11اگست یوم وصال حضرت رشید احمد گنگوہی رح


...امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رح۔
جب بھی گیارہ اگست کی تاریخ آتی ہے ہمیں ابوحنیفہ زمانہ میری مراد علامہ رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ تعالی کی یاد دلاتی ہے۔
مولانا ہدایت احمد صاحب رح ایک جید عالم دین تھے
6 ذوالقعدہ 1244ھ 1829ء قصبہ گنگوہ ضلع سہارنپور انڈیا میں انکے ہاں ایک بچے کا تولد ہوا
کسے معلوم تھا کہ ایک وقت میں یہ بچہ تمام علماء دیوبند کا امام اور مکتب دیوبند کا سرخیل بنے گا۔
اس بچے کا نام رشید احمد رکھا گیا اس بچے میں ابتدا سے ہی نیکی اور عظمت کے آثار نمایاں تھے ۔جب سات سال کے ہوئے تو باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔فارسی اپنے ماموں محمد تقی صاحب رح سے پڑھی محمد بخش رامپوری صاحب رح سے صرف نحو کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد قاضی احمد الدین جھلمی صاحب رح اور مولانا مملوک علی صاحب رحمہ اللہ تعالی، مفتی صدرالدین صاحب رح سے اکتساب علم کیا۔ حدیث شاہ عبدالغنی مجددی صاحب رح سے پڑھی حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب رح سے بیعت ہوئے سلوک کے منازل بخوبی طے کئے اور حاجی صاحب کے مجاز بیعت ہوئے۔حاجی صاحب رح کے خلفاء میں ان کو امتیازی شان حاصل تھی۔
ہمارے گاؤں بہبودی کے حضرت مولانا غلام ربانی صاحب رح کے والد بزرگوار مولانا سعد اللہ جی رح حضرت گنگوہی صاحب رح کے شاگرد تھے اسی طرح غورغشتی گاؤں کے مولانا قطب الدین صاحب مرحوم بھی حضرت گنگوہی صاحب رحمہ اللہ تعالی کے شاگرد تھے۔ اسی طرح عظیم مفسر قرآن مولانا حسین علی الوانی واں بچھراں رح بھی حضرت گنگوہی صاحب رح کے شاگرد تھے
حضرت گنگوہی صاحب رح نے 1857ء کی جنگ آزادی میں بھرپور حصہ لیا۔آپ رح اور مولانا قاسم نانوتوی صاحب رح ہم درس رہے ہیں۔
مختلف علاقوں کے اکناف واطراف سے طلبہ کرام انکی خدمت میں آکر اپنی تشنگی بجھاتے تھے۔
حضرت گنگوہی صاحب رح نے تین مرتبہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔آخری عمر میں آپ رح آنکھوں کی بصارت سے محروم ہوگئے تھے۔
أطباء نے آپریشن تجویز کیا اور کہا کہ ایک دن آپ احتیاط کریں اور سجدہ نہ کریں لیکن امام ربانی حضرت گنگوہی صاحب رح نے فرمایا کہ مجھے ایک نماز بھی ایسی منظور نہیں جس میں سجدہ نہ ہو۔ایک سجدہ کی خاطر ساری عمر بینائی کے بغیر گزار دی۔تفصیل کے لئے( ائمہ اربعہ اور صوفیاء کرام ص639 از مولانا یوسف متالا صاحب رح )
تقریبا پندرہ علمی کتب آپ نے تصنیف فرمائی۔آپکی زندگی سراپا سنت تھی۔جب پیر طریقت رہبر شریعت جناب حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رح کا رسالہ ہفت مسئلہ شائع ہوا حضرت گنگوہی صاحب رحمہ اللہ تعالی کو اپنے پیر کے اس رسالہ سے شدید اختلاف تھا تو فرمایا اسے حمام میں جھونک دو شیخ کے ہاتھ پر ہم نے جو بیعت کی ہے وہ تصوف میں کی ہے فقہ میں نہیں کی ہے
تفصیل دیکھیں( مجالس حکیم الاسلام ج1 ص129)
حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کو حاجی صاحب رح کے ساتھ بہت محبت تھی اسی طرح حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رح کی بھی گنگوہی صاحب رح سے بہت محبت تھی۔ایک دفعہ حضرت گنگوہی رحمہ اللہ نے حاجی صاحب رح کو عمامہ بھیجا حاجی صاحب رح نے پہلے سر پر رکھا پھر منہ پر پھر آنکھوں پر ( ملفوظات حکیم الامت ص 212 ج 26)
