Article Image

45 منٹ

سنو سنو!!

شیخ حسینہ واجد کی زندگی کے 45/منٹ

(ناصرالدین مظاہری)

سیاہ فام خاتون کسی سفید فام فیملی کی ملازمہ تھی، ملازمہ کے اخلاق، پیار اور شفقت آمیز رویے نے مالک کے سفید فام بچوں کا دل جیت لیا تھا، مدت کے بعد ملازمہ جب اپنے ملک جانے کے لئے ائر پورٹ پہنچی تو سفید فام فیملی بھی ائرپورٹ تک چھوڑنے پہنچی، مالک کے تین ننھے بچے بھی اپنی خادمہ اور ملازمہ کو چھوڑنے پہنچے تھے، کم سن اور معصوم بچے اپنی والدہ کا ہاتھ چھڑا کر اندر کی طرف بڑھ رہی ملازمہ کے پاس روتے اور دوڑتے پہنچے اور لپٹ گئے، بچوں کے انداز سے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ بچے اپنی مشفقہ ملازمہ کو اپنے سے دور جانے نہیں دینا چاہتے ہیں۔

دوسرا واقعہ بھی سنتے چلئے:

وہ کوئی سفید ریش بزرگ انسان تھے، بچیوں کے کسی مدرسہ میں تعطیلات کا منظر تھا، بچیاں اپنے حلیم، مشفق اور باپ جیسے استاذ سے رخصت ہورہی تھیں، یقین جانیں ہر بچی ایسے رو رہی تھی جیسے کچھ عرصہ پہلے تک شادی ہوکر پہلی بار مائکے سے رخصت ہوتی بیٹیاں روتی تھیں۔

سوچنے کی بات ہے کہ ان بچوں کو کس چیز نے ایک اجنبی سے اتنی اپنائیت، انسیت اور محبت پیدا کردی کہ چھوڑنے پر تیار نہیں ، جب کہ بچے ہوں یا بچیاں اسکول اور مدرسہ سے چھٹی کے وقت عموما ایسے بھاگتے ہیں کہ لگتا ہے کسی جیل کا دروازہ کھلا پاگئے ہوں اور یہاں معاملہ بالکل برعکس تھا۔

مجھے زیادہ تفصیل نہیں لکھنی ہے لیکن موضوع سے متعلق جو یاد آتا جارہا ہے اشارۃ لکھنا ضروری ہے۔

25/اپریل 2009کوآندھرا پردیش کے وزیر اعلی وائی شیکھر ریڈی کا ایک ہوائی سفر میں ہیلی کاپٹر حادثہ کا شکار ہوگیا، ریڈی صاحب کے انتقال کا غم اتنا بڑا تھا کہ کئی درجن لوگوں کے مرنے کی اطلاعات اخبارات میں شائع ہوتی رہیں۔

تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کے مرنے کے بعد لوگوں نے رو رو کر ان کی جو خوبیاں اور غریبوں کی مدد کے واقعات بتائے اس کو سن کر دنیا حیرت زدہ تھی۔

مسٹر جمال عبدالناصرکی وفات 28 ستمبر 1970ء کو حرکت قلب بند ہوجانے سے ہوئی ، ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ تھوڑی ہی دیر میں غم کی تاب نہ لاکر تین سو کے قریب لوگ مر گئے تھے۔

ایسی مثالیں بہت مل جائیں گی لیکن اصل مضمون سے دور ہوجاؤں گا اس لئے اپنے موضوع پر آتا ہوں۔

کل پانچ اگست 2024کو بنگلہ دیش کی آمر اور ڈکٹیٹر شیخ حسینہ واجد کا عوام نے تختہ پلٹ دیا، یہ خاتون اپنی زندگی میں طویل مدت تک وزارت عظمی پر قابض رہنے والی سب سے ممتاز خاتون تھی، یہ اپنی ضد، ہٹ دھرمی، ظلم، تعدی میں یہود و ہنود اور نصاری کو پیچھے چھوڑ چکی تھی، اس نے سمجھ لیا تھا کہ اس کے اقتدار کا سورج کبھی نہیں ڈوبے گا۔ اس کو خوش فہمی تھی کہ اس کے عوام اس سے ہراساں، لرزاں، ترساں اور خوف زدہ ہیں، عوام کا حوصلہ پست، دماغ مفلوج اور مزاج غلامانہ بن چکاہے۔ لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی، عوام زیادہ دیر تک ظلم برداشت نہیں کرتے، وہ وقت کا انتظار کرتے ہیں اور موقع پاتے ہی چیتے کے مانند دبوچ لیتے ہیں چنانچہ یہی ہوا، جب شاہین صفت جیالے کفن بردوش نکل پڑے تو ہزار دو ہزار جانوں کی قربانی تو ضرور دینی پڑی لیکن وقت ایسا آیا کہ خود اس کی اپنی فوج نے کہہ دیا کہ آپ کے پاس فیصلہ کے صرف 45 منٹ ہیں۔ یا تو اپنے والد کی طرح موت کو گلے لگا لو یا پھر راہ فرار اختیار کر لو۔ شیخ حسینہ واجد نہ تو صدام حسین اور کرنل قذافی کی طرح اپنی قوم کے لئے مخلص تھی کہ جان دینا منظور ہو فرار نامنظور ہو نہ ہی اتنا وقت رہ گیا تھا کہ بپھرے عوام کو مطمئن کرسکتی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بجلی کی سی سرعت سے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعہ بھاگ کھڑی ہوئی اور ہندوستان پہنچ کر کسی ایسی منزل کی طرف نکل گئی جہاں اس کے غیر قانونی اثاثے، دو نمبر کی دولت اور کالا دھن جمع ہے۔

غصہ میں بھرے لوگ پارلیمنٹ میں گھس گئے، حسینہ واجد کے گھر پر دھاوا بول دیا،حسینہ کے والد کے مجسمے توڑ دئے، جس کو جو کچھ ملا لے کر بھاگ کھڑا ہوا چنانچہ تالاب کی مچھلیاں، مرغیاں اور بکریاں تک لوگ لوٹ لے گئے کچھ نہیں چھوڑا۔

حسینہ واجد نے بھلے ہی 1996سے اقتدار میں ہو، بھلے ہی اس نے تقریبا تیس سال تک حکمرانی کی ہو لیکن اگر کوئی اس سے پوچھ لے کہ آپ کی زندگی کےقیمتی اوقات اور لمحات کون سے ہیں تو وہ بلا ترد اوربے تکلف و تخلف کے کہے گی کہ راہ فرار کے کے لئے ملنے والے 45/منٹ۔

سوچیں ایسا کیوں ہوا؟ جواب ہے ناانصافی۔ کیونکہ حکومت کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہے ظلم کے ساتھ نہیں۔ اسی ظلم نے تختوں کے پلٹنے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے، اسی ظلم نے ظالم کو کتے کی موت مرنے پر مجبور کیا ہے، اسی ظلم نے ظالم کو ہر دور میں رسوا اور ذلیل کیا ہے۔
جب تک اقتدار آپ کے ہاتھ میں ہے آپ بس انصاف سے کام لیجیے، ہر میدان ہر معاملہ میں انصاف کا دامن تھام کر رکھئے تاکہ جب کبھی آپ استعفی دیں تو سب کی گردنیں جھکی ہوں اور آپ کا سینہ فخر سے چوڑا رہے۔

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H