اسرائیلی مصنوعات اور ہماری ذمہ داری
در حقیقت قضیۂ فلسطین پوری امتِ مسلمہ کا قضیہ ہے ، ارض مقدس پر صہیونی فوج کشی سے محض سرزمین فلسطین یا اہل غزہ کا نقصان نہیں بلکہ تمام اسلامی ممالک کا نقصان ہے ۔ چونکہ ارض مقدس کی حفاظت کرنا اور اس کو کفار کے ناپاک سائے سے بچائے رکھنا عالمِ اسلام کے ہر فردِ بشر کی اولین ذمہ داری ہے ۔
ہر شخص اپنی حسبِ استطاعت مکلف ہے چنانچہ ہر مکلف سے اس کی ذمہ داری کا سوال ہوگا " عن بن عمرؓ ان رسول اللہ ﷺ قال: کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیته" او کما قال صلی اللہ علیہ وسلم
کہ ہر شخص نگراں اور نگہبان ہے اس سے اس کی نگرانی کے متعلق جواب طلب ہوگا ۔
آج جبکہ باطل طاقتیں اپنے پورے روز کے ساتھ ارض مقدس کی تباہی اور اہل غزہ کی بربادی میں مصروف ہیں دن بدن ایسے ایسے دل دوز اور خوفناک واقعات و حادثات پیش آتے جا رہے ہیں جس سے انسانیت تو در کنار حیوانیت بھی شرمندہ ہے ، روزانہ سیکڑوں نہتے نوجوانوں ، بزرگوں ، عورتوں ، حتی کہ بچوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے ۔
اس کسم پرسی کے عالم میں بحیثیت مومن و مسلمان ہماری کیا ذمہ داری ہے ؟ ایا ہم پر بھی کچھ ذمہ داری عائد ہوتی ہے یانہیں ؟
یقیناً ایسی صورتحال میں ہم پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ، جن میں سے سب سے پہلی اور اہم ذمہ داری مخالف کے تعاون سے گریز کرنا ، قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے " ولا تعاونو علی الاثم والعدوان" برائی کے تعاون سے بچو اور جبکہ برائی کرنے والا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ کا کھلا ہوا دشمن ہو پھر تو امر مزید مؤکد ہوجاتا ہے ۔
ہم ہر طرح سے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ کہیں ہماری وجہ ملعون ظالم صہونیوں کو کوئی فائدہ تو نہیں ؟ کہیں جانے انجانے میں ہم ان کے معاون تو نہیں ؟
اسرائیل کی تمام تر کمپنیاں اپنی کمائی کا بڑا حصہ اسرائیل حکومت کو محض اس لئے فراہم کرتی ہیں کہ وہ اپنی عسکری قوت میں اضافہ کرے اور پھر اس قوت کو بالعموم تمام مسلمانوں اور بالخصوص اہل غزہ کی نسل کشی کے لئے بروئے کار لائے ۔ چنانچہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہر طرح سے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں شاید آپ اسرائیلی مصنوعات خریدتے وقت بھول جاتے ہیں کہ آپکی ہی ادا کردہ رقم سے اسرائیل بم و بارود خرید کر ارض مقدس کے نگہبان اہل غزہ کو اسکا نشانہ بناتے ہیں ۔
جب یہ جنگ شروع ہوئی تھی اس وقت مسلمانوں میں اس بات کا خاصہ التزام تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس قضیے سے بے توجہی ہوتی گئی اب تو حد درجہ تساہل اور بے احتیاطی سے کام لینا شروع کردیا ہے ۔
ہم کلی طور پر اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں ، ہم خود بھی بچیں اور دوسروں کو اسکی تلقین کرتے رہیں ۔ ہم اپنی مساجد میں اس طرح کے پوسٹر لگائیں جن میں تصویر کے ساتھ اسرائیلی مصنوعات کی تفصیل موجود ہو تاکہ لوگوں کا بچنا آسان ہو ۔
ان دوکانوں سے سامان نہ لیں جو کھلم کھلا اسرائیلی مصنوعات کی خریدو فروخت پر تلے ہیں کم از کم اتنا تو کر سکتے ہیں سو کریں ورنہ میدان محشر میں جواب طلب ہوسکتے ہیں
ایسا تو نہیں کہ اسرائیلی مصنوعات لابدی ہیں یا ان کے بغیر ہماری زندگی ہی ختم ہوجائے گی ؟
ارشاد ربانی ہے " تعاونو علی البر والتقوی " کہ تم نیکی کے کاموں میں معاون اور مدر گار بنو ۔ مسجد اقصیٰ کی حفاظت اور اسکو صہیونی درندوں سے بچانے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بڑی اور کیا نیکی ہوسکتی ہے ؟ اگر ہم معصوم اہل غزہ کی اس درجے میں بھی مدد نہ کرسکے جو کہ کرسکتے ہیں تو یقیناً یہ ہمارے لئے سوئے عاقبت اور محرومی کی بات ہے ۔
ہم اپنے گھر کی خواتین کو اس بات کا مکلف بنائیں کہ وہ اسرائیلی مصنوعات کو بالکلیہ ترک کردیں ۔ یاد رکھو مسلمانوں اہل غزہ محض اپنی جنگ نہیں لڑرہے ہیں بلکہ وہ تو اُس فریضے کو انجام دینے میں لگے ہیں جو پورے عالم اسلام پر عائد ہوتاہے ، وہ ہماری اور آپ کی بلکہ تمام مسلمانوں پر عائد ہونے والی ذمہ داری کو تنِ تنہا ادا کررہے ہیں اس لئے ہم پر واجب اور ازبس ضروری ہے کہ ہم حسب استطاعت ان کی مدد کریں ۔
دوسری بات ! بائیکاٹ ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے اسرائیل کی کمر توڑنا بہت آسان ہے بائیکاٹ سے اسرائیل کی سیکڑوں کمپنیاں لاکھوں کروڑوں کے خسارے میں چلی گئیں حتی کہ بعض تو بند بھی ہںوگئیں اور بعض نے اپنی مصنوعات کے نام بھی بدل ڈالے جبکہ زیادہ سے زیادہ 40٪ بائیکاٹ ہوا اس لیے کہیں اس دھوکے میں نہ رہیں کہ بائیکاٹ سے کوئی نتیجہ نہیں ہے ۔
بہت سی رفاہی تنظیمیں اہل غزہ کو مالی مدد فراہم کررہی ہیں ، ہم حسبِ استطاعت اس طرف بھی توجہ دیں اگر آپکا مال قبلۂ اولٰی کی حفاظت کرنے والے مجاہدین پر خرچ ہوتا ہے تو یہ سعادت مندی کی بات ہے ۔ نیز ان کی کامیابی کے لئے دعاء کرنا بھی ایک ذمہ داری ہے ہم اپنی نمازوں اور اجتماعی دعاؤں میں اہلِ غزہ کے لئے خصوصی دعاء کا اہتمام کریں ۔
اللہ تعالیٰ ارض مقدس کی حفاظت فرمائے
اہل غزہ کی حفاظت فرمائے
اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود فرمائے آمین ثم آمیں ۔
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H