سوا سو سال پہلے چینی علماء کی کانپور آمد
محمد سعد خاں ندوی کانپور
امام و خطیب مسجد رئیس باغ
تلک نگر کانپور
14 اگست کو استاذ محترم حضرت مولانا فیصل بھٹکلی ندوی (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء) کا فون آیا کہ ایک چینی عالم کانپور آئے تھے اور ان کی مزار بھی وہیں ہیں انکی تاریخ وفات، نام اور کتبہ کی فوٹو چاہیے
مجھے تو اس کی اطلاع نہیں تھی اس لیے کانپور کے وہ لوگ جن کے بارے میں یقین تھا کچھ جانتے ہوں گے ان کو میسج کیا لیکن کہیں سے کوئی اطلاع نہیں ملی پھر یاد آیا کہ چند دن پہلے عثمان قریشی صاحب (قومی تنظیم) کہہ رہے تھے کہ علماء چین کا ایک وفد کانپور آیا تھا اور یہیں مدفون ہیں کسی دن چلیں گے اور آپ دونوں (دوسرے محمد داؤد دینک جاگرن)کو قبریں دکھائیں گے جب کسی سے کوئی اطلاع نہیں ملی تو عثمان بھائی کو فون کیا اور ان سے پوچھا، جس طرح انہوں نے بتایا وہاں پہنچے تو واقعی عربی میں کتبہ لگا ہوا تھا اور دوسری جانب چینی زبان میں لگا ہوا تھا، مولانا کو فوٹو بھیجی کہ یہی وہ عالم ہیں تو معلوم ہوا کہ یہی ہیں، یہاں پر ایک صاحب سے معلوم ہوا کہ بساط خانہ کے کوئی صاحب ہیں جنکے پاس مزار کی چابی ہے وہ جمعرات اور جمعہ کو آتے ہیں البتہ یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون صاحب ہیں اور ان کا مکان کہاں ہے۔
ان غیر ملکی مسلمانوں میں ممتاز چینی عالم مولانانور الحق کا نام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے ، جو اپنے ملک کے ایک ممتاز اور مشہور عالم ہونے کے باوجود اہل حق کی جستجو میں نکل کھڑے ہوئے ، حج کے ارادہ سے چلے تھے لیکن کوئی جذب اندروں کشاں کشاں ہندوستان لے آیا، اور بالآخر مولانا کے یہاں حاضر ہو کر اپنی ساری زندگی یہیں گزار دی۔ ان کی ملاقات مولانا سے کانپور میں ہوئی تھی۔ مولانا کے متعلق فرماتے ہیں کہ کبھی دو منٹ بھی ان کو ضائع کرتے نہیں دیکھا گیا، ان کو دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ ہمارے اسلاف کی روش اور طریقہ یہی ہوتا ہوگا مصنف "کمالات محمد یہ “ نے ان کا ذکر کرتےہوئے لکھا ہے۔ ملک چین کے رہنے والے اور وہاں کے مشہور اور مستند علماء میں سے تھے ، ان کی ذات سے اس ملک ( چین ) میں بہت فیض ہوا، تقریبا دو ہزار طلبہ نے آپ سے علوم عربیہ پڑھا، بہت معزز خاندانی عالم تھے، کسی وقت آپ کے اجداد فغفور چین کے وزیر تھے۔ مکان سے حج کے ادارہ سے چلے ، صاحب تصانیف تھے، بعض تصانیف چھپوانا بھی چاہتے تھے، سلوک باطنی کا بھی شوق تھا، اس وقت حضرت اقدس کانپور میں رونق افروز تھے ، آپ وہاں تشریف لائے اور حضرت ﷺ کے پاس مسجد دلاری میں قیام فرمایا۔ خاندان نقشبندیہ میں آپ مرید ہوئے اور تعلیم سے سرفراز ہوئے اور ایک سال تک ایسی محنت کی کہ لوگ متحیر ہو گئے ۔ حضرت اقدس فرماتے تھے کہ کبھی نہ دیکھا کہ دو منٹ بھی کسی فضول بات کی ہویا کسی طور اپنا کوئی وقت ضائع کیا ہو۔ شب کو بعد عشاء لیٹ رہتے تھے اور ٹھیک ۱۲ بجے اٹھ کر تہجد و وظائف میں مشغول ہو جاتے تھے ، اشراق کی نماز تک یاد خدا میں مشغول رہتے تھے ۔ چاشت کی نماز کے بعد فورن پڑھانے بیٹھ جاتے، دو طالب علم چینی ہمراہ تھے انہیں پڑھاتے، پھر شرح وقایہ کا حاشیہ لکھتے تھے اور اسے چھپوانا چاہتے تھے، کیونکہ چین کے علماء میں یہ کتاب نہایت مستند داخل درس ہے علم حقائق و تصوف میں آپ کی کتاب ”شرح الطائف“ میں نے حضرت کے کتب خانہ میں دیکھی ہے حضرت یہ ان کی نسبت فرماتے تھے کہ یاد گار سلف تھے ان کی حالت دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ ہمارے بزرگوں کا یہ طریقہ اور یہ روش ہو گی ، انہوں نے اپنی عمر میں اس قدر کام کئے کہ سمجھ میں نہیں آتا، آپ کا انتقال کانپور ہی میں ہوا۔ بحوالہ سوانح علماء دیوبند ص 338 (حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری)
کتبہ میں درج عبارت جو معلوم ہو سکی "شیخ علماء الصین مولانا عبد الحلیم الحاالسج بن نور الحق بن السید لقمان الصینی الینای السھینی الصینی مسکنا فضل رحمانی المجددی“
فی ثمانیہ عشر یوما من ربیع الأخر ١٣٢١ ھ
تکیہ بساطیان قبرستان اور آس پاس کے قبرستان قلب شہر میں ہونے کے باوجود بہت بڑے رقبے میں موجود ہیں اور ان کی تاریخی حیثیت بھی بہت قدیم ہے اسکی مکمل ایک تاریخ لکھنے کی ضرورت ہے یہاں پر اکثر علماء و اولیاء مدفون ہیں جیسے کہ استاد زمن استاذ الاساتذہ حضرت مولانا احمد حسن کانپوری، حضرت مولانا مشتاق احمد کانپوری، مخدوم عبداللطیف شاہ گوشہ نشین، حضرت مکو میاں، حضرت اللہ نواز، حضرت نثار احمد، حضرت مولنا حافظ قاری الحاج ظفر الدین احمد نور اللہ مرقده، حافظ قاری فاروق احمد، حضرت صوفی شاه مسرت علی چشتی نظامی وغیرہ وغیرہ
بقول استاد محترم کے آپ لوگ کانپور آئے اور یہیں مقیم ہوگئے بڑے فاضل شخص تھے، شرح وقایہ کا حاشیہ لکھا جو کانپور ہی سے شائع ہوا تھا اور ان کا انتقال بھی کانپور میں ہی ہوا
شرح الوقایہ بقول وکیپیڈیا کے کہ شرح الوقایۃ پورا نام عمدۃ الرعایہ فی شرح الوقایہ ہے جس کی شرح عبد الحي لکھنوی نے عمدة الرعایہ لحل شرح الوقایہ کے نام سے کی ہے اور یہی نسخہ اب دستیاب ہے، فقہ حنفی میں اس کتاب کو اہل علم کے یہاں بڑی پزیرائی حاصل ہوئی اور اس پر کئی شرحیں اور حاشیے لکھے گئے، درس نظامی کے نصاب میں شامل ہے۔
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H