Article Image

Untitled Article

عقیدہ توحید ہی دنیا میں امن امان اور سکون و اطمینان کا ضامن ہے
عقیدہ توحید جو اسلام کا سب سے پہلا بنیادی عقیدہ ہے یہ صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ انسان کو صحیح معنی میں انسان بنانے کا واحد ذریعہ ہے جو انسان کی تمام مشکلات کا حل اور ہر حالت میں اس کے لئے پناہ گاہ اور ہر غم وفکر میں اس کا غمگسار ہے کیونکہ عقیدہ توحید کا حاصل یہ ہے کہ عناصر کے کون و فساد اور ان کے سارے تغیرات صرف ایک ہستی کی مشیت کے تابع اور اس کی حکمت کے مظاہر ہیں،
ہر تغیر ہے غیب کی آواز
ہر تجدد میں ہیں ہزاروں راز
اور ظاہر ہے کہ یہ عقیدہ کسی کے قلب و دماغ پر چھا جائے اور اس کا حال بن جائے تو یہ دنیا ہی اس کے لئے جنت بن جائے گی سارے جھگڑے فساد اور ہر فساد کی بنیاد ہی منہدم ہوجائیں گی کیونکہ اس کے سامنے یہ سبق ہوگا
از خداداں خلاف دشمن ودوست
کہ دل ہر دودر تصرف اوست
اس عقیدہ کا مالک ساری دنیا سے بےنیاز ہر خوف وخطر سے بالا تر زندگی گذارتا ہے اس کا حال یہ ہوتا ہے ،
موحد چہ برپائے ریزی زرش چہ فولاد ہندی نہی برسرش
امید وہراسش نباشد زکس ہمیں است بنیاد توحید وبس
کلمہ الا الہٰ الہ اللہ جو کلمہ توحید کہلاتا ہے اس کا یہی مفہوم ہے مگر یہ ظاہر ہے کہ توحید کا محض زبانی اقرار اسکے لئے کافی نہیں بلکہ سچے دل سے اس کا یقین اور یقین کے ساتھ استحضار ضروری ہے کیونکہ توحید خدا واحد دیدن بودنہ واحد گفتن،
کلمہ لا الہٰ الّا اللہ کے پڑھنے والے دنیا میں کروڑوں ہیں اور اتنے ہیں کہ کسی زمانے میں اتنے نہیں ہوئے لیکن عام طور پر یہ صرف زبانی جمع خرچ ہے توحید کا رنگ ان میں رچا نہیں ورنہ ان کا وہی حال ہوتا جو پہلے بزرگوں کا تھا کہ نہ کوئی بڑی سے بڑی قوت و طاقت ان کو مرعوب کرسکتی تھی اور نہ کسی قوم کی عددی اکثریت ان پر اثرانداز ہوسکتی تھی نہ کوئی بڑی سے بڑی دولت و سلطنت ان کے قلوب کو خلاف حق اپنی طرف جھکا سکتی تھی ایک پیغمبر کھڑا ہو کر ساری دنیا کو للکار کر کہہ دیتا تھا کہ تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ انبیاء کے بعد صحابہ کرام اور تابعین جو تھوڑی سے مدت میں دنیا پر چھا گئے ان کی طاقت وقوت اسی حقیقی توحید میں مضمر تھی اللہ تعالیٰ ہمیں اور سب مسلمانوں کو یہ دولت نصیب فرمائے،
اج کل مسلمان سمجھتے ہیں کہ بس اگر ہم نماز پڑھ رہے ہیں ہم روزہ زکوۃ حج کر رہے ہیں تو ہم سیدھا جنت میں جائیں گے حالانکہ اسے پتہ بھی نہیں ہے کہ ایک عقیدہ ہوتا ہے اور ایک عمل ہوتا ہے اگر عمل میں کمی بیشی آ بھی جائے تو اللہ رب العزت غفور رحیم معاف کر دے گا لیکن دوسرا عقیدہ ہے اگر عقیدے میں ذرہ برابر بھی کوئی کمی بیشی آگئی تو یہ جتنی اعمال بھی بندہ کر رہا ہے ساری ضائع ہو جائنگے ہے اگر توبہ نہ کیا تو۔ اور شرک ایک ایسا عمل ہے جو پیغمبروں کی اعمال بھی ضائع کر دیتا ہے جیسا کہ قران کریم میں اللہ فرما رہے ہیں اپنے محبوب پیغمبر پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر اپ نے بھی شرک کیا تو اپ کا عمل بھی ضائع کر دیا جائے گا اسی طرح دوسرے پیغمبروں سے بھی اسی طرح الفاظ ائے ہیں۔
