Article Image

اسلام اور دور حاضر کے شبہات و مغالطے'

مبسملا ومحمدلا ومصليا ومسلما

اسلام اور دور حاضر کے شبہات و مغالطے '

افادات ' حضرت اقدس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم ۔

_جس کی جمع و ترتیب_ '
مفتی عمر انور حفظہ اللّہ
_استاد جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ۔ نے کی ھے_

_اس کتاب کی سن طباعت_ ' جمادی الاولی ١٤٤٤ھ دسمبر ٢٠٢٢ء ھے '
_اور اس کتاب کے صفحات_ ' ٤٧٤ ھیں
حضرت اقدس کے افادات اس کتاب میں بہت سارے شاندار انوکھے انداز میں مرتب نے ترتیب وار پیشن فرمایا ھے ۔

اللہ تعالی حضرت اقدس کی عمر میں برکت عطاء فرمائے اور حضرت اقدس کا سایۂ عاطفت قائم و دائم فرمائے '
مرتب محترم کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے ' آمین ثم آمین ' ۔

اصل عرض کرنا یہ ھے کے حضرت اقدس کے افادات میں اس کتاب میں اخلاقیات بھی ترتیب وار وارد ھیں '
درمیان میں ایک عنوان ' صفحہ ١٩٦پر


پیٹھ پیچھے برائی چاہے صحیح ہو یا غلط ہر حال میں غیبت ہے ' لایاگیا ھے

ملاحظہ '.
غیبت کا کیا معنی ہے ؟
غیبت کے معنی ہیں دوسرے کی پیٹھ پیچھے برائی بیان کرنا چاہے وہ برائی صحیح ہو وہ اس کے اندر پائی جا رہی ہو' غلط نہ ہو پھر بھی اگر بیان کرو گے تو وہ غیبت میں شمار ہوگا '
حدیث شریف میں آتا ھے کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ؟
یا رسول اللہ ! غیبت کیا ہوتی ہے ؟
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا ذكرك اخاك بما يكره '
یعنی اپنے بھائی کا اس کے پیٹھ پیچھے ایسے انداز میں ذکر کرنا جس کو وہ ناپسند کرتا ہو یعنی اگر اس کو پتہ چلے کہ میرا ذکر اس طرح اس مجلس میں کیا گیا تھا تو اس کو تکلیف ہو اور وہ اس کو برا سمجھے تو یہ غیبت ہے '
ان صحابی(رضی اللہ عنہ)نے پھر سوال کیا کہ إن كان في أخي ما أقولُ '

اگر میرے بھائی کے اندر وہ خرابی واقعتا موجود ہے جو میں بیان کر رہا ہوں '؟
_تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے جواب میں فرمایا کہ اگر وہ خرابی واقعتا موجود ہیں تب تو یہ غیبت ہے ؛ اور اگر وہ خرابی اس کے اندر موجود نہیں اور تم اس کی طرف جھوٹی نسبت کر رہے ہو تو پھر یہ غیبت نہیں ' پھر تو یہ بہتان بن جائے اور دہرا گناہ ہو جائے گا_ '
(ابو داوود كتاب الادب بابو في الغيبة )

اب ذرا ہماری محفلوں اور مجلسوں کی طرف نظر ڈال کر دیکھیں کہ کس قدر اس رواج ہو چکا ہے اور دن رات اس گناہ کے اندر مبتلاء ہیں '
_اللہ تعالی ہماری حفاظت فرمائے آمین_ '

بعض لوگ اس کو درست بنانے کے لیے یہ کہتے ہیں کہ میں غیبت نہیں کر رہا ہوں میں تو اس کے منہ پر یہ بات کہہ سکتا ہوں '
مقصد یہ ہے کہ جب میں یہ بات اس کے منہ پر کہہ سکتا ہوں تو میرے لیے یہ غیبت کرنا جائز ہے"
یاد رکھو !چاہے تم وہ بات اس کے منہ پر بھی کہہ سکتے ہو یا نہ کہہ سکتے ہو وہ ہر حالت میں غیبت ہے بس اگر تم کسی کا برائی سے ذکر کر رہے ہیں ہو تو یہ غیبت کے اندر داخل ہے اور یہ گناہ کبیرہ ہے ' "

اللّہ تعالیٰ ھم تمام کو اپنی امان میں رکھیں ۔ آمین یارب العالمین ۔.

بندہ✍🏻 محمد مجاہد قریشی مانوی ضلع راںٔچور کرناٹک ۔

مزید مطالعہ کے لیے نام کتاب سرگزشت '

والسلام علیکم ورحمۃ اللّہ وبرکاتہ

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H