سنو سنو!!
خوشگوار رشتوں کے دشمن
(ناصرالدین مظاہری)
یہ جو ماں ہے ناں یہ تب تک آپ کی ہے جب تک آپ کی شادی نہیں ہوجاتی، شادی ہوتے ہی ماں کا لہجہ بدل جاتا ہے، سوچ میں تبدیلی آجاتی ہے، بات میں اجنبیت در آتی ہے، گفتگو کی شیرینی میں ذرا سی تلخی پیدا ہو جاتی ہے، شوہر بے چارہ کیا کرے ایک طرف وہ ہے جو اپنا سب کچھ شوہر کے لئے چھوڑ آئی ہے ، ایک طرف ماں ہے جو اپنے بیٹے کی خوشی کے لئے بہو بیاہ لائی ہے۔ ماں کو چاہیے کہ وہ اب اپنے دل میں تھوڑی سی وسعت پیدا کرلے وہ یہ جانے اور سمجھے کہ اس کے گھر میں بہو کی شکل میں ایک بیٹی زیادہ ہوگئی ہے اور بیٹے کو چاہیے کہ وہ بیوی کے حقوق کی انجام دہی میں ماں کو نہ بھلا دے۔
ماں اپنے بیٹے کی دشمن نہہں ہوتی لیکن اتنا تو ہر ماں چاہتی ہے کہ اسلام میں جس کو جو حقوق دئے گئے ہیں بیٹا ان کا خیال رکھے۔
مسائل تب پیدا ہوتے ہیں جب کسی کے حقوق پامال ہوتے ہیں، شادی پوتے ہی بیٹے کی زندگی مختلف حقوق کی انجام دہی کا مجموعہ بن جاتی ہے، مختلف قسم کے اخراجات پیدا ہوجاتے ہیں، سسرالی رشتہ داروں کے لئے الگ وقت نکالنا پڑتا ہے، ان کی آمد پر ضیافتیں ضروری ہیں، ایسی صورت میں اگر لڑکے کی ماں شکوہ سنج ہوتو یہ غلط ہے، بہت سے معاملات ایسے ہیں کہ لینا دینا بھی پڑتا ہے اگر لڑکی والے کچھ لا رہے ہیں تو واپسی پر ضروری ہے کہ بچوں کو کچھ روپے دیجیے، یا کچھ ساز وسامان ہدیہ کیجیے۔ ان مواقع پر کنجوسی آپ کو رشتہ داری میں بدنام کردے گی۔ بدنامی کسی کی بھی ہو غلط ہے۔
بدنامی کو ہوا دینے میں سب سے بڑا کردار لڑکے کی ماں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں اور بھابھیاں ادا کرتی ہیں ساتھ ہی لڑکی کی بہنیں، ماں، خالہ، پھوپھیاں اور دادی ونانی جو کردار ادا کرتی ہیں وہ ناقابل فراموش ہے۔
جن شادی شدگان کے یہاں یہ سب رشتے نہ ہوں تو یقین جانیں وہاں طلاق کی نوبت نہیں آتی ہے، مسائل ہی پیدا نہیں ہوتے ہیں۔ مسائل تو عورتوں کی زبان سے شروع ہوکر لڑکے کی زبان پر ختم ہوتے ہیں۔
میں اپنے گھرکاواقعہ بتاتا ہوں:
میرے مرحوم بھائی کلام الدین کی شادی ہوئی، سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا لیکن اچانک لڑکی کی دادی کو لڑکا کالا نظر آیا اور بس اس کا رنگ ہی رشتہ میں بھنگ ڈال گیا، لڑکی جب اپنے مائکہ جاتی تو ہنسی خوشی جاتی لیکن آتے وقت بہت ناٹک ہوتی، جلدی بھیجتے نہیں تھے اور کوئی معقول شکایت بھی نہیں کرتے تھے یوں دوری پیدا ہوتی رہی، دوری بڑھتی رہی تاآنکہ ان لوگوں نے طلاق کی مانگ شروع کردی۔ ہم لوگ شریف ہیں، کسی سے لڑائی جھگڑا کبھی نہیں کیا وہ لوگ بہت دبنگ بلکہ دادا قسم کے لوگ تھے اس وجہ سے ہمیں وقتی طور پر پریشانی ہوئی، ہم نے اپنا پورا معاملہ تھانیدار سے بتایا، تھانیدار سے کہا بھی کہ ہمیں لڑکی سے کوئی شکایت نہیں ہے بس آپ طلاق نہ ہونے دیں کیونکہ لڑکا طلاق دینا نہیں چاہتا اور لڑکی طلاق لینا نہیں چاہتی البتہ سارا بکھیڑا اس کی دادی کا پھیلایا ہوا ہے۔
تھانیدار سمجھ گیا، ہم لوگ بھی جانتے تھے کہ تھانیدار کے مشورہ پر چلنے سے مستقبل میں کوئی کیس اور مقدمہ نہیں چل سکتا۔ یہی ہوا، طلاق ہوگئی، معاملہ ختم ہوگیا اور ایک دن لڑکی اپنےگھروالوں سے چھپ کر میرے گھر پہنچ گئی۔ میں نے فورا تھانیدار کو فون کرکے پوری بات بتائی، تھانے دار نے کہا کہ ہرگز لڑکی کو اپنے گھر مت رکنے دیناورنہ رات گزرتے ہی تم سب کو پریشانی ہوگی۔ میں نے کہا تھانے سے گاڑی بھیج دو اسےیہاں سے لے جاؤ۔ ادھر میں نے لڑکی کے چچا کو فون کرکے پوری بات بتائی اور یہ بھی بتایا کہ تھانے سے گاڑی آرہی ہے تاکہ اسے لے جائے۔ اس کاچچا کہنے لگا کہ تھانے کے حوالہ مت کرنا میں آرہا ہوں۔ میں نے کہا جو بھی پہلے آجائے گا لے جائے گا۔ چنانچہ دونوں کی گاڑیاں ایک ساتھ آگئیں۔ چچا لے گیا۔ اور ایک نئی آزمائش سے اللہ نے بچا لیا۔
سنا ہے اس لڑکی کی شادی کلام الدین سے ڈبل عمر کے ایک ایسے شخص سے ہوئی جس کی بعض بیٹیاں بھی شادی شدہ تھیں۔ ایک طرف ہمجولی کا شوہر تھا دوسری لڑکی کی عمر سے ڈبل آدمی سے رشتہ۔ کتنی عجیب بات ہے۔
جوائنٹ فیملی میں طلاق کا تناسب زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لئے شادی شدگان کا الگ گھر ہو تو اچھاہے۔اسلام بھی جوائنٹ فیملی کا قائل نہیں ہے، شادی سے پہلے ہی لڑکے کےلئے مکان کا نظم ہوجانا چاہیے۔ تاکہ ہر گھر میں جو بعض خواتین BBC LONDON لندن بنی رہتی ہیں ان پر لگام کسی جاسکے۔
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H