╭═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╮
🌹 مکمل ومدلل مسائلِ نماز 📚
╰═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╯
◆☜ سلسلہ نمبر (۵)
◆☜ نماز کا حقیقی مقصد:
◆☜ نماز کا اصل مقصد یہ ہے کہ خالقِ کائنات کی عظمت کا نقش مرتسم ہوجائے، یہاں تک کہ (عذاب الہٰی سے) ڈرتے ہوئے اس کے احکامات کی تعمیل اور ممنوعات سے پر ہیز کیا جائے۔
◆☜ اس میں تمام بنی نوع انسان کا فائدہ ہے کیونکہ جو شخص نیکیوں پر عمل پیرا ہو اور برائیوں سے کنارہ کش ہے اس سے بھلائی اور نفع کے سوا اور کوئی بات سرزد نہیں ہوسکتی۔ اور وہ شخص جو نماز پڑھ لیتاہو لیکن اس کا دل خدا سے غافل ہو اور خواہشات نفسانی ولذات جسمانی میں لگاہوا ہو، اس کی نماز سے گو بقول بعض ائمہ ادائے فرض تو ہوجائے گا لیکن در حقیقت مطلوبہ مقصد حاصل نہ ہوگا۔ نماز کامل (دراصل) وہ ہے جس کی شان میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے
◆☜ ”قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ صَلَاتِہِمۡ خٰشِعُوۡنَ“
◆☜ (یعنی وہ مسلمان جو نماز میں خشوع سے کام لیتے ہیں فلاں پاگئے)۔
◆☜ نماز کا حقیقی مقصد نیاز مندی کے ساتھ خدائے خالق زمین وآسمان کی برتری کا اعتراف اور اس کی لازوال عظمت اور غیرفانی عزت کے آگے سرنگوں ہونا ہے۔ لہٰذا حقیقی معنو میں کوئی شخص نمازی نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کا دل حاضر، خدائے واحد کے خوف سے پر، باطل وسوسوں اور ضرر رساں خیالات سے خالی ہوکر طالب نجات نہ ہو۔ پس اگر انسان اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہو اور اس حال میں اس کا دل خشوع وخضوع سے پر ہو اور اپنے پروردگا، قادروقاہر، صاحب سطوتِ لامتناہی ومالک قدرت بےپناہ کے سامنے عاجزی وفروتنی سے حاضر ہو وہی شخص اپنے گناہوں سے تائب اور اپنے رب کی جانب مائل پروردگار کے ساتھ مضبوط ہوگا، اور وہی بندگانِ حق تعالٰی کے زمرہ میں شامل اور دین کے قائم کردہ حدود پر قائم ہوگا اور وہی ان امور سے باز رہے گا جن سے رب العالمین نے منع فرمایا۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:
◆☜ ”اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ“
[ سورۃ العنکبوت ۴۵]
◆☜ (یعنی بلاشبہ نماز بے حیائی کی باتوں اور ناپسندیدہ کاموں سے باز رکھتی ہے) اور حقیقی معنوں میں مسلمان ہونے کی یہی صورت ہے۔
◆☜ غرض جو نماز بےحیائی کی باتوں اور ناپسندیدہ امور سے مانع ہے وہی نماز ہے جس میں بندہ اپنے رب کی عظمت کا اعتراف کرے، اس (کے عذاب) سے ڈرے اور اس کی رحمت کا امید وار ہو۔ اور ہر شخص کو نماز سے اسی قدر فیض ملتاہے جتنا کہ اس کے دل میں اللہ کا خوف ہو اور کا قلب اللہ کی جانب مائل ہو۔ اس لئے ارشاد باری ہے:
◆☜ ”وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ“
◆☜ (یعنی نماز کو ذکر الہٰی میں منہمک ہوکر پوری طرح ادا کرنا چاہئے)۔ جس کا دل اپنے رب کی یاد سے غافل ہو وہ اللہ کا عبادت گذار نہیں ہے، لہٰذا حقیقی معنوں میں ایسا شخص نمازی نہیں ہے۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
◆☜ ”لاينظرالله الٰی صلٰوة لايحضر الرجل فيها قلبه مع بدنه“
◆☜ ”یعنی جب تک کوئی شخص تن من کے ساتھ حاضر نہ ہو اللہ رب العزت اس کی نماز کی طرف نہ دیکھے گا) دین کی نگاہ میں نماز یہی ہے، اور اسی نماز کو نفوس انسانی کے سنوار نے اور اخلاق کے درست کرنے میں دخل ہے، کیونکہ نماز کے ہر جزو میں انسانی فطری فضائل کی برتری کا دستور العمل اور انسانی پسندیدہ خصائل میں سے کسی نہ کسی خصلت کی مشق ہے۔
◆☜ اب ہم کسی قدر اعمال صلوٰۃ کا ذکر کرتے ہیں کہ نفوس انسانی کے سنوار نے میں ان کا کیا اثر ہے۔
✧═════•❁❀❁•═════✧
📜☜ مزید ایسی پوسٹیں حاصل کرنے کیلئے ہمارا چینل جوائن کریں
╭•┅═❁♦♥♦❁═┅•╮
⛲⚖ اچھی اورسچی باتیں ⚖⛲
╰•┅═❁♦♥♦❁═┅•╯
💕
🍃💕
💕✨💕
🍃💕🍃💕
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H