سنوسنو!!
’’پسندفرمودہ‘‘
(ناصرالدین مظاہری)
میں نے ایک پسندیدہ صاحبِ علم وقلم کاجلی نام ایک کتاب کے ٹائٹل پر لکھا دیکھا تو فوراً سے پیشتر کتاب خرید لی ، دیوبند سے سہارنپور پہنچاتوپہلی فرصت میں کتاب اٹھاکر پڑھنی شروع کی ،مگریہ کیا؟نہ ہمارے پسندیدہ مصنف اورقلم کارکااسلوب نگارش تھا،نہ وہ زوربیان تھا،نہ وہ طرزاستدلال تھا،نہ وہ دلائل اوربراہین تھے نہ وہ اچھوتے علمی مضامین تھے یعنی ٹوٹل مارکرکچھ نہ تھا،حسرت وافسوس کے ساتھ کتاب کے ٹائٹل کودوبارہ پڑھا،باریک بینی کے ساتھ پڑھاتویہ عقدہ وا ہواکہ ظالم مرتب نے اپنا نام نامی اسم ناگرامی بہت باریک فاؤنٹ میں ایک کونے میں لکھوایاہواتھااورمیرے پسندیدہ مصنف کانام بہت جلی حروف میں لکھوا رکھا تھا اور مرتب کی جگہ بہت باریک رسم الخط میں ’’پسندفرمودہ‘‘ موجودتھا۔
اس عمل کوآپ دھوکہ کہیں نہ کہیں،میں توخیردھوکے میں آہی گیا تھا،آج تک اس کتاب کے خریدنے کاغم ہے ،کیوں کہ میں صرف وہی کتاب خریدتاہوں جس سے کچھ نیاحاصل ہونے کی توقع ہو،وہ کتاب بالکل نہیں خریدتا جس کومحض ’’مرتب ‘‘بننے کے لئے جمع کرکے چھاپ دیاگیاہو۔
کتابوں کامعاملہ بھی بالکل تقریروں کی طرح ہوتاہے ،جس مقررکامطالعہ وسیع ہو،زبان شستہ اورلہجہ شگفتہ ہو، مضامین اچھوتے اور تعبیرات خوبصورت ہوں تولوگ اس مقرر کی باتیں بصدذوق وشوق سنتے ہیں اورجس مقررکی تقریر محض رٹی رٹائی ہو،یا اسے چندہی تقریریں یادہوں اور ہرجگہ ان ہی چند تقریروں کوگھما پھراکر،گھٹا بڑھاکر کرتا رہتاہو تو لوگ ایسے مقررکی تقریریں بالکل نہیں سنتے ہیں۔یہی حال مصنفین ،مرتبین اورمؤلفین کابھی ہے۔اس کتاب سے دھوکہ کھانے کے بعد میرا حال دوھ کی جلی بلی جیساہوگیا جومٹھا بھی پھونک پھونک کرپیتی ہے ،میں کوئی بھی کتاب خریدنے سے پہلے خوب چھان بین اورتسلی کرلیتاہوں ،تاکہ احساس زیاں نہ ہو۔
اِس زمانہ کے مرتبین کامزاج عموماً تاجرانہ ہوگیاہے وہ کسی بھی بڑی شخصیت کانام نامی بڑے جلی حروف میں ایسی جگہ لکھوادیتے ہیں جہاں عموماً مرتب اورمؤلف کانام ہواکرتاہے ،عام انسان اُس شخصیت کانام دیکھ کرہی کتاب خریدلیتاہے کیونکہ جس طرح کسی مشہوراورمعتبرکمپنی کانام اورلیبل ہی اُس کی فروختگی کے لئے کافی ہوتاہے اسی طرح مشہورشخصیت کانام بھی کتاب کے چل نکلنے کے لئے کافی ہوتاہے۔
حضرت مولانانعمت اللہ اعظمی مدظلہ،حضرت مولانامفتی محمدتقی عثمانی مدظلہ،حضرت مولانانورعالم خلیل امینیؒ، حضرت مولاناعلاؤالدین ندوی، حضرت مولانا محمد ناظم ندوی، حضرت مولانا مفتی محمدسلمان منصورپوری اور حضرت مولانامفتی اسعدقاسم سنبھلی وغیرہ آسمان علم وادب کے تابندہ ستارے ہیں جن میں سے بعض اپنی تحقیقات کی وجہ سے،بعض اپنے اسلوب کی وجہ سے،بعض اپنے موضوعات کی وجہ سے،بعض اپنے فقہی مزاج ومذاق کی وجہ سے اتنے مشہوراورمقبول ہوچکے ہیں کہ اگران کانام جلی حروف میں ٹائٹل پرلکھ دیاجائے توعام قاری کتاب کوآنکھ بندکرکے خریدہی لیتاہے ۔
مجھے ’’پسندفرمودہ‘‘پربالکل یقین نہیں رہا،کیونکہ میں اِن بڑی شخصیات کوخوب جانتاہوں یہ کتاب کے مسودہ کوعدیم الفرصتی کی وجہ سے دیکھ نہیں پاتے بس دوایک حوصلہ افزاکلمات کے ساتھ ایک آدھ دعائیہ جملہ زبان سے اداکریں گے اوربس ۔اب مرتب صاحب اِسی دعائیہ جملہ کوبنیادبناکرجلی حروف میں اس شخصیت کانام کتاب کے سرِورق اورٹائٹل پرلکھوادیں تواس میں قصوراُس ہستی کانہیں ہے بلکہ سارا قصورمرتب کاہے۔
میں نے توسناہے کہ لوگ صاحبان علم وقلم کومزدوری دے کرکتاب لکھواتے ہیں اوراپنے نام سے چھاپتے ہیں۔چنانچہ ایک واقعہ کامیں خودشاہدہوں۔ہوایہ کہ میرے ایک دوست نے ایک بڑے فقیہ کی ایک کتاب کادرس ٹائپ کیا،پھراس ٹائپ شدہ مسودہ کوسن سن کربڑی جانفشانی سے کاغذپراتارا،پھربڑی محنت اورکڑی لگن سے اس تقریرکومنقح کیا، حشو زوائد کو دور کیا، تسلسل کے لئے محنت کی، مظان پردھیان دیااوراس طرح جب کتاب مکمل ہوگئی توناشرنے مرتب کانام ہی نہیں چھاپا بلکہ اپنا نام لکھوادیا۔میں نے ناشر سے پوچھا کہ مرتب توفلاں ہے ؟جواب دیاکہ انھیں توہم نے پورے پیسے دئے ہیں۔
جب مزاج یہ بن جائے گاتوکون تحقیق کرے گا،کون احادیث کاتتبع کرے گا،کسے فقہی موشگافیوں اوررجال کے درجات طے کرنے کی توفیق ہوگی،اس طرح مارکیٹ میں ایک ایسا مال پہنچے گاجو چائنیز کی طرح ہوگا، بظاہر بڑا خوبصورت اور بباطن بالکل بے کار۔
خدارا! اس میدان کی لاج رکھیں ،کتابوں کے معیار کو نہ گھٹائیں، تحقیق کے دامن کونہ چھوڑیں،اخلاص قیمتی دولت ہے اسے مضبوطی سے تھامے رہیں۔
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H