غیر اہم کی اہمیت

سنو سنو!!

کبھی کبھی غیر اہم بھی بہت اہم ہوجاتا ہے

میں اپنے استاذ حضرت مولانا انعام الرحمن تھانوی کو دیکھتا کہ مدرسہ کے شعبہ نشرواشاعت میں جو بھی کتابیں، رسائل، جرائد آتے تو حضرت مولانا پہلی فرصت میں ایک کام کرتے، بنڈل کو کھولتے، رسی کو الگ کرلیتے، اس کے لفافہ کو اس حساب سے چاک کرتے کہ اس کی پشت کا سادہ حصہ رف کاموں میں استعمال کے لائق ہوجاتا اور مولانا تمام خطوط، مضامین، مدرسہ کے لئے تحریری امور پہلے اسی لفافہ کی پشت پر لکھتے، پھر پڑھتے، جو چیز کاٹنے کے لائق ہوتی تو کاٹ کر مضمون کو درست کرکے پھر صاف کاغذ پر نقل کرتے۔
میں نے کہا کہ حضرت یہ کام مجھ سے نہیں ہوپاتا ہے بلکہ اگر کاغذ کی ایک طرف کچھ چھپا ہوا ہو یا لکھا ہوا ہو تو اپنی سائٹ پر لکھتے وقت ذہن ہی کام نہیں کرتا ہے۔ فرمایا میاں تم نے دیکھا ہی کیا ہے ، ہم نے مدرسہ کا غربت کا دور دیکھا ہے، 35روپے تنخواہ تھی وہ بھی کچھ بزرگوں کو زیادہ لگتی تھی، سب سے پہلی بار برما سے بجلی کے پنکھے مدرسہ کے لئے آئے تو ایک بزرگ نے مدت تک لگنے نہیں دئے کہ ایک تو اس کا بل آئے گا دوسرے لوگ آرام پسند ہوجائیں گے۔ مولانا کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ پھولوں کی قدر اس شخص کو ہوتی ہے جس نے ایک عمر کانٹوں میں گزاری ہوتی ہے، انگور کی لذت وہ کیاجانے جو ہر وقت انگوروں میں رہتا ہے، انگور کی لذت تو اس یتیم اور بے سہارا بیوہ سے پوچھو جن کا دنیا میں کوئی پرسان حال نہیں رہا۔

مولانا نے فرمایا کہ خلیلیہ شاخ گھنٹہ گھر کے پاس واقع ہے وہاں سے مدرسہ اور مدرسہ سے شاخ جانے آنے والے پیدل جایا کرتے تھے کیونکہ وہ اتنا صرفہ برداشت نہیں کرسکتے تھے نہ ہی مدرسہ اس کا الاؤنس دیتا تھا۔

میں نے ذکر کیا کہ مولانا وہ رسی بھی کھول کر ایک گولہ بنالیتے تھے اور اپنی الماری میں احتیاط سے رکھ لیتے تھے، میں نے کئی بار کہا بھی کہ حضرت یہ مستعمل ستلی (رسی) کمزور ہوجاتی ہے دوبارہ استعمال کے لائق نہیں رہتی، فرمایا کہ میاں تم کیا جانو اس رسی کی قدر۔ چنانچہ مجھے بھی ایک دفعہ اس کی قدر معلوم ہو ہی گئی، ہوا یہ کہ رسالہ آئینہ مظاہرعلوم طبع ہو کر آیا تو ڈاک کی تیاری شروع ہوگئی، ڈاک کا کام مکمل ہوگیا لیکن اب کہیں دکان پر بنڈل باندھ کر بڑے ڈاک خانہ پہنچانے کے لئے رسی نہیں مل سکی، جس دکان پر پوچھا تو جواب ملا نہیں ہے، میں جھنجھلاہٹ کاشکا ہوگیا، اسی کیفیت میں دوپہر کو دفتر پہنچا تو مولانا میرے چہرے کے نقوش سے میری پریشانی بھانپ گئے پوچھا کیا حال ہے؟ میں نے کہا کہ حضرت بنڈل باندھنے کے لئے رسی ہی نہیں ملی، کل اتوار ہے، رسالہ تاخیر سے پہنچے گا، مسکرائے، الماری کھولی اور بڑا سا گولہ ستلی کا نکال کر میرے سامنے رکھ دیا۔ میں اس دن اتنا محجوب اور شرمندہ ہوا کہ کیا بتاؤں، مولانا نے ایک حرف نہیں کہا، بس ان کے لبوں کی مسکراہٹ مجھے شرمندہ کئے دے رہی تھی، فرمایا کہ ڈبل کرکے بنڈل باندھ لو۔

