کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

سنوسنو!!

کوئی بتلاؤکہ ہم بتلائیں کیا؟

(ناصرالدین مظاہری)

مجھ سے ایک طالب علم کی ماں نے فون کرکے اپنے لڑکے کی شرارتوں، بدمعاشیوں اورنافرمانیوں کاشکوہ کیا،خوب رونا رویا،میں نے کہاکہ دیکھئے محترمہ! آپ کالڑکا میرے پاس پڑھتاہے ،تعلیم کے دوران مجھے آپ کالڑکا بالکل پریشان نہیں کرتا،اپنے اسباق بھی پوری تیاری اورہوشمندی کے ساتھ سناتاہے ،یعنی چھ گھنٹے میں مجھے آپ کے لڑکے سے کوئی شکایت کبھی نہیں ہوئی ،جب آپ کالڑکا میرے پاس بالکل پرسکون اورشریف رہتاہے تومیں توتعریف ہی کروں گااورآپ کے ماحول میں پہنچ کرآپ لوگوں کے رنگ میں رنگ کراگرآپ کوپریشان کرتاہے تواس میں میراکیاقصورہے؟ماں بولی کہ نمازمیں کوتاہی کرتاہے ،میں نے کہاکہ بچے کے والدین اگرنمازمیں کوتاہی کریں گے تویہ بھی کرے گااوروہ پابندی کریں گے تویہ بھی کرے گا۔

ارتداد کے جوواقعات پولیس،کورٹ ،کچہری اورمیڈیا وغیرہ میں آگئے توہم نے کچھ دیرکف افسوس مل لیا،زیادہ ہواتوایک آدھ جملہ اورکلمہ اپنی زبان سے اداکردیا،اس سے بھی زیادہ ہواتوایک بیان داغ دیا،مزیددل کوسکون پہنچاناہواتوکسی نہ کسی کوقصور وار گردان کرخودکوپرسکون کرلیا۔یعنی ہرصورت میں غلطی کسی اورکی ہے ۔

پہلے ہمارے دماغ میں یہ آیا کہ ہماری بچیاں دینی تعلیم کے حصارسے اوپراٹھیں اور’’اعلیٰ‘‘تعلیم کے لئے گھروں سے نکلیں ،ہم نے خودہی اپنی بیٹیوں کودوردرازاسکولوں،کالجوں اورمدرسۃ البنات میں داخل کرادیا،اپنے من کو خوب سمجھایاکہ جس طرح بیٹے کے لئے تعلیم ضروری ہے بالکل اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ بیٹی کے لئے بھی تعلیم ضروری ہے،یہی سوچ کرہم نے اپنی شہزادیوں کوتعلیم کے لئے سفرکی اجازت دیدی،ہم نے یہ سوچاکہ میری بیٹی کبھی میری ناک نہیں کٹوائے گی،میری بیٹی بڑی شریف ہے،میری بیٹی کی تعلیم وتربیت میں میرا عمل دخل ہے ،میری بیٹی اتنی نیک اور شریف ہے کہ کسی نے اس کاچہرہ نہیں دیکھاہے ،لیکن ایک دن جب باپ اپنی بیٹی کولینے کے لئے کالج پہنچاتوبیٹی کی سہیلی نے بتایاکہ فرحانہ اپنے کلاس فیلوکے ساتھ کینٹین میں ہے ،اس وقت احساس ہواکہ اچھافرحانہ اتناآگے نکل چکی ہے ،لیکن دل نے بہکایا،سمجھایاکہ کالجوں میں تویہ نارمل بات ہے ،کلاس فیلوسے فرینڈشپ کوئی بری بات نہیں ہے ،نوٹس کے تبادلے، ہوم ورک میں تعاون،ایگزام میں مشورے اورمطالعہ کے سلسلہ میں ڈسکس یہ توہرکالج میں عام بات ہے ۔بس یہی سوچ ہماری بیٹی کے لئے ’’تباہی ‘‘ کاذریعہ بن گئی ،جوان دل ،جوان خون ،جوان نظریں کب ایک دوسرے کے لئے دھڑکنے لگیں،کب ایک دوسرے کے لئے گرم ہونے لگیں،کب ایک دوسرے کے لئے ’’بدل‘‘جائیں کچھ نہیں کہاجاسکتاہے ۔

کالجوں میں اوریونیورسٹیوں میں تومخلوط نظام ہوتاہے اس لئے اگرکوئی لڑکایالڑکی وہاں بہکی تووجہ سمجھ میں آتی ہے ،لیکن جامعات البنات کانظام توبالکل الگ تھلگ ہوتاہے ،وہاں توپرندہ بھی پرنہیں مارسکتااورکمال تویہ ہے کہ جامعات البنات میں توہرروز پردے کی اہمیت بیان ہوتی ہے ،روزدینی لیکچرہوتے ہیں،روزقرآن واحادیث کی تعلیم ہوتی ہے ،روزعفت وعصمت کی حفاظت کے دروس ہوتے ہیں پھرکس طرح دینی تعلیم حاصل کرنے والی بچیاں بہک رہی ہیں،کیوں وہ غیروں کے دام اورفریب میں پھنس جاتی ہیں ،کس طرح انھیں یہ سب ’’کھیل‘‘کھیلنے کاموقع مل جاتاہے،ان کی نگرانی میں کس سے کمی ہوئی ہے،ان کی تعلیم میں آخرکیاکوتاہی ہوئی ہے ،کیونکر لڑکی نے اتناانتہائی قدم اٹھایاہے کہ بجائے مسلمان کے غیرمسلم کے ساتھ راہ فرار اختیارکرنے کافیصلہ لے لیا،کیونکر اپنادین،اپنی تہذیب اور اپنا ایمان سب کچھ قربان کرکے کافرہوگئی،کس طرح اس نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرتی بیان دے کرپورے اسلام پرسوالیہ نشان لگادیا؟جواب ہے آپ کی دیوثی اورآپ کی روشن خیالی ۔

آج ہی ایک وکیل صاحب سے ملاقات ہوئی،میں نے ان سے کہاکہ آپ اپنے مؤکل کوصرف اتنی بات سمجھادیاکریں کہ بھائی !آپس میں صلح ومصالحت کرلیاکروتواس میں تم دونوں بھائیوں کافائدہ ہے ورنہ یہاں پہنچ کرتمہارے مکان کی کڑیاں فروخت ہوجائیں گی،ہوناکچھ نہیں ہے ،برباد دونوں ہوجاؤگے۔وکیل صاحب نے آہ سردبھری اوربولے کہ میں نے یہ کوشش شروع کی تھی لوگوں نے میرے پاس کیس لاناچھوڑدیاکہ یہ توبس یہاں بھی دینی باتیں پھیلانے کی کوشش کرتاہے ۔پھروکیل صاحب کہنے لگے کہ جوگھرانے اپنے آپ کوزیادہ اپڈیٹ سمجھتے ہیں،اپٹوڈیٹ کہلاتے ہیںروشن خیال تصورکرتے ہیں ان کے گھریلوحالات بہت خراب ہیں،ان کی بیٹیاں زیادہ ترغیرمسلموں سے شادیاں کررہی ہیں ،میں نے بعض بچیوں سے کہابھی کہ بیٹی تم مسلمان ہواورجس کے ساتھ تم نکاح کرناچاہتی ہویہ تودلت ہے، بھنگی ہے یاکافر ہے تواس لڑکی نے کہاکہ یہ سب فرسودہ چیزیں ہیں،انسان انسان ہے مذہب کیاہوتاہے ،مذہب وغیرہ کی باتیں قدیم ہوچکی ہیں ۔وکیل صاحب کہنے لگے کہ اصل میں عشق اورعاشقی کرنے والی ایک ٹیم ہے ،وہ لڑکیوں سے کسی نہ کسی بہانے سے موبائل نمبرلے کربات چیت شروع کرتے ہیں، پہلے نارمل باتیں ہوتی ہیں پھررفتہ رفتہ عشق کی پینگیں بڑھائی جاتی ہیں اورجب عشق کاجادوسرچڑھ جاتاہے تب مذہب بیزاری اوردین بیزاری پربات پہنچتی ہے،لڑکی عشق کے خمارمیں اتنی مست ومگن ہوچکی ہوتی ہے کہ اسے اپنے عاشق کی ہربات صحیح محسوس ہوتی ہے اورعقل کی اندھی یہ نہیں سوچتی کہ جب مذہب کچھ نہیں ہے توہندریت ورواج کے مطابق نکاح کیسے ہورہاہے؟ہندوانہ نام کیوں رکھاگیاہے؟

وکیل صاحب کہتے ہیں کہ اب حالات بہت نازک ہوچکے ہیں ،ارتدادکایہ سیلاب جولڑکیوں کے ذریعہ پھیل رہاہے یہ رکنے کانام نہیں لے رہاہے کیونکہ لڑکیوں کے والدین اب بھی روشن خیالی اور’’ہائی سوسائٹی‘‘کے دلدادگان میں سے ہیں ۔انھیں ان چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتاہے کہ ان کی شہزادی کافر سے عشق کررہی ہے یاشادی کررہی ہے۔اسی لئے آپ کسی بھی امیر مسلم گھرانے میں جھانکنے کی کوشش کریں گے توآپ کوایک ایساماحول ملے گاجہاں کفرمختلف شکلوں اورمختلف عقلوں پر قبضہ جمائے ہوگا۔یہ سیلاب کیسے رکے گا،کب رکے گا،کیونکررکے گا،کچھ سمجھ میں نہیں آتاع۔

کوئی بتلاؤکہ ہم بتلائیں کیا

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H