╭═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╮
🌹 عدل واِنصاف 📚
╰═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╯
🌸 قسط نمبر (۲) 🌸
✉️ عدل ایک جامع خلق ✉️
﷽
💞 زیربحث آیت؟ اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُبِالْعَدْلِ 💞
☜📚 الغرض اگر غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ حسنِ اخلاق کا سب سے بڑا عنصر عدل ہے جس کے بغیر مکارم اخلاق کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا حکیم العصر حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ انسان میں تمام اچھے اور برے اخلاق کا سر چشمہ بنیادی طور پر تین طرح کی صلاحیتیں ہیں
◆☜(۱) قوتِ عاقلہ:—— جس میں علم وحکمت سے اعتدال آتاہے اور حکمت کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اس کے ذریعہ سے حق اور باطل سچ اور جھوٹ اچھے اور برے کے درمیان تمیز کرسکے
◆☜(۲) قوتِ غضب:—— جس کے ذریعہ آدمی اپنے نقصان کو دفع کرتاہے یہ قوت مو جبِ کمال اسی وقت ہے جب کہ بے لگام نہ ہو بلکہ عقل وحکمت کے تابع ہو یعنی جہاں غصہ معقول ہو وہاں غصہ کیا جائے اور جہاں غصہ پر قابو کرنا مصلحت ہو وہاں غصہ کے اظہار سے پرہیز کیا جائے
◆☜(۳) قوتِ شہوت:—— اس قوت کا مقصد ہر طرح کے دنیوی نفع مثلاً مال و دولت اور راحت وآرام کے اسباب وغیرہ کا حصول ہے یہ قوت اسی وقت قابل تعریف کہلائی جاسکتی ہے جب کہ عقل وحکمت کے تابع ہو ورنہ بےلگام شہوت سے ضررہی ضرر ہے
◆☜ ان تینوں صفات میں عدل مقصود ہے یعنی میانہ روی اختیار کی جائے اور افراط وتفریط سے بچا جائے مثال کے طور پر قوتِ عاقلہ اگر اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ کام کرے تو اس سے حسنِ تدبیر جودتِ ذہنی علمی گیرائی اور کوتاہیوں پر محاسبہ جیسی صفات وجود میں آتی ہیں اور یہی عقل اگر اپنی حدود سے آگے بڑھ جائے تو اس سے مکرو فریب دھوکہ بازی اور شاطرانہ خیالات پیدا ہوتے ہیں جب کہ عقل میں اگر تفریط پائی جائے تو اس کے اثرات بےوقوفی حماقت ناتجربہ کاری اور پاگل پن کی شکل میں سامنے آتے ہیں
◆☜ یہی حال قوتِ غضب کا ہے کہ اگر اس میں اعتدال ہو تو اس سے بہادری وقار تحمل بردباری اور وفاداری جیسے روشن اخلاق نمودار ہوتے ہیں اور اگر غضب حد سے آگے بڑھ جائے تو اس سے تکبر وعجب اور کبروغرور جیسی صفات رذیلہ سامنے آتی ہیں اور اگر غضب میں تفریط ہوجائے تو اس سے ذلت رسوائی بے قراری اور طبعی انقباض جیسی باتیں پیدا ہوتی ہیں
◆☜ یہی حال قوتِ شہوانیہ کاہے کہ اگر اس میں اعتدال ہو تو اس کی وجہ سے عفت وپاک دامنی سخاوت صبر ورع تقویٰ اور قناعت جیسی مبارک عادتیں وجود میں آتی ہیں اور اگر یہ قوت بے لگام ہوجائے تو اس کی وجہ سے حرص وطمع لالچ اور بےحیا اور خود میں غرضی جیسی ناپسندیدہ باتیں وجود میں آتی ہیں اور اگر اس قوت میں تفریط ہوجائے تو اس کی وجہ سے بخل عاجزی حسد اور بغض وعداوت جیسے جذبات جنم لیتے ہیں
[ روضۃ الطالبین وعمدۃ السالکین ۷۵ درمجموعہ رسائل الامام الغزالیؒ]
✧═════•❁❀❁•═════✧
📜☜ مزید ایسی پوسٹیں حاصل کرنے کیلئے ہمارا چینل جوائن کریں
╭•┅═❁♦♥♦❁═┅•╮
⛲⚖ اچھی اورسچی باتیں ⚖⛲
╰•┅═❁♦♥♦❁═┅•╯
💕
🍃💕
💕✨💕
🍃💕🍃💕
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H