زمینی حقیقت کیا ہے اور ان کے شکار ہونے والے ناواقف یا بھٹکے ہوئے راہیوں کو کیسے کیسے اور کن کن تباہ کن حالات سے دوچار ہونا پڑا ہے چونکہ یہ نعرے خالق انساں کے اصولِ فطرت کے ساتھ متصادم واقع ہوئے ہیں اس لئے ان کی حقیقت سے رفتہ رفتہ پردہ اٹھتا جارہا ہے اور اس کا سلسلہ برابر جاری ہے.....
انھیں نعروں کی پیدوار وہ نعرہ بھی ہے جو اس مضمون کا سر عنوان ہے یہ نعرہ ملک ہندوستان کے اربابِ اقتدار اور مغرب کے پرستار لوگوں کی طرف سے لگایا گیا ہے جو بظاہر بڑا ہی خوشنما اور خواتین کے تئیں ہمدردانہ معلوم ہوتا ہے مگر کسی بھی نعرہ کی واقعیت، نافعیت اور زمینی حقیقت ان نتائج و اثرات سے معلوم کی جاتی ہے جو اس کے نتیجے میں رونما ہوتے ہیں.....
اس نعرہ کا پہلا محاورہ بیٹی بچاؤ کا ہے اس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ بیٹی کی عزت، آبرو، شخصیت، کردار، حقوق اور مستقبل کو خطرات لاحق ہیں اس لئے اسے ان اسباب، حالات اور اثرات سے بچانے کی فکر کی جائے جو اس کے وجود، حقوق اور سماجی ترقی کے لئے خطرہ بن سکتے ہوں اور پھر اس کی مہم چلائی جائے اور اس کو اس قدر عام کیا جائے کہ ہر زبان کی گونج اور ہر فرد کا نعرہ یہی بن جائے......
اس نعرہ کا دوسرا محاورہ بیٹی پڑھاؤ کا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بیٹی کی عزت آبرو شخصیت اور حقوق کا تحفظ اسی وقت ہوسکے گا جب کہ وہ تعلیم یافتہ ہو یعنی عصری علوم کی حامل، عصری اداروں کی ڈگریوں کی مالک اور مردوں کے شانہ بشانہ برسرِ روزگار ہو تاکہ اسے مردوں کے تابع نہ رہنا پڑے اور وہ خود سر، خود کفیل، خود مختار اور غیر منحصر (Independent Women) ہوکر معاشرے میں رہے بالفاظ دیگر ہر طرح سے مردوں کے برابر ہوکر ان کی تابعیت (Obedience) سے آزاد ہو جائے چنانچہ جس طرح مرد انجینئر، ڈاکٹر، پائلٹ، ڈرائیور، لیڈر بنے عورت بھی بنے اور جس طرح مرد انسانی زندگی کے مختلف میدانوں میں خدمات انجام دے عورت بھی دے اس لئے کھیل، کود ،ورزش، دوکانداری، کرایہ داری، خریداری، سے لیکر سیاست، سیاحت، زراعت، تجارت، معیشت، میں حصہ داری، اور روزگاری، باربرداری، مزدوری، خانہ داری سب میں مردوں کے دوش بدوش ہوجائے بالفاظ دیگر خالق انساں کی دی ہوئی اپنی تمام نسوانی خصوصیات، حقائق، ذمہ داریوں سے دستبردار ہوکر مردوں کی صف میں شامل ہوئے تب جاکر اسے عزت، آبرو، شخصیت کی حفاظت اور کردار و مستقبل کی ضمانت ملے گی
عملی طور پر اس نعرہ کا یہی مفہوم حقوقِ نسواں کے نام نہاد علمبرداروں کے طرف سے باور کرایا جارہا ہے مگر کیا واقعتاً، زمینی حقائق کی روشنی میں یہ نعرہ اپنے مقاصد اور مفہوم میں کامیاب ہوسکا اور کیا واقعی بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کے نعرہ سے بنت حوا کی عزت آبرو شخصیت اور حقوق و مفادات کا تحفظ عمل میں آسکا درج ذیل رپورٹس میں دیکھیے کیا سامنے آتا ہے:

1: اقوام متحدہ کی جانب سے 57 ممالک کی کرائ گئی اسٹڈی کے مطابق زنا بالجبر اور گینگ ریپ کے صرف 11 فیصد واقعات رپورٹ ہوتے ہیں باقی 91 فیصد واقعات مختلف وجوہات کی وجہ سے جن میں خواتین کو ڈرانا دھمکانا شامل ہے رپورٹ میں نہیں آپا تے ہیں یعنی ریپ کی شرح ریکارڈ سے کافی زیادہ ہے.
2: 2006 میں نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (National Crimes Records Bureau) نے بتایا کہ ہمارے ملک ہندوستان میں ریپ کے تقریباً 71 فیصد معاملات کی رپورٹ درج نہیں کی جاتی ہے.
3: دی اکنامک ٹائمز کے ہیلتھ ورلڈ کے مطابق روزانہ ریپ اور زنا بالجبر کے 90 واقعات پیش آتے ہیں یہ تجزیہ 2022ء کا ہے اب تو یہ واقعات کئی گنا بڑھ گئے ہیں.
4: بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ 2015ء میں لگایا گیا تھا جس کے بعد ریپ کے واقعات روز افزوں بڑھتے ہی جارہے ہیں اور یہ واقعات قریبی دوستوں اور تعلیم یافتہ پارٹنرز کی طرف سے زیادہ تر انجام دیے جاتے ہیں.
5: انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق روزانہ گھر کے باہر سفر کرنے والی خواتین میں سے 80 فیصد لڑکیاں جنسی ہراسانی(Sexual Harrasment) کا شکار ہوتی ہیں.
6: ہندوستان میں خواتین کی عزت و آبرو محفوظ نہیں ہے اس کا چرچا بیرون ممالک میں بھی خوب سے خوب ہوتا ہے چنانچہ 2014ء میں جرمن، 2018ء میں روسی اور 2022ء برطانوی خواتین سیاحوں کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعات پیش آ چکے ہیں اسی سنگینی کو دیکھتے ہوئے 2019ء میں امریکہ نے اپنے شہریوں کو انڈیا کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا.
7: رپورٹس کے مطابق خواتین کے ساتھ ریپ کے واقعات زیادہ تر کالجز، یونیورسٹیز، کوچنگ سینٹرز اور مکسڈ جاب کمپنیز میں ہوتے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ جنکا ریپ ہوتا ہے وہ بھی تعلیم یافتہ اور جو ریپ کرتے ہیں وہ نہایت اعلی تعلیم یافتہ پارٹنرز اور دوست ہوتے ہیں.
8: بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اسکیم پر اب تک 683 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں جس میں سے 58 فیصد صرف میڈیا اور اشتہارات پر خرچ ہوئے اور ایک دیگر رپورٹ کے مطابق یہ شرح 80 فیصد ہے جس سے اس نعرہ کی زمینی حقیقت کو سمجھا جاسکتا ہے.
9: 2012ء میں چلتی بس میں نربھیا گینگ ریپ، 2024ء میں کولکاتہ کے آرجی میڈیکل کالج کی ٹرینی جونئیر ڈاکٹر کا سات ڈاکٹروں کے ذریعے گینگ ریپ، اتراکھنڈ کی مسلم نرس کا گینگ ریپ کے بعد قتل، مرادآباد کے پرائیویٹ اسپتال میں نرس کے ساتھ ڈاکٹر نے زنا بالجبر کیا یہ واقعات تو میڈیا کی تشہیری مہم کی وجہ سے مشہور ہوئے ورنہ ان کے علاوہ ایسے بہت سے واقعات ہیں جو میڈیا والوں کی توجہ سے محروم رہے ہیں.
10: گجرات کی بلقیس بانو کے ساتھ گینگ ریپ کرنے والوں کو نہ صرف دیر سے گرفتار کیا گیا بلکہ بعد از گرفتاری چند سالوں کے بعد ان کو حکومت کی پشت پناہی کے ساتھ رہا کردیا گیا اور اسی طرح کولکاتہ گینگ ریپ، اتراکھنڈ و مرادآباد ریپ جیسے کتنے ریپس ہیں جنکے مجرمین پوری ڈھٹائی سے سر عام بے خوف گھوم رہے ہیں.
11: یہ رپورٹس جو درج کی گئی ہیں وہ ہیں جو سب جانتے ہیں اور سرخیوں میں رہی ہیں مگر ان کے علاوہ محتاط اندازے کے مطابق دسیوں ہزار لڑکیاں وہ ہیں جو(Love Trap) کے نام پر دام محبت میں گرفتار ہوتی ہیں اور چند دنوں کے بعد ان کے قتل و خون کی خبریں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے موصول ہوتی ہیں جن کو میڈیا والے حکومت کی کارروائی کے خوف سے اپنی سرخیوں میں بہت کم جگہ دیتے ہیں.
12: خواتین کے تئیں ایسے اندوہناک واقعات، نہایت تکلیف دہ حالات کے باوجود نہ تو حکومتی سطح پر اور نہ ہی سماجی و معاشرتی سطح پر اس کے اسباب کے ازالے کی مناسب تدبیریں ہورہی ہیں بلکہ اربابِ اقتدار اپنی سیاسی روٹیاں سیکنے میں مشغول ہیں اور تجارت پسندانہ رجحانات والے اپنی معاشی ترقی میں مگن اور حقوقِ نسواں کے علمبردار، نام نہاد مسیحا، عورتوں کی عزت و آبرو کو تحفظ حاصل نہ ہونے کے باوجود انکی مزید آزادی، معاشی ترقی، اور سماجی بے لگامی کی آوازیں بلند کرتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ سطورِ بالا سے ظاہر ہے.