میری والدہ کی ایک عادت تھی کہ وہ پلاسٹک کی تھیلیاں کوڑے دان میں نہیں پھینکتی تھیں اور کہتی تھیں کہ وقت ضرورت یہ تھیلیاں بہت کام آتی ہیں۔ حکومت نےتھیلیوں پر نئی نئی پابندی لگائی تھی چنانچہ ان ہی دنوں میں ایک بار قربانی کے دن قربانی کاگوشت تقسیم کرنے کے لئے تھیلیاں دکان سے نہیں ملیں تو والدہ نے وہی مختلف سازی کی تھیلیاں نکال دیں اور کہا کہ ان سے کام چلالو۔

بڑھتی عمر کے ساتھ تجربات بھی بڑھ جاتے ہیں،چلتے چلتے میرا اپنا ایک واقعہ جھیلتے چلیں:میرا ایک لکھیم پوری دوست میرے ساتھ لکھیم پور جا رہا تھا، اس نے ایک عمدہ سا کمبل گھر کے لئے خریدا اور مجھے دکھایا بھی، میں نے کہا کہ کمبل کا لفافہ بہت کمزور ہوتاہے یہ گھر تک نہیں پہنچے گا اور کمبل لفافہ سے باہر نکل جائے گا پھر سمیٹنا مشکل ہوجائے گا، انھوں نے میری بات نہیں مانی اور اسی طرح کمبل لے کر اسٹیشن کی طرف چل پڑے۔ ادھر میں نے اپنا ایک ازار بند اپنے بیگ کی جیب میں رکھ لیا محض یہ سوچ کر کہ کمبل کا لفافہ تو پھٹ ہی جائے گا تب اس کو چاروں طرف سے لپیٹنے کے لئے یہی ازار بند کام آئے گا، "داشتہ آید بکار" اسٹیشن پہنچ گئے، جنرل ڈبے سے ایک بھیڑ نکلتی دکھائی دی، جب ساری بھیڑ نکلنے والوں کی اترگئی تو میرے دوست مجھ سے آگے تھے، ابھی ٹرین کے اندر دو ہی تین قدم بڑھائے تھے کہ ایک نوجوان تیز رفتاری سے باہر نکلنے کے لئے بھاگا اور اس طرح وہ نوجوان کمبل سے ٹکرایا اور کمبل چشم زدن میں گیلری میں پھیل گیا۔

وہ کہنے لگے ارے یار یہ تو بڑی علت ہوگئی، آپ نے صحیح مشورہ دیا تھا رسی سے لپیٹ لیتا تو یہ سب نہ ہوتا، میں نے کہا کہ میری عادت ہے کہ میں ہمیشہ ایک بار مشورہ دیتاہوں مان لیا توٹھیک نہ مانا تو بھی ٹھیک۔ یہ کہہ کرمیں نے اپنے بیگ کی جیب کھولی اور ازار بند دیا، ازار بند دیکھتے ہی ہنسے اور بولے لے کر چلتے ہو؟ میں نے کہا صرف اسی حادثہ کے ہیش نظر حفظ متقدم کے تحت رکھ لیا تھا۔

باتیں بہت چھوٹی ہیں لیکن وقت ضرورت بہت اہم ہوجاتی ہیں، بھائی قاسم دفتر والی مسجد میں خادم تھے، ان کے سامنے ایک دفعہ میں نے امرود منگوا لئے، اب مسئلہ چھری کا تھا، دفتر میں چھری ندارد، قاسم بھائی مسکراتے رہے اور پھر بولے بڑے بزرگ صحیح کہتے ہیں کہ چاقو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھو پھر توکل کرو۔ چنانچہ اپنی جیب میں پاٹھ ڈالا اور ایک خوبصورت چاقو ان کے ہاتھ میں تھا۔

دوران سفر ایک گلاس، ایک ازار بند، ایک جوڑی اضافی کپڑے،ایک چمچ، کھلے پیسے وغیرہ ضرور رکھیں یہ چیزیں بقامت کہتر بقیمت بہتر بھی ہیں، کیا پتہ کب کس چیز کی ضرورت نکل آئے۔

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H