15/اگست : کیا کریں کیا نہ کریں

سنو سنو!!

15/اگست کے دن کیا کریں؟

(ناصرالدین مظاہری)

پندرہ اگست کو بھارت کی انگریزی استعمار سے آزادی اور گلو خلاصی کا دن مانا جاتا ہے، آزادی پانے کے لئے ہمارے بزرگوں نے طویل ترین مجاہدے کئے تھے، انگریزی استعمار کو ختم کرنے کی پلاننگ کی تھی، جگہ جگہ انگریز سے جنگیں لڑی تھیں، لاکھوں جانیں اس تحریک میں قربان ہوئی ہیں اس لئے آزاد حکومت کامیابی والے دن یعنی 15/اگست کو پورے ملک میں تعطیل کرتی ہے، اسکولوں، کالجوں، مدرسوں، یونیورسٹیوں ہرجگہ اس تعلق سے طرح طرح کے پروگرام ہوتے ہیں۔

مسلمان تو قربانیوں کو یاد رکھنے میں اب بھی بہت مخلص ہیں لیکن غیر مسلم حضرات کاایک بڑا طبقہ جس میں افسران ملک سے سربراہان ملک تک سبھی شامل بلکہ ملوث ہیں انھوں نےمنصوبہ بندی کے ساتھ مسلم مجاہدین آزادی کے نام اور کام کا تذکرہ کرنا اور نصابی کتابوں میں ان کا تذکرہ لکھنا بالکل چھوڑ دیا، نتیجہ یہ ہوا کہ اسکولوں اور کالجوں میں پڑھ کر نکلنے والی مسلم نسل اپنے ہی بزرگوں کی قربانیوں سے واقف نہیں ہے۔

* اس لئے آپ اپنی نسلوں کو اپنے بزرگوں کی قربانیوں، جدوجہد آزادی میں ان کی حصہ داریوں، ان کی شہادتوں اور سرفروشانہ کارناموں کو ہندی و انگریزی زبانوں میں بھی لکھ کر شائع کریں تاکہ وہ بڑا طبقہ جو اردو کے علاوہ ہے وہ بھی جان سکے اور خود ہمارا مسلم طبقہ جو صرف ہندی یا انگریزی جانتا ہے وہ بھی جان سکے کہ ہمارے بڑوں نے کتنی بڑی لڑائیاں انگریزوں سے لڑی ہیں۔

* 15/اگست کو سب سے پہلے نماز فجر سے فارغ ہوکراپنے اسلاف اور مجاہدین آزادی کے ایصال ثواب ترقی درجات کے لئے تلاوت قرآن اور دعا مغفرت کا خاص اہتمام کریں۔

* کوشش کریں کہ نصاب میں ان کی قربانیوں پر مشتمل کچھ تحقیقی مواد بھی پڑھایا جائے۔

" تمام مسلم مجاہدین پر مشتمل ایک فہرست مرتب کی جائے اور ہر مجاہد آزادی کی تفصیل کتاب میں شامل کی جائے تاکہ ہماری نسل جان سکے کہ بھارت کی آزادی لڑی کس نے ہے اور آزاد بھارت میں آج مزے کون لے رہا ہے۔

" ضروری ہے کہ آپ ہر پروگرام میں تعلیمات دینی اورہدایات اسلامی کو ملحوظ رکھیں یعنی نہ تو ترنگے کے ساتھ کوئی شرکیہ عمل کریں نہ کفریہ بات کریں۔

* اسلام ایک مکمل دین، مستقل تہذیب اور ہر ہر چیز مستند ترین تاریخ رکھتی ہے اس لئے خود کو "سیکولر " اور آزاد خیال ظاہرکرنے کی کوشش نہ کریں، اپنی تقریروں میں کوئی ایسا جملہ نہ کہیں جو احکام شریعت سے مزاحم یا متصادم ہو۔

* آپ اپنے پروگرام میں ناچ، ڈانس، بے پردگی، بے حیائی، شرکیہ ساز، کفریہ مزامیر اور خلاف دین اعمال سے بالکل گریز کریں۔

* اپنے پروگراموں میں کسی کو بھی مہمان کی حیثیت سے بلائیں بس دھیان رکھیں کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کہے نہ کرے جو دین کے خلاف ہو۔

* ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ ملک حضرت آدم علیہ السلام سے ہی آپ کا ہے، حضرت آدم ہمارے باپ بھی ہیں اور ہمارے پہلے نبی بھی ہیں اس لئے ہرگز احساس کمتری کا شکار نہ ہوں۔

* کوشش کریں کہ ایک ایسی تاریخ بھی لکھی جائے جو جعفر و صادق کی عیاریوں، مکاریوں، غدار یوں اور جعفر و صادق کی راہ پر چل کر انگریزی استعمار کی چاپلوسی اور کاسہ لیسی کرنے والوں کی نشان دہی کی جائے کیونکہ سچائی یہ ہے کہ آج ایک بڑا طبقہ جو خود کو ملک کا مالک سمجھ بیٹھا ہے ان کے بڑے انگریز کے دم چھلے بنے ہوئے تھے۔ ان کی ملک کی آزادی کے لئے کوئی قربانی نہیں ہے ہاں انھوں نے ملک کو برباد کرنے کے ہزار جتن کئے تھے اس لئے ہماری نسلوں کو واقف ہونا ضروری ہے کہ کون وفادار ہے کون غدار ہے۔

* آپ کوئی بھی پروگرام کریں اللہ کی ناراضی دھیان میں رکھیں ، رسول اللہ کے طریقوں کے خلاف بالکل کوئی بھی عمل نہ کریں۔

(13/اگست 2024)

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H