Article Image

اسمعیل ہنیہ کی شہادت ایرانی اینٹلی جنس کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے

(تحریر عبدالجبار سلہری)
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کِشور کشائی
شہادت ایک ایسا لذت والا مقام ہے جو صرف وہی حاصل کر سکتا ہے جس کے دل میں ایمان ہو۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شہید کو ان گنت اعزازات سے نوازا ہے۔ قرآن پاک ميں اس بات کی تأكيد كى گئى ہے كہ شہید کبھی مرتا نہیں، بلکہ وہ تا ابد زندہ رہتا ہے وه اپنے پروردگار کا مقرب بن جاتا ہے۔ اسےاللہ اپنے پاس سے رزق دیتا ہے۔ وه جنت کی ابدی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔ قرآن و سنت میں شہید کے مقام و مرتبے کے حوالے سے جو ارشادات ملتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں شہید کی عظمت اور شہادت کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند ہے۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے: البقرة آیت 154 اور جو لوگ الله کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں ان کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ عام مردوں کی طرح مردے ہیں ، بلکہ وہ تو ایک ممتاز حیات کے ساتھ زندہ ہیں، لیکن تم ان حواس سے اس حیات کا ادراک نہیں کرسکتے ۔
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی دو جماعتوں کو اللہ نےآگ سے محفوظ کر دیا ہےایک وہ جو ہندوستان سے جہاد کرے گی دوسری وہ جو عیسی ابن مریمؑ کے ساتھ ہو گی۔ اسی جماعت اور راہ کے مسافر اسماعیل ہنیہ 1980 کی دہائی میں حماس میں شامل ہوئے اور ترقی کرتے ہوئے حماس کے ایک سینئر باوقار رہنما بن گئے۔ اسماعیل ہنیہ 29 جنوری 1962 کو غزہ کی پٹی کے شاتی مہاجر کیمپ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم ، مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے چلائی جانے والی تنظیم ’’انروا ‘‘کے زیر انتظام اسکولوں اور پھر 1981 میں غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں ہوئی۔ جہاں وہ عربی ادب کے طالب علم تھے۔ انہوں نے حماس کے ساتھ تعلق استوار کئے۔اسماعیل ہنیہ حماس کی سیاست میں ایک اہم مقام رکھتے تھے۔ ان کے قتل ہونے سے حماس کا بہت بڑا نا قابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ 1988 میں جب اسلامی تنظیم حماس کی بنیاد رکھی گئی تو اسماعیل ہنیہ اس کے بانی ارکان میں سے ایک تھے۔
1988 میں جب اسلامی تنظیم حماس کی بنیاد رکھی گئی۔اس کے مقاصد اسرائیلی قبضے کی مخالفت اور بے گھر فلسطینیوں کی مدد کرنا تھا۔ اسماعیل ہنیہ اس کے نوجوان بانی ارکان میں سے ایک تھے۔ وہ حماس کے روحانی پیشوا شیخ احمد یاسین کے بہت قریب تھے۔ 1988 میں ہنیہ کو اسرائیلی حکام نے حراست میں لیا اور ابتدائی انتفادہ میں ملوث ہونے کی وجہ سے چھ ماہ تک قید رکھا۔ جو کہ اسرائیلی قبضے کے خلاف بغاوت تھی۔ انہیں 1989 میں دوبارہ حراست میں لیا گیا اور 1992 تک وہاں رکھا گیا اس کے بعد ہنیہ کے علاوہ تقریباً 400 دیگر اسلام پسندوں کو اسرائیل نے جنوبی لبنان جلاوطن کر دیا۔ 