سنو سنو!!
مفت کے مشورے
(ناصرالدین مظاہری)
ہر مسجد ہر ادارہ اور ہر تنظیم میں کچھ نمونے ایسے ضرور ہوتے ہیں جن کا کام ہر کام میں کیڑے نکالنا اور ہر بات میں ٹانگ اڑانا ہوتاہے۔
میں نے اب تک کوئی مدرسہ نہیں دیکھا جہاں اس قماش کے لوگ نہ ہوں، آپ نے بھی کوئی جماعت اور تنظیم ایسی نہ دیکھی ہوگی جس میں دخل اندازی کرنے والے نہ ہوں۔
اگر مسجد کا امام صحیح ہے تو متولی منفی سوچ کاحامل، اگر متولی اور امام دونوں صحیح ہیں تو بعض مصلیان اتنے بدقماش بلکہ بدمعاش کہ الامان الحفیظ
مظفرنگر کی ایک مسجد میں مدت سے تعمیری کام کی ضرورت تھی، مسجد کے متولی کااس مسجد پر مکمل قبضہ ہے مسجد کی اچھی خاصی جگہ تھی لوگوں کا ارادہ ہوا کہ اس جگہ پر تعمیر کرکے دکانیں کرایہ پر دیدی جائیں سب کچھ ہوگیا لیکن متولی نے بنی بنائی دکانوں پر قبضہ کرلیا نہ دکان کرائے پر دیں نہ آمدنی کا کچھ