Article Image

ٹوپی کے تقدس کومجروح مت کیجیے!

سنو سنو!!

ٹوپی کے تقدس کو مجروح مت کیجیے

(ناصرالدین مظاہری)

تحصیل بہٹ ضلع سہارنپور کی طرف سے ایک پرائیوٹ بس آرہی تھی، یہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا، ظاہر ہے ہر بس میں مختلف مذاہب کے لوگ ہوتے ہیں، ان ہی لوگوں میں ایک ایسامسلمان بھی سوار تھا جس کے سر پر باقاعدہ ٹوپی موجود تھی ، یہ مسلمان دن ہونے کے باوجود مسلسل کچھ کھائے جارہا تھا ، ایک صاحب کی غیرت جاگی، اس کی ٹوپی پر جھپٹا مارا، ٹوپی اس کے سر سے اتار کر بس سے باہر پھینک دی اور غضب ناک آواز میں کہا کہ" اب جتنا کھانا ہے کھالے، ٹوپی پہن کر ٹوپی کی کیوں بے عزتی کررہاہے"۔

مجھے خوب یاد ہے اس وقت تک بسوں اور ٹرینوں میں بیڑی سگریٹ پر پابندی عائد نہیں ہوئی تھی، میں ایک پیسنجر ٹرین میں سوار ہوکر ایک سیٹ پر جا بیٹھا، وہاں پہلے سے کچھ غیرمسلم بیٹھے ہوئے ہوئے تھے، ایک غیرمسلم بیڑی پی رہا تھا اس نے جیسے ہی مجھے دیکھا تو بیڑی کو اپنے پاؤں سے مسل دیا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ غیرمسلم ہوکر بھی روزہ اور روزہ دار کی قدر کررہاہے۔ اور ہمارے ہی بھائی لوگ ایسے بھی ہیں جو رمضان المبارک میں روزہ تو دور کی بات ہے روزہ داروں کے سامنے جانوروں کی طرح بے تکلف کھاتے پیتے رہتے ہیں۔

میں ٹوپی پھینکنے والے مسلمان کے اس جذبہ کی قدر کرتا ہوں، حمایت کرتا ہوں اور صاف صاف عرض کرتا ہوں کہ بلا کسی عذر کے خدا کی نافرمانی کرنے والا اس لائق ہی نہیں کہ اس کی کسی بھی طرح تکریم کی جائے۔

ہمارے لوگ بھی بالکل نہیں سمجھتے کہ ان کی ذات سے صرف وہ بدنام نہیں ہوتا بلکہ اس کی وجہ سے اسلام پر انگشت نمائی اور تنقید کو لوگ مشغلہ بنالیتے ہیں۔

ایک حاجی صاحب تھے، دفتر مظاہرعلوم وقف کے پڑوسی تھے، وہ ہمیشہ دفتر کے بیت الخلاء اور پیشاب خانے کا استعمال کرتے تھے نہ صرف استعمال کرتے تھے بلکہ اس زمانے میں مدرسہ میں طہارت اور نظافت کے لئے باقاعدہ مٹی کے ڈھیلے بھی رکھے جاتے تھے، وہ صاحب ایک ہاتھ سے اپنا پاجامہ پکڑے اور دوسرے ہاتھ سے استنجا خشک کرتے باہر نکل آتے اور جدھر جانا ہوتا بے تکلفی کی ساتھ چلے جاتے بلکہ ان کا عام معمول تھا وہ اسی کیفیت میں پرانی عیدگاہ تک چلے جایا کرتے تھے۔

کئی احمق اب بھی ایسے مل جائیں گے جو پیشاب خانہ میں پیشاب کرنے کے بعد پاجامہ باہر آکر باندھتے ہیں۔

بہت لوگ پیشاب خانے میں داخل ہونے سے پہلے ہی پاجامہ کھولنے یا لنگی چڑھانے لگتے ہیں۔ حالانکہ یہ چیز خود انسانی مزاج، تہذیب، تربیت اور اس کی ثقافت کے بھی خلاف ہے۔

خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اور ہدایات ہمارے سامنے ہیں ۔

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أراد الحاجة لا يرفع ثوبه حتى يدنو من الأرض (سنن أبي داود۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے، تو اپنا کپڑا (ازار، لنگی وغیرہ) نہیں اٹھاتے، یہاں تک کہ زمین کے قریب ہو جاتے۔

سوچیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر پردہ کا اہتمام فرماتے تھے اور ہم سے کس قدر کوتاہی ہوتی ہے۔

اگر آپ کے سر پر ٹوپی ہے، چہرے پر داڑھی ہے، لباس اسلامی ہے تو کچھ تقاضے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ انسان ان چیزوں کی وجہ سے بھی شرم و حیا کرلیتا ہے بلکہ یہ چیزیں انسان کو غلط کاریوں، فحاشیوں، بدکلامیوں، بدکاریوں سے روکنے کا سبب بھی بنتی ہیں۔

کتنی عجیب بات ہے کہ آپ جب تک اپنوں میں ہیں تب تک نہ لباس کا فکر نہ ٹوپی کا خیال لیکن جیسے ہی آپ اپنے رکشہ پر پہنچے تو سر پر ٹوپی رکھ لی ، یہ بھی دیکھا جارہاہے کہ اللہ تعالی نے اچھی گاڑی عطا فرمادی تو پینٹ کوٹ میں گاڑی چلائیں گے تب کرتا پاجامہ ٹوپی یاد نہیں رہتی، فضائی سفر پر جائیں گے تو ٹائی بھی بڑھ جاتی ہے۔

میں نہیں کہتا کہ رکشہ چلانا غلط ہے، یا موچی یعنی کفش دوزی نہیں کرنی چاہیے، یا رنگ ریزی معیوب چیز ہے ، یا حالی یعنی قلی کا پیشہ نہ اپنائیں آپ کوئی بھی کام کریں لیکن وہ پیشے جو معاشرہ میں باعزت نہیں سمجھے جاتے یا انھیں آپ بہ نظر حقارت دیکھتے ہیں ایسے مواقع پر ٹوپی کا استعمال ٹوپی کی توہین کے مرادف ہے۔

میں نے ایک صاحب کو دیکھا بات بات میں گالی دے رہے تھے، چہرہ پر داڑھی بھی تھی، سر پر ٹوپی بھی تھی، اتفاق سے کرتا پاجامہ بھی زیب تن کئے ہوئے لیکن زبان سے ہفوات جاری۔ میں نے کہا کہ آپ کا حلیہ آپ کی اس زبان سے میل نہیں کھاتا، حلیہ اللہ والوں کا ہے اور زبان شیطان کی ہے۔ دورنگی چھوڑ دیجیے، یک رنگی اختیار کیجیے، پورے پورے اسلام میں داخل ہوجائیے ، اللہ تعالی کو یہ پسند نہیں ہے کہ بندہ اسی زبان سے میرا پاک نام لے اور اسی زبان سے غلیظ چیزیں نکالے۔

آپ کے ہر عمل کر لوگ اسلام سے جوڑتے ہیں، آپ کی ہر بات کو لوگ تولتے ہیں، لوگ ہماری باتوں اور ہمارے عمل میں تضاد تلاش کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، پورا کفر اسلام کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کی منصوبہ بندی کررہاہے ایسے حالات میں ہمیں اور بھی سنت پر عمل کرنا چاہیے، سنت والی زندگی اختیار کرنی چاہیے ، تاکہ ہماری ذات اسلام کی بدنامی کا ذریعہ نہ بنے۔

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H