(تحریر عبدالجبار سلہری جویا سلہریاں)
شہادت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ تاریخ انسانیت کا ایک الم ناک واقعہ ہے۔ جس نے پورے عالم اسلام کو غمگین کر دیا۔حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بے انتہاء ظلم کیا گیا۔ جس کی مثال تاریخ انسانیت میں ملنا مشکل ہے۔ مددگاروں کو چھوڑو بچوں اور خواتین پر اس قدر ظلم کیا گیا۔ کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طر ح ان پر بھی کھانا پانی بند کر دیا گیا اور یہ کوئی جنگ نہیں تھی۔ باوجود اس کے کہ ملکی جنگ کہاں، چند افراد کہاں، گناہ صرف اس بیعت کا انکار تھا۔ جو قیصر و کسری کی سنت پر کی گئی تھی اور اس انکار میں بطور خاص امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نہیں تھے ۔ بلکہ بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اس جرم میں شہید کیے گئے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی جرم میں داغا گیا تھا۔ عبداللہ ابن زبیر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو اسی پاداش میں شہید کیا گیا۔ بلا شبہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارادہ اعلائے کلمۃ اللہ ہی تھا۔ اسی بناء پر اس بیعت سے انکار کیا تھا۔ جو ایک فاسق فاجر کے ہاتھ پر کسری و قیصر کی سنت میں بالجبر کرائی جا رہی تھی۔
دوسری جانب اسلام کے ازلی دشمن منافقین کی جماعت جس نے امیر المومنین علی المرتضیٰ اور امام حسن رضی اللہ عنہم کو شہید کیا تھا ان کو سازش کا موقع مل گیا۔ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ آنے کے خطوط لکھے۔ شیخ محمد المفید اپنی کتاب الارشاد اور ابو اسماعیل ریحان اپنی کتب تاریخ امت مسلمہ میں ان لوگوں کے نام لکھتے ہیں۔ جہنوں نے امام حسین رضی اللّٰہ عنہ کو خطوط لکھے وہ یہ لوگ تھے! مسلم بن عوسجہ، سلیمان بن صرد، رفاح بن شداد، ال معصیب بن نجبہ، ’’ شبت بن ربعی‘‘، حجر بن ابجار، یزید بن الحارث بن روئم، ’’ عذرا بن قیس ‘‘، عمر بن ال الحجاج، محمد بن عمیر اور کئی اور شامل تھے۔ پھر اسکے بعد الشمر آتا ہے، یہ کون تھا؟ شمر بن ذی الجوشن ، علی رضی اللّٰہ عنہ کے جنگ صفین کے حامیوں میں سے ایک تھا۔ السيد محسن الامين الحسيني العاملي اپنی کتاب رحاب ائمة اهل البيت میں لکھتے ہیں کہ ذہر بن قیس نے جمل اور صفین کی جنگیں، امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دیکھیں تھیں اور اسکے ساتھ الشبت بن ربعی اور شمر ذی الجوشن ال دبیبی بھی تھے۔ پھر یہ لوگ امام حسین رضی اللّٰہ عنہ کے خلاف کربلا میں لڑے ۔
کن لوگوں نے سیدنا حسین رض کے خلاف لڑنے والی فوج میں حصہ لیا
1۔ عمر بن سعد( یہ جنگ میں کمانڈر تھا اس کا کردار فراموش نہیں کیا جا سکتا)
2۔ شمر بن ذی الجوشن جس نے فوج کے بائیں حصے کو سنبھالا تھا ( جو حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ صفین میں شریک تھا)
3۔ عمر بن الحجاج جس نے فوج کے دائیں حصے کو سنبھالا تھا (اس نے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوفہ آنے کے لئے خط لکھا)
4۔ عزرا بن قیس،سواروں کی قیادت کررہا تھا (اس نے بھی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھ کر کوفہ آنے دعوت دی)
5۔ شبت بن ربعی جو کہ پیدل افواج کا کمانڈر تھا (اس نے بھی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوفہ آنے کے لئے خط لکھا)
یہ وہ منافق لوگ تھے جو حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جنگ صفین میں حامی تھے اور مسلمانوں کے درمیان انتشار پھیلانے میں بھرپور منافقانہ کردار ادا کر کے یہاں تک پہنچ گئے ۔کہ پھر انہوں نے ہی امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔
امام حسین کا جنگ کا کوئی ارادہ نا تھا جب ان پر ان ظالموں نے حملہ کیا تو امام عالی مقام کو بھی مجبورا جنگ شروع کرنی پڑی۔ امام حسین رضی اللہ عنہ تو شروع میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر حملہ آور ہوتے رہے تھے۔ لیکن جب گھوڑا مارا گیا۔ تو پھر پیدل لڑنے لگے۔ دشمنوں میں کوئی شخص یہ نہیں چاہتا تھا۔ کہ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ میرے ہاتھ سے شہید ہوں ۔ بلکہ ہر شخص آپ کے مقابلہ سے بچتا اور کنارہ کرتا دکھائی دیتا تھا۔ آخر شمر ذی الجوشن نے چھ اشخاص کو ہمراہ لے کر آپ پر حملہ کر دیا۔ ان میں سے ایک نے تلوار کا ایسا وار کیا کہ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کا بایاں ہاتھ کٹ کر الگ گر پڑا۔ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اس پر جوابی وار کرنا چاہا لیکن آپ کا داہنا ہاتھ بھی بری طرح مجروح ہو چکا تھا کہ تلوار نہ اٹھا سکے۔ پیچھے سے سنان بن انس نخعی نے آپ کے نیزہ مارا جو شکم پار ہو گیا۔ آپ نیزہ کا یہ زخم کھا کر زمین پر گر گئے۔ اس نے جیسے ہی نیزہ کھینچا اور اس کے ساتھ ہی آپ کی روح بھی پرواز کر گئی۔ انا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون
اس کے بعد شمر نے یا شمر کے حکم سے خولی بن یزید نے آپ کا سرمبارک کاٹ کر عبیداللہ بن زیاد کو پیش کیا۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جن بد بختوں نے حسین رضی اللہ عنہ کو “شہید” کیا، ان میں سے کم ہی کوئی ہوگا، جو مرنے سے پہلے پہلے کسی مصیبت، آفت یا بیماری میں مبتلا نہ ہوا ہو۔ اکثر پاگل پن کا شکار ہو کر مرے۔
سیرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ میں لکھا ہے کہ جب مختار ثقفی کے حکم پر شمر اور ابن سعد کو گرفتار کرکے اس کے سامنے پیش کیا گیا۔ تو مختار نے ان کو دیکھتے ہی پوچھا تم ہی وہ لوگ ہو نہ جن کے حکم سے ساقی کوثر کے نواسے اور ان کے جانثاروں پر پانی بند کیا گیا اور کربلا کے تپتے ہوئے ریگزاروں پر تڑپا تڑپا کر شہید کیا گیا۔ اے شمر! اے ابن سعد! سچ بتانا اس ناپاک کام کے بدلے میں تم کو کتنی دولت ملی؟ ظالمو! تم کو ذرا سی بھی غیرت نہ آئی کہ جن کا تم کلمہ پڑھتے ہو انہیں کے نواسے پر اتنا ظلم کیا۔ جلاد کو حکم دیا ان کو میرے سامنے تڑپا تڑپا کر ذبح کرو تاکہ ان کی عبرت ناک موت سے لوگ نصیحت پکڑیں۔
خولی بن یزید یہ وہ بد نصیب شخص تھا جس نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک جسم سے جدا کیا تھا۔ اور اس کو نیزے پر لٹکا کر لایا تھا۔ جب یہ گرفتار ہو کر مختار کے سامنے لایا گیا تو مختار غصے سے کانپنے لگا۔ اور کہا جلدی سے اس کے ہاتھ پاؤں رسیوں سے باندھ دو۔ اس کے بعد اس کے ہاتھ پیر کاٹو تاکہ دنیا اس دشمن اہل بیت کا جی بھر کر تماشہ دیکھے۔ خولی کو اس ذلت اور رسوائی کے ساتھ قتل کرکے اس کی لاش کو جلا کر خاکستر کر دیا گیا۔
بد بخت قاتلانِ امام حسین رضی اللہ عنہ کے حالات ان لوگوں پر ہرگز پوشیدہ نہیں ہیں۔ جنہوں نے کتبِ تاریخ کا مطالعہ کیا ہے ۔ ہر وہ شخص جو کسی بھی طرح سے قتل امام حسین رضی اللہ عنہ میں شریک تھا یا اس پر راضی اور خوش تھا۔ قیامت کا عذاب جس کے وہ مستحق ہوئے۔ اس سے قطعِ نظر اس دنیائے فانی میں بھی اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچے۔ ہر وہ شخص جو معرکۂ کربلا میں حضرت امام عالی مقام کے مقابلہ کی غرض سے آیا تھا۔ اس دنیا سے عذاب الہٰی میں مبتلا ہوئے بغیر اور اپنے کیے کی سزا پائے بغیر نہیں گیا۔ بعض قتل کر دیے گئے۔ کچھ نابینا ہو گئے۔ بعض کا چہرہ سیاہ ہو گیا۔ کچھ شدت پیاس سے ہلاک ہوئے اور بعض کی دولت و حکومت کچھ مدت میں جاتی رہی۔ بعض دیگر دنیا کے عذابوں میں مبتلا ہوئے۔ سو ان سب کا انجام بہت بھیانک ہوا۔ فلاح پانے والے وہ ہی تھے جو شہید ہو گئے یا بروز قیامت تک اُن کی سیرت اور ارشادات و نصائح پہ عمل پیرا ہوں گے۔ اللّٰہ کریم ہمیں آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H