1993 میں ہنیہ اوسلو معاہدے کے بعد غزہ واپس چلے گئے۔ واپسی پر انہیں اسلامی یونیورسٹی کا ڈین مقرر کیا گیا ۔ 1997 میں حماس کے رہنما شیخ احمد یاسین کے معاون بنے۔ پھر اپنے اخلاق ، کردار ، بہادری ، اعتدال پسندی،صلح روی اور فہم و فراست کی بنا پر آگے بڑھتے رہے۔ دوسری طرف وہ اسرائیل کی آنکھوں میں کھٹکتے بھی رہے۔ اسی دوران ان پر جان لیوا حملے بھی ہوتے رہے۔ اسی درمیان 16 نومبر 2023 کو اپنے ایک پریس ریلیز میں، اسرائیل کی دفاعی افواج نے اعلان کیا کہ غزہ میں ہنیہ کی رہائش گاہ پر اسرائیلی جنگی طیاروں نے حملہ کیا ہے۔ 10 اپریل 2024 کو ہنیہ کے تین بیٹے حازم، عامر اور محمد اس وقت شہید ہو گئے۔ جب ایک اسرائیلی فضائی حملہ نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس سے چند روز قبل ہوئے حملے میں اسماعیل ہنیہ نے اپنے چار نواسے، تین لڑکیاں اور ایک لڑکا بھی کھو دیا تھا۔
7 اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیل اعلان کرتا ہے کہ حماس کے رہنما اسمعیل ہنیہ ان کے لیے مر چکے ہیں۔ کیا یہ کھلی دھمکی نہیں تھی۔ کیا ایرانی حکام اور اینٹلی جنس ایجنسیز اس سے بے خبر تھیں؟ اس قدر ہائی سیکورٹی زون، صدارتی تقریب، انٹیلیجنس ایجنسیوں کے پے درپے حصار، اس حصار میں موجود صیاد کے ہاتھوں کس قدر بے بسی میں اس مرد مجاہد اسماعیل ہانیہ کو شکار کر لیا گیا۔ کیا ایران میں ان کی شہادت ایرانی سیکورٹی اور اینٹلی جنس ایجنسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت نہیں ؟ ایران اتنے بڑے اسلامی لیڈر کو اپنے ہاں دعوت دیتا ہے لیکن ان کی حفاظت نہیں کر پاتا کیا یہ مذاق سے بڑھ کر نہیں؟ اسماعیل ہنیہ کا قتل نہ صرف ایران کے لیے شرمندگی کا باعث ہے بلکہ کیا یہ اس کے سکیورٹی اداروں کی صلاحیتوں پر بھی سوالیہ نشان نہیں ؟
اسماعیل ہنیہ کا قتل حماس تحریک کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ کیونکہ وہ بیرون ملک رہتے ہوئے حماس کی سیاسی قیادت کرنے والی سب سے نمایاں عوامی شخصیت تھے۔ اور حالیہ دنوں میں مارے جانے والے ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپ کے دوسرے رہنما تصور کیے جاتے تھے۔
اور 31 جولائی 2024 کو انھوں نے خود جام شہادت پی کر ابدی نعمتوں والے گھر منتقل ہو گئے۔ یہ حادثہ یقیناً رنج و الم کا سبب ہے۔ ناقابلِ بیان قلبی اذیت کی وجہ ہے لیکن یہ یاد رکھیں کہ فلسطینی آزادی کے لیے جاری تحریک کسی حال میں نہیں رکے گی۔ اس کے قائدین اپنا پورا پورا گھرانہ شہید کروا رہے ہیں۔ ظاہر ہے ایسی قربانیوں کی دھرن سے حریت اور خودمختاری ہی جنم لیتی ہے۔ ایسی تحریکیں قربانیوں کے ذریعے مزید طاقتور ہوتی ہیں نہ کہ کمزور! یہ ایمان کے متوالوں کی ایمانی تحریک ہے کوئی جمہوری، سیاسی پارٹی نہیں ہے۔ یہ غازی اللہ کے پراسرار بندے ہیں۔ اسماعیل ہانیہ جنت میں اپنے آباؤ اجداد کے پاس نعمتوں پہنچ چکے ہیں۔ جہاں وہ اپنے شہید بچوں کے ساتھ ابدی زندگی جیتے رہیں گے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔آمین یارب العالمین۔

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H