╭═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╮
🌹 مکمل ومدلل مسائلِ نماز 📚
╰═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╯
◆☜ سلسلہ نمبر (۶)
◆☜ نماز کے اَجزاء:
◆☜ (ان اجزاء میں سے) ایک جزونیت ہے۔ اس سے مراد اللہ تعالٰی کے حکم ادائے نماز کی پوری پوری بجا آوری کا تہہ دل سے ارادہ کرنا، یعنی اس طرح جیسا کہ اللہ تعالٰی تبارک وتعالٰی نے حکم دیا۔ اور چاہیے کہ وہ محض خوشنودی مولا کےلئے ہو۔ اب اگر کوئی شخص یہ عمل دن رات میں پانچ بار انجام دے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ کیفیت اس کی طبیعت میں جم جائے گی اور یہ اس کی صفات فاضلہ میں سے ہوجائے گی جس کا بہترین اثر اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر پڑے گا۔
◆☜ انسانی معاشرے کےلئے قول وفعل میں خلوص نیت سے زیادہ سود مند کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔ اگر لوگ اپنے قول وفعل میں باہم پر خلوص ہوں تو یقیناً ان کی زندگی نہایت دل پسند اور خوشگوار ہوگی۔ ان کے حالات دنیا وآخرت میں بہترہوں گے اور کامیابی سے ہم کنار ہوں گے۔
◆☜ (نماز کا) دوسرا جزاو اللہ تعالٰی کے حضور میں کھڑا ہوناہے۔ نماز پڑھنے والا تن من سے اپنے پروردگار کے سامنے آنکھیں جھکائے کھڑے ہوکر نجات کا طالب ہوتاہے۔ اللہ تعالٰی (بندہ کی) رگ جان سے زیادہ قریب ہے، لہٰذا جو کچھ بندہ کہتاہے پروردگار اس کو سنتاہے اور جو کچھ اس کے دل میں ہے اس کو جانتاہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر کوئی اس عمل کو رات دن میں متعدد بار کرتا رہے تو یقیناً اس کے دل میں اپنے پروردگار کی جگہ ہوگی اور اللہ تعالٰی کے حکم کی فرماں برداری کرے گا اور جن امور سے اللہ تعالٰی نے منع فرمایا ہے ان سے باز رہے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ اس شخص سے انسانیت کے خلاف کوئی امرسرزد نہ ہوگا کسی کی جان پر تعدّی اور کسی کے مال پر ظلم نہ کرے گا اور کسی کے دین اور آبرو کو اس سے ایذاء نہ پہنچے گی۔
◆☜ تیسرا جزو قراءت (یعنی نماز میں قرآن کا پڑھنا) ہے۔ ائمہ کے نزدیک اس کے متعلقہ احکام کی تفصیل آگے آئے گی۔ قرآن پڑھنے والے کو نہ چاہیے کہ زبان پڑھے اور دل غافل ہو، بلکہ لازم ہے کہ جو کچھ پڑھے اس کے مطالب پر غور وفکر کرے، اور جو کچھ کہتا ہے اس سے خود بھی نصیحت پکڑے۔ پس جب زبان پر اللہ تعالٰی پروردگار عالم کا ذکر جاری ہو تو اس کی عظمت اور قدرت کی ہیبت اس کے قلب پر طاری ہونی چاہئے، جیسا کہ اللہ تعالٰی فرمای ہے:
◆☜ ”اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ اِذَا تُلِیَتۡ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُہٗ زَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا“۔
◆☜ (جب اللہ تعالٰی کا ذکر کیا جائے تو ان کے دلوں پر اس کی ہیبت طاری ہو، اور جب آیات قرانی ان کے سامنے پڑھی جائیں تو ان کے ایمان میں اور پختگی پیدا ہو)
◆☜ اسی طرح جب اللہ تعالٰی کی صفات رحمت واحسان کا بیان ہو تو واجب ہے کہ انسان دل میں سوچے کہ ان صفات کریمہ سے وہ کس طرح خود کو آراستہ کر سکتاہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:
◆☜ ”تخلقوا باخلاق اللّٰه فهو سبحانه كريم عفو عفور عادل لايظلم الناس شيئاً“
◆☜ (یعنی لوگو! تم اپنے اندر خلق الہٰی پیدا کرو، وہ ذات پاک بخشش کرنے والی، معاف کرنے والی، مغفرت کرنے والی اور عادل ہے، اور کسی پر مطلق ظلم نہیں کرتی)
◆☜ لہٰذا انسان مکلّف ہے کہ اپنے آپ میں یہ اخلاق پیدا کرے، اب اگر کوئی شخص قرآنِ حکیم کی ایسی آیات پڑھے گا جن میں اللہ تعالٰی کی صفات کریمہ کا بیان ہے، اور اس کے مطالب کو سمجھےگا، اور یہ عمل دن رات میں بکثرت بار بار کیا جائے گا تو لامحالہ اس کی طبیعت اس سے متأثر ہوگی، اور جب طبیعت پر ان صفات جمیلہ کا اثر ہوگا تو اس کی طبیعت ان صفات سے خود متصف ہونے کی جانب مائل ہوگی۔ غرض تہذیب نفس واخلاق کےلئے یہ عمل سب سے زیادہ کارگرہے۔
✧═════•❁❀❁•═════✧
📜☜ مزید ایسی پوسٹیں حاصل کرنے کیلئے ہمارا چینل جوائن کریں
╭•┅═❁♦♥♦❁═┅•╮
⛲⚖ اچھی اورسچی باتیں ⚖⛲
╰•┅═❁♦♥♦❁═┅•╯
💕
🍃💕
💕✨💕
🍃💕🍃💕
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H