حمیرہ بھی مرتد ہوگئی!
خالد سیف اللہ صدیقی
کشمیر سے یہ معاملہ سامنے آیا ہے۔ 18/اگست (2024) کا واقعہ ہے۔ کئی روز سے سوشل میڈیا پر یہ معاملہ گردش کر رہا ہے۔ اس کی پوری کہانی کا تو علم نہیں ؛ لیکن اس کا رجسٹریشن فارم میرے سامنے ہے۔ اس سے بہت کچھ معلوم ہو جاتا ہے۔ رجسٹریشن فارم سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی بہ رضا و رغبت ہندو تنظیم (Sanatan Vedic Samaj Kalyan Sanstha) کے پاس جا کر مرتد ہوئی ہے ، اور اس کے بعد اپنے ہندو عاشق (ساگر پردیپ سنگھ) کے ساتھ شادی رچائی ہے۔
رجسٹریشن فارم سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی کا اسلامی نام "حمیرہ" تھا۔ مرتد ہونے کے بعد اس کا نام بدل کر پورنی (Purni) رکھا گیا ہے۔
رجسٹریشن فارم میں لڑکی سے وعدہ لیا گیا ہے کہ (ہندو بن جانے کے بعد) آئندہ وہ کبھی اپنا مذہب تبدیل نہ کرے گی۔ آخر میں لڑکی کے دستخط ہیں۔
ہندو تنظیم کی یہ ہمت دیدنی ہے کہ وہ دیگر مذاہب کے لوگوں کے مذہب تبدیل کرانے کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن فارم بنائے بیٹھی ہے ؛ حالاں کہ مسلمان اگر کسی ہندو کو اس کی رضامندی کے باوجود بھی داخل اسلام کر لے ، تو ہنگامہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اگر ان کی ہمتیں اسی طرح بلند ہوتی رہیں ، تو بعید نہیں کہ کل کو یہ کھلم کھلا مسلم لڑکیوں اور مسلم معاشرے کو ہندو دھرم کی دعوت دینے کی پوزیشن میں ہو جائیں۔
لڑکی کے ارتداد کی اصل کہانی سے میں چوں کہ ناواقف ہوں ؛ اس لیے کوئی مناسب حال رائے مشورہ دینے سے عاجز ہوں۔ ہاں ، ارتداد کے جو عمومی اسباب آج کل ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں ، ان سے الگ کوئی سبب اس واقعے کا باعث نہ ہوگا۔
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H