پیر اور مرید میں محبت کا رشتہ رہا ۔مکاتیب رشیدیہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی قدس اللہ سرہ آپکی محبت وتعلق کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے۔دیکھیں (مکاتیب رشیدیہ 28)
حضرت مولانا گنگوہی صاحب رحمہ اللہ تعالی کے خلاف مخالفین کی طرف سے گالیوں سے بھرپور رسائل لکھے جاتے تھے جیساکہ اہل بدعت کی عادت سیئہ ہے ۔حضرت رحمہ اللہ تعالی نے اپنے خادم مولانا یحی کاندھلوی صاحب رح کو فرمایا کہ وہ مخالفین کی کتابیں ہمیں سنادیاکرو ہم اس نیت سے سنتے ہیں کہ انکی کوئی بات قابل قبول ہو تو قبول کریں ہماری کسی غلطی پر صحیح تنبیہ کی گئی ہو تو اپنی اصلاح کریں۔بحوالہ( تفصیل کے لئے مجالس حکیم الامت 34)
حضرت گنگوہی رحمہ اللہ نے اپنے ساتھ علمی اختلاف رکھنے والے کے ایک شخص کو سراہا اور انہیں لکھا آپ نے پہلے خط میں جو لکھا وہ خالص دین کے لئے تھا اس لیے ذرہ برابر ناگواری نہیں ہوئی (مجالس حکیم الامت )
حضرت گنگوہی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ کوئی آدمی رنج وغم سے بچنا چاہے تو اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ کسی سے نفع کی توقع نہ رکھے۔
حضرت گنگوہی رحمہ اللہ تعالی فقیہ النفس انسان تھے۔
محدث کبیر علامہ انور شاہ کشمیری صاحب رح فرماتے تھے کہ میرے نزدیک امام ربانی حضرت گنگوہی صاحب رح امام شامی سے زیادہ فقیہ ہیں بحوالہ( العرف الشذی ص 241 ج2)
استاد محترم مولانا مفتی رفیع عثمانی صاحب رح نے لکھا ہے کہ امام ربانی حضرت گنگوہی رح کو اپنے زمانے کا ابوحنیفہ کہا جاتا ہے ( حیات مفتی اعظم ص 104)
حضرت رحمہ اللہ تشنگان علوم نبوت کی بہت قدر فرمایا کرتے تھے ایک مرتبہ دوران درس بارش آگئی سب تشنگان علوم نبوت کتابیں لے کر اندر بھاگے مولانا گنگوہی رحمہ اللہ نے سب طلبہ کرام کے جوتوں کو اکھٹا کیا اور ان کو لے کر اندر چلے آئے تاکہ طلبہ کرام کے جوتے بھیگے نہ ہوں۔
مولانا گنگوہی صاحب رح کے فرمودات جاننے کے لیے بہترین کتاب ۔۔۔۔ارشادات گنگوہی۔۔۔ ہے۔یہ مفتی عبدالرؤف رحیمی کی مرتب کردہ ہے۔
مولانا گنگوہی صاحب رح فرماتے تھے جو لوگ علماء دین کی توہین اور ان پر طعن وتشنیع کرتے ہیں انکا قبر میں قبلہ سے منہ پھر جاتا ہے اور یوں بھی فرمایا جس کا جی چاہے دیکھ لے( حکایات اولیاء ص 215)
حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کے یہاں تبرکات حجرہ نبویہ کے غلاف کا سبز ٹکڑا بھی تھا بروز جمعہ کبھی کبھی حاضرین وخدام کو جب ان تبرکات کی زیارت خود کرایا کرتے تھے تو صندوقچہ خود اپنے دست مبارک سے کھولتے اور غلاف کو نکال کر اول اپنی آنکھوں سے لگاتے اور منہ سے چومتے تھے پھر اوروں کی آنکھوں سے لگاتے اور انکے سروں پر رکھتے۔
آپ رح مدینہ کی کھجوروں تعظیم کرتے تھے۔مدینہ سے آئے ہوئے کپڑوں کو وقعت دیتے اور عشق رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں ڈھوپ کر یہ جملہ ارشاد فرمایا کرتے کہ مدینہ منورہ کی ہوا اس کو لگی ہے
تفصیلات کے لئے( ماہنامہ الرشید دارالعلوم دیوبند نمبر ص523)۔
حضرت گنگوہی رحمہ اللہ تعالی کو حدیث وتفسیر سے بہت شغف تھا آپ منطق وفلسفہ کے خلاف تھے حکیم جمیل الدین سابق رکن دارالعلوم دیوبند کے بقول حضرت گنگوہی رح نے ایک مرتبہ خواب دیکھا کہ دارالعلوم دیوبند میں ایک اجتماع ہورہا ہے سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم رونق افروز ہیں فخر موجودات صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نظر ایک کتے پر پڑتی ہے حکم ہوتا ہے اسے نکال دیا جائے حضرت گنگوہی رح نے منطق اور فلسفے کو کتے کی تعبیر تصور کی۔امام ربانی رح کی تعمیل ارشاد کے لئے ایک مرتبہ یہ دونوں فن دارالعلوم سے خارج کردئے گئے تھے۔تفصیل کے لئے دیکھیں (علماء حق اور انکے مجاہدانہ کارنامے ص104)
بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ بزرگوں کے کان دوسروں کے خلاف بھرتے رہتے ہیں کسی نے حضرت تھانوی رح کے بارے میں حضرت گنگوہی صاحب رح کی خدمت میں بری باتیں شروع کی اس پر حضرت گنگوہی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ میں نہیں سننا چاہتا وہ جو کام کرتے ہیں حق سمجھ کر کرتے ہیں نفسانیت سے نہیں کرتے ۔(ملفوظات حکیم الامت ص 81ج11)
الغرض گنگوہی صاحب رح بہت بڑی شخصیت تھے۔شیخ الحدیث مولانا یوسف متالا صاحب قدس اللہ سرہ علامہ انور شاہ کشمیری صاحب رح کا مقولہ نقل فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امام ربانی حضرت گنگوہی رح چاروں مذاہب کے فقیہ تھے( کرامات وکمالات اولیاء ج1 ص 64)
ایک دفعہ مناظرہ طے ہوا شیخ الہند رح مولانا سہارنپوری صاحب رح وغیرھم الوداعی مصافحہ کے لئے حضرت گنگوہی صاحب رح کی خدمت میں مناظرہ سے پہلے حاضر ہوئے تو حضرت گنگوہی صاحب رح نے انہیں نصیحت فرمائی کہ قرآن وحدیث ہمارے سامنے ہے دیکھو ان مسائل مختلف فیھا میں کہاں تک گنجائش ہے؟ پھر ہمارے دلائل دیکھو۔دیکھیں
(قطب الاقطاب شیخ الحدیث نمبر ص622)
اس میں بڑی نصیحت ہے ہم سب کے لئے کہ تعصب اور تحزب کی بالکل گنجائش نہیں قرآن وحدیث اصل ماخذ ہیں۔
لیکن اتنی عظمت شان کے باوجود حضرت گنگوہی رحمہ اللہ تعالی فرمایا کرتے تھے کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس روئے زمین پر مجھ سے بدتر مسلمان کوئی نہیں( کرامات وکمالات اولیاء ج2 ص32)
ایک دفعہ ایک دیہاتی حضرت گنگوہی رحمہ اللہ تعالی کے پاؤں دبا رہا تھا وہ کہنے لگا مولوی جی تو بڑا خوش ہوتا ہوگا کہ میں پاؤں دبوا رہا ہوں۔تو حضرت رحمہ اللہ تعالی نے اس بے تکلف دیہاتی کو کہا کہ ہاں خوش تو ہوتا ہوں مگر اس وجہ سے نہیں کہ میں بڑا ہوں بلکہ راحت کی وجہ سے خوش ہورہا ہوں تو اس دیہاتی نے کہا کہ بس پھر تم کو پاؤں دبوانے جائز ہے تفصیل کے لیے( ملفوظات حکیم الامت ص 61 ج نمبر3)
یہ امام ربانی حضرت گنگوہی کی شان عبدیت تھی۔
حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رح نے ایسی انکی تربیت فرمائی تھی کہ وہ عاجزی کا اور فنائیت کا استعارہ بن چکے تھے ایک مرتبہ حاجی صاحب رح نے امتحان کے لیے ذرا سخت بات ارشاد فرمائی کسی نے بعد میں حضرت گنگوہی صاحب رح سے پوچھا کہ اس وقت آپکی کیا حالت تھی؟
جواب دیا کہ خدا کی قسم اس وقت قلب پر اس کا استحضار تھا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ ذلیل وحقیر ہوں۔۔(ملفوظات حکیم الامت ص 258 ج2)
ایک مرتبہ ایک شخص مولانا گنگوہی صاحب رح کی خدمت میں حاضر ہوا کہنے لگا حضرت میں بے حد کوشش کرتا ہوں مگر نکاح نہیں ہوتا کوئی تعویذ عنایت فرمادیں۔
حضرت رحمہ اللہ تعالی نے تعویذ لکھا جس کے الفاظ یہ تھے
اے اللہ میں کچھ جانتا نہیں اور یہ تمھارا بندہ مانتا نہیں یہ تمھارا غلام تم جانو تمھارا کام۔
بس اس کی برکت سے اس شخص کا نکاح ہوگیا۔
(ملفوظات حکیم الامت ص 295 ج4)
11 اگست انکی تاریخ وفات ہے رب تعالی انہیں بہترین اجر عطا فرمائے آمین اللہ تعالی ہمارے تمام اکابر واصاغر عزیز واقارب سب مسلمانوں کی کامل مغفرت فرمائے اور اللہ تعالی انہیں بزرگان دین کے ساتھ ہمارا حشر بھی فرمائے آمین۔

https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H