*سلام ہو اُس دلہن پر*

میرا جب دیوبند جانا ہوتا ہے، اور حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کی آرام گاہ پر حاضری ہوتی ہے، تو خیالات میں کھو جاتا ہوں، اور وہ واقعہ جو مولانا سجاد صاحب نعمانی مدظلہ العالی اپنے بیان میں سنایا کرتے ہیں، یاد آجاتا ہے۔

جب حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کا نکاح طے پایا تو حضرتؒ نے اپنے والدین سے بہت کہا کہ میرا نکاح امیر باپ کی بیٹی سے نہ کرائیں! لیکن وقت کو کچھ اور ہی منظور تھا، آخر نکاح ہوگیا اور حضرتؒ جب حجلۂ عروسی میں دولہن کے پاس پہنچے تو دولہن کو اوپر نیچے تک سونے میں لدا ہوا دیکھ کچھ وقت کی خاموشی طاری ہوگئی، دولہن گھبرا گئی، اور کہنے لگی، کہ مجھ سے آخر ایسی کیا غلطی ہوئی ہے جو آپ اس طرح سے خاموش ہیں۔۔

حضرت‌ؒ نے فرمایا کہ اُدھر تڑپتے زخمی ہیں جن کو علاج میسر نہیں، مجھے وہ یاد آگئے، سمجھ نہیں آرہا ہے کہ میں اپنی قلبی کیفیت کو کیسے درست کروں۔۔؟ تم برداشت کرلو! میں اِدھر کونے میں اللہ کی عبادت کرکے گذار لوں گا، وہ دولہن ایک طرف گئیں اور سارے زیورات ایک پوٹلی میں باندھ کر حضرت کو دیدیئے، کہا کہ جن زخمیوں کے علاج کی ضرورت ہے میری طرف سے یہ تحفہ بھجوا دیجئے!  مجھے اپنے گھر سے دور نہ کیجئے! مجھے اپنے در سے محروم نہ کیجئے۔ ❣️

دنیا مولانا قاسم نانوتوی کو جانتی ہے، دنیا جانتی ہے کہ دارالعلوم دیوبند وہ منارۂ نور، وہ مرکزِ رشد و ہدایت حضرت نانوتوی کی قربانیوں سے بنا لیکن دنیا میں کم لوگ ہی جانتے ہیں، کہ اسکی بنیاد میں حضرت نانوتوی کے خون پسینے سے زیادہ شاید اس نئی نویلی دلہن کی قربانی لگی ہوئی ہے۔ 😢
سلام ہے اس دولہن پر۔۔۔!!!!❤️

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H