یہ چند مشہور زمانہ رپورٹس ہیں جو سرسری طور پر سپردِ قلم کردی گئی ہیں ورنہ ایسی خبروں کا وہ طومار موجود ہے کہ جسکو لکھنے کے لئے بھی کئ کئ کتابوں کے دفتر ناکافی ہونگے بہرحال ان رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کے نعرہ نے خواتین کو کیا کیا گل کھلائے ہیں اور ذلت ورسوائی، بے آبروئی، بے حیائ ، سماجی عدم استحکام کی کس کھائی میں پہونچا دیا ہے یہ بات انصاف پسند اور اپنی عزت و آبرو کے لیے فکر مند ہر خاتون کو بے چین کردینے کے لیے کافی ہے ظاہر ہے کہ جب عورت کی عزت محفوظ نہیں رہ سکے گی تو اسے مال و دولت، سیم و زر سے کتنا سماجی استحکام مل سکے گا؟

ضرورت اس بات کی ہے ملک کے انصاف پسند اور غیر متعصب ذہن رکھنے والے برادرانِ وطن بالخصوص دین اسلام کے سچے پیروکارمسلمان خواتین کے تئیں پائے جانے والے نام نہاد کھوکھلے نعروں سے خود کو اور اپنی خواتین کو بچائیں اور اسلامی شریعت کے ان اصول و قوانین کا مطالعہ کریں اورعمل میں لائیں جنکے ذریعے خواتین کا سماجی، تعلیمی، اقتصادی اور سیاسی تحفظ ممکن ہے اور جہاں اور جب بھی ان مجرب اصول و ضوابط پر عمل کیا گیا تو نہ صرف خواتین کے تئیں ہمدردانہ رویہ بڑھا، انکی شخصیت، عزت و آبرو، حقوق و مفادات کو تحفظ ملا اور سماج میں انکی عزت وتکریم میں اضافہ ہوا، بلکہ انکے تحفظ سے انسانی سماج بےشمار خطرات و منفی اثرات سے محفوظ ہوا، ذیل میں کچھ تجاویز پیش کی جاتی ہیں جو اصولِ فطرت اور اسلامی شریعت دونوں کے مطابق مسلم ہیں جنکو عمل میں لاکر خواتین کی عزت و آبرو ، شخصیت و کردار اور حقوق و مفادات کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے:
1: خواتین اجنبی مردوں کے درمیان اور عوامی مقامات پر ایسا لباس زیب تن کریں جو باپردہ سادہ ہو، پرکشش نہ ہو کیونکہ پرکشش اور حسین چیزوں کو سر عام کھولنے دکھانے سے ان کو حیوانیت پسندوں کی دست برد سے بچانا ممکن نہیں ہے بالخصوص جبکہ مردوں کے اندر فطری طور پر خواتین کی تئیں شدید جنسی کشش (Sexual Attraction) بھی پایا جاتاہے.
2: زندگی کے تمام ضروری شعبوں میں مرد و زن کے آزادانہ اختلاط کو روکا جائے اور انکے علیحدہ علیحدہ ڈپارٹمنٹ بنائے اور منظم کیے جائیں کیونکہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے اختلاط کے بعد ان کو جنسی تعلقات سے بچانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے.
3: نوجوان نسل کو جدید آلات بالخصوص موبائل کا صحیح استعمال کرنے کا عادی بنایا جائے اور اس کی بیداری لائی جائے اور بے حیائی کا مواد سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ختم کیا جائے.
4: عصری اداروں میں پروفیشنل ایجوکیشن کے ساتھ ضروری اخلاقی و روحانی تعلیم کو نصاب تعلیم کا حصہ بنایا جائے، کیونکہ اخلاقیات کے بغیر انسان حیوانی خواہشات سے بچ نہیں سکتا خواہ کتنا ہی بڑا ڈگری ہولڈر کیوں نہ بن جائے.
5: معاشرے کو نشہ کی لعنت سے پاک بنانے کی کوششیں کی جائیں، کیونکہ نشہ تمام طرح کے جرائم بالخصوص جنسی جرائم کی جڑ ہے.
6: مرد و زن کے آزادانہ تعلقات کے (Love Marriage, Live in Relationship) جیسے تمام راستے بند کیے جائیں اور حلال جنسی تعلقات کے ذریعے نکاح کو آسان بنایا جائے، نکاح کو وقت پر یعنی 20 سال کے اندر ہی اندر کرنے کا رواج عام کیاجائے.
7: اس سب کے بعد بھی اگر جنسی ہراسانی، گینگ ریپ اور زنا کے واقعات پیش آئیں تو مجرموں کو سر عام چوراہے پر کھڑا کرکے سزا دی جائے مثلاً اسلامی شریعت کے مطابق شادی شدہ مردوں عورتوں کو سنگ ساری (Stoning) کی اور غیر شادی شدہ مردوں عورتوں کو 100 کوڑے (One Hundred Lash of a Whip) کی سزا دی جائے.

خدا تعالیٰ خواتین کو دین کی صحیح سمجھ نصیب فرمائے اور ان کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے انتظامات فرمائے. آمین

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H