تو مختصر یہ کہ عقیدہ الگ چیز ہے اور عمل الگ چیز ہے عمل ایک عمارت ہے اور عقیدہ ان کی بنیاد ہے جب بنیاد کمزور ہو تو عمارت کا کیا فائدہ۔
ہمارے عام لوگوں کی دماغوں میں یہ بات ہے کہ مشرکین مکہ نماز روزہ زکوۃ اور نیک اعمال نہیں کیا کرتے تھے بلکہ یہ بات غلط ہے اصل میں وہ یہ سارے اعمال کیا کرتے تھے نماز بھی پڑھتے تھے حج بھی کیا کرتے تھے روزے بھی رکھتے تھے اور حاجیوں کو ستو بھی پلایا کرتے تھے تو اب سوال یہ ہے کہ اتنے سارے اعمال کیا کرتے تھے پھر مشرک اور خدا کے دشمن کیسے ہوئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک خدا کی عبادت نہیں کیا کرتے تھے بلکہ ہر علاقے میں اپنا ایک خدا ہوا کرتا تھا ہر ایک مرض کے لیے اپنا ایک خدا اپنا ایک شافی شفا دینے والا بنایا ہوا تھا تو وہ خدا کی بھی عبادت کرتے تھے اور ساتھ میں ان بتوں کی بھی عبادت اور ان کے سامنے اپنے حاجات پیش کرنا اور ان کے نام پر نظر و نیاز پیش کرنا جو خانہ کعبہ میں 365 بت رکھی ہوئی تھی وہ نیک اولیاء کے مجسمے تے اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اگر ہم ان اولیاء کو خوش کریں گے تو یہ ہماری حاجات کو خدا کے سامنے پیش کریں گے تو ہماری تو خدا سنتے ہی نہیں ہم گنہگار ہیں ہم ان کے واسطے خدا سے دعائیں مانگتے ہیں تو سب سے پہلے خدا تعالی نے قران کریم میں فرمایا کہ میں تمہارے شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں دل کا ایک شریان ہے ان سے بھی زیادہ قریب ہوں تو مجھے ڈائریکٹ پکارا کرو عرب لوگ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیا تو ہمارے جتنے بھی پیر فقیر ملنگ ہے ان سے انکار کرنا ہوگا لیکن سدا افسوس یہ کہ ہمارے مسلمان بھائی پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں اور اس نماز میں ایاک نعبد ایاک نستعین کا اقرار بھی کر لیتے ہیں لیکن جب باہر چلے جاتے ہیں تو کسی نے سر درد کے لیے اپنا پیر بنایا ہے کسی نے گردے مثانے اور دل جگر غرض یہ کہ ہر بیماری کے لیے الگ ایک پیر الگ ایک شافی بنایا ہے تو مسجد میں اقرار کیا اور باہر ا کے خدا کا انکار کیا تو یہ ہے اج کے مسلمانوں کی حالات تو کیسے مسلمانوں کو خدا بلند کرے گا جب ان کی اکثریت ایسے عقائد میں مبتلا ہو تو خدا کے لیے عقیدئ توحید کو سمجھئے دوسروں کو سمجھائیے جن سے آخرت خود کی بھی بنے گی اور دوسروں کی بھی بنے گی اللہ مجھے اور اپ سب لوگوں کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جزاک اللہ خیرا۔

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H