دو گھنٹے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں
میں تقریبا بیس بائیس سال پہلے ایک کام سے علی گڑھ گیا، مسلم یونیورسٹی کے ایک کیمپس سلیمانیہ میں ایک دوست کے پاس پہنچا، اس دوست کے دو ایک ساتھی اس سے ملنے آئے، دروازے پر دستک دے کر نام بتا کر اندر آنے کی اجازت بڑی شرافت اور متانت سے لی۔ کمرہ میں جب تک وہ لوگ رہے بہت ہی تہذیب اور سلیقہ کی باتیں کیں۔ پھر وہ لوگ چلے گئے، نماز عشاء پڑھنے کے لئے ہوسٹل کی عظیم الشان مسجد میں پہنچے تو یقین کریں جماعت سے کافی پہلے پوری مسجد کھچا کھچ نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ نماز کے بعد میں نے خاص طور پر دھیان رکھا کہ سنتوں کا اہتمام کتنا ہے، آپ کو حیرت ہوگی کہ تمام لوگ سنت ونوافل میں لگے رہے ایک بھی نہیں نکلا۔ نماز کے بعد بھی نکلنے والوں کا تناسب بہت کم تھا، میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ اب تک اندر کیوں بیٹھے ہیں، اس نے جواب دیا کہ کسی اور کیمپس سے جماعت آئی ہے اس لئے یہ سارے ہی لوگ جماعت والوں کا دینی پیغام پیغام سنیں گے اور پھر اگلے نظام کا تعین بھی کریں گے۔
چپل جیسے رکھے تھے ویسے ہی رکھے ملے،نہ روندے گئے، نہ لاتوں سے مار کھاکر دور گئے، نہ ترتیب بگڑی، جو بھی بندہ قریب سے گزرا اس نے سلام ضرور کیا۔ میں سوچتا رہا کہ میں کسی یونیورسٹی میں ہوں یا کسی خانقاہ کے زیرانتظام مسجد اور مدرسہ میں۔
(ناصرالدین مظاہری)
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H