راز اور ہمراز

ہر سینہ رازوں کا محافظ خانہ نہیں ہوسکتا

میرے والد صاحب سے میرے ایک دوست نے میری شکایت کرتے ہوئے ایک ایسی بات بتائی جو غیبت تو تھی ہی جھوٹ بھی تھی۔ میرے والد ماجد نے اس دوست کی پوری بات سن کر اس سے پوچھا کہ یہ بات تمہارے علاوہ بھی کوئی جانتا ہے؟ دوست نے جواب دیا نہیں، والد صاحب نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہےکہ وہ تم پر اعتماد زیادہ کرتا ہے اور مجھ پر کم کرتا ہے؟ دوست نے کہا بالکل، والد صاحب نے کہا کہ میں اس سے کہوں گا کہ تم اپنا دوست بدل لو کیونکہ تمہارا دوست تمہارا بدخواہ تو ہے ہی ہمارا بھی بدخواہ ہے۔ پھر کہا کہ اپنے دوست کا جو راز تم اپنے سینہ میں نہ رکھ سکے وہ سینہ اس لائق نہیں ہے کہ اس میں کوئی اور راز رکھا جاسکے۔ یہ بھی کہا کہ دنیا میں اچھے رشتے اور اچھے دوست خوش قسمتی سے ملتے ہیں، اسے اچھے رشتہ دار تو مل گئے مگر اچھا دوست نہیں ملا۔ پھر والد صاحب نے مجھ سے پوری بات بتائی اور راز کا ذکر بھی نہیں کیا البتہ اتنا ضرور کہا کہ ہر سینہ رازوں کا محافظ خانہ نہیں بن سکتا۔ جیسے ہر کھیت ہر فصل کے لائق نہیں ہوسکتا۔

(ناصرالدین مظاہری)

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H