لعل بدخشاں ! مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہ کی قرآنی خدمت کا دنیوی اعزاز
تحریر : مولا نا محمد شفیع چترالی
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابدی پیغام ہدایت ہے اور ذریعہ شفاء ہے ۔ اُمت کی ذلت واد بار کے موجودہ دور میں بھی ہمارے لیے اطمینان اور تسلی کا یہ ایک پہلو موجود ہے کہ اس امت کے پاس اللہ کا کلام آج بھی اپنی اصل صورت میں موجود ہے، جس کی طرف کسی بھی لمحے رجوع کر کے ہم دوبارہ رفعتوں اور بلندیوں کی طرف سفر شروع کر سکتے ہیں۔ قرآن کریم کو پڑھنے ، یاد کرنے ، اپنے سینوں میں محفوظ رکھنے ، اس کے معانی و معارف کو سمجھنے سمجھانے اور اس کی تعلیمات کو پھیلانے میں ہر دور ہر زمانے میں کام ہوا ہے۔
یہاں یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اُمت کے افراد اور علماء میں سے جس جس نے بھی جتنے جذبے لگن اور محنت کے ساتھ قرآن کریم کی خدمت کی ” إن الله يرفع بهذا القرآن أقواما “ کی بشارت کے عین مطابق قرآن کریم نے اس کے مقام اور مرتبے کو اتنا ہی بلند کر دیا۔ اگر ہم ہندوستان کی ہی مثال سامنے رکھیں تو یہاں قرآن کریم کی سب سے زیادہ خدمت حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اور ان کے خاندان نے کی اور اللہ نے اس خدمت کے عوض اس خاندان کو پورے برصغیر کے لیے علمی و روحانی سند کا درجہ عطا فرمایا۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے ایک ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل تحریر فرمائے ، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک شہ پارہ ہے ، تاہم حضرت کی دیگر تمام تصانیف کو اگر ایک طرف اور بیان القرآن کو دوسری طرف رکھا جائے تو ان کی قرآن دانی کا یہ شاہکار سب پر بھاری نظر آتا ہے۔ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی کا اصل شعبہ افتاء تھا ، اس شعبے میں مفتی صاحب کا کام ان کے علمی مقام و مرتبے کے بیان کے لیے کافی ہے، لیکن آج حضرت مفتی صاحب کا زیادہ تعارف ” معارف القرآن کے مؤلف کی حیثیت سے ہی کیا جاتا ہے۔ مفتی صاحب کے قابل فخر صاحب زادے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی تصنیفات سے آج ایک دنیا استفادہ کر رہی ہے اور مفتی صاحب نے جس موضوع پر بھی لکھا ہے ، اس کا حق ادا کیا ہے، لیکن آسان ترجمہ قرآن ایک ایسا علمی کارنامہ ہے جو تاریخ میں ان کے نام کو امر کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنے گا۔ ہمارے استاذ گرامی حضرت مولانا محمد انور بدخشانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ ( استاذ حدیث جامعة العلوم الاسلامية علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ) کو بھی اللہ تعالی نے قرآن کریم کی ایک عظیم الشان خدمت کرنے کی سعادت بخشی اور ان کی زندگی میں ہی اس خدمت کو ایسی پذیرائی عطا فرمائی کہ یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز بن گیا ۔ مولانا کا فارسی ترجمہ قرآن مدینہ منورہ میں قائم مجمع الملك فهد لطباعة القرآن الکریم ۔ جو کہ قرآن کریم کی مختلف زبانوں میں طباعت و اشاعت کا سرکاری ادارہ ہے۔ نے فارسی زبان میں لکھے گئے تمام تراجم میں سے منتخب کر کے شائع کیا اور یہ ترجمہ اب لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو کر سعودی حکومت کی جانب سے پوری دنیائے فارسی میں مفت تقسیم ہو رہا ہے۔ اس وقت دنیا میں کئی ممالک ہیں جن کی قومی زبان فارسی ہے اور وہاں بڑے بڑے علماء موجود ہیں ، اس کے باوجود پاکستان کے ایک عالم کا ترجمہ قرآن طباعت کے لیے منظور ہونا پاکستان کے لیے اور پاکستان کے دینی مدارس کے لیے اور بالخصوص مادر علمی جامعة العلوم الاسلامية علامہ بنوری ٹاؤن کے لیے بڑے فخر کی بات ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے افغانستان کی وزارت مذہبی امور سمیت متعدد فارسی زبان بولنے والے ممالک کے حکام سے اس سلسلے میں تجاویز مانگیں تو سب سے زیادہ آراء مولانا بدخشانی کے ترجمے کے حق میں آئیں اور کچھ لوگوں نے مخصوص وجوہ کی بنا پر اس رائے سے اختلاف کیا تو ان سے کہا گیا کہ آپ اس پائے کا دوسرا ترجمہ لے کر آئیں ، مگر وہ اس کی مثل نہ لا سکے۔ یہ فخر اور اعزاز حاصل کرنے سے پہلے استاذ گرامی مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہ العالی نے
بہت طویل علمی سفر طے کیا۔ قرآن کریم کو سمجھنے، سمجھانے کے لیے جتنے علوم اور معاون فنون ( بیس کے قریب ) برصغیر پاک و ہند میں پڑھائے جاتے رہے ہیں ، ان میں سے ہر علم اور فن کو مولانا نے پڑھا، پڑھایا اور ان میں سے تقریبا ہر ایک علم پر ایک یا ایک سے زائد کتا بیں تصنیف کیں ۔ اگر میری اس بات کو تلمیذا نہ عقیدت پر محمول نہ کیا جائے تو میری نظر میں ( جو کہ یقیناً محدود ہے ) اس وقت پاکستان میں کوئی ایسا عالم موجود نہیں ہے جو تقریبا تمام مروجہ منقولات و معقولات پر مولا نا محمد انور بدخشانی مدظلہ جیسا مجتہدانہ عبور رکھتا ہو۔ تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، بلاغت ، منطق ، فلسفہ اور صرف و نحو و غیرہ کی وہ کتا ہیں جو موجودہ نصاب میں شامل ہیں ، وہ تو آپ نصف صدی سے پڑھا رہے ہیں اور ان میں سے ہر موضوع پر آپ کی کتابیں بہت سے اداروں میں شامل نصاب ہیں۔ اس کے علاوہ معقولات کی وہ اعلی پائے کی کتابیں جن کے صرف نام لوگوں کے ذہنوں میں باقی رہ گئے ہیں، مثلا: صدر،ا شمش بازغہ، خیالی ، مطول ، مسلم الثبوت مسلم ، ملاحسن ، قاضی مبارک حمد الله ، شرح مواقف ، شرح چغمینی وغیرہ، یہ سب کتا میں مولانا نے اپنے زمانے کے جید ترین معقولی علماء سے باقاعد و پڑھیں ۔ مولانا محمد انور بدخشانی کا مختصر خاندانی وتعلیمی پس منظر یہ ہے کہ آپ ۱۹۴۳ء کو افغانستان کے صوبہ بدخشان کے گاؤں زردو میں پیدا ہوئے۔ آپ کے چچا مولا نا محمد شریف افغانستان کے نامور عالم دین تھے، جو جامعہ امینیہ دہلی کے فاضل اور مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی پینے کے ممتاز شا گرد تھے ۔ اس طرح مولانا نے ایک علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور قرآن کریم اور عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے چچا سے ہی حاصل کی ۔ اس زمانے میں تخار افغانستان میں علم و ادب کا ایک بڑا مرکز تھا، اس لیے آپ نے درجات ثانویہ میں صرف و نحو، ادب، بلاغت، فقہ، تفسیر اور منطق کی کتا بیں وہاں جا کر پڑھیں اور چھ سال کے عرصے میں اس زمانے کی غیر نصابی ترتیب کے مطابق بیسیوں کتا بیں پڑھیں اور ان موضوعات پر بڑی کتابوں کی تعلیم کے لیے دوبارہ اپنے چچا مولا نا محمد شریف کی خدمت میں حاضر ہوئے، مشکوۃ اور مطول تک کتا بیں ان سے پڑھیں۔ پھر آپ ۱۹۶۵ء میں پاکستان تشریف لائے اور کچھ عرصہ کو ہاٹ کے دار العلوم انجمن تعلیم القرآن میں رہے اور منقولات میں بیضاوی شریف اور معقولات میں میدی و قاضی مبارک تک کی کتا ہیں وہاں پڑھیں ۔ ۱۹۶۶ء میں آپ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں داخل ہوئے اور فرید العصر مفتی محمد فرید و دیگر مشایخ سے تفسیر، عقائد اور فقہ کی کتابوں کی تکمیل کی اور پھر معقولات کی تحمیل کے لیے سوات کا قصد کیا اور دارالعلوم سیدو شریف و دیگر مدارس میں وقت کے ممتاز معقولی علماء مار تو نمک با باجی و دیگر سے منطق ، فلسفہ، فلکیات ، ہندسہ ، حساب وغیرہ کی بیشتر مشہور کتا بیں پڑھیں ۔ اس کے بعد آپ کراچی تشریف لائے اور محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری پییه و
دیگر مشایخ سے دورہ حدیث کی تکمیل کی ۔ کراچی کے بزرگوں نے بدخشان کے اس ہیرے کی خوب قدر دانی کی ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری پیلے نے اپنی صاحبزادی آپ کے عقد میں دی اور ان کی وفات کے بعد مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ کی نواسی اور دارالعلوم کراچی کے ناظم اول مولانا نور احمد صاحب کی صاحبزادی آپ کی رفیقہ حیات بنیں ۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان پیلے نے آپ کو جامعہ فاروقیہ میں تدریس کے لیے منتخب فرمایا اور دو تین سال بعد حضرت بنوری نے آپ کو ان سے واپس مانگ لیا ۔ ۱۹۷۲ ء سے تا ایں دم آپ اپنے شیخ کے ادارے سے وابستہ ہیں۔ مولانا محمد انور بدخشانی مدخلہ نے نصف صدی سے زائد عرصہ کراچی میں گزارا، مگر ان کی زبان، لہجے اور تلفظ پر فارسی کا اثر آج بھی غالب ہے ، ہم بھی سوچا کرتے تھے کہ اگر استاذ جی اردو زبان و ادب پر توجہ دیتے تو شاید عربی اور فارسی کی طرح اردو میں بھی آپ کی علمی خدمات کا فیض عام ہوتا مگر اب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ نے شاید فارسی زبان میں آپ سے اتنا بڑا کام لینا تھا، اس لیے فارسی کے ساتھ آپ کا رشتہ کمزور نہیں ہونے دیا ۔ واللہ غالب على أمره ولكن أكثر الناس لا يعلمون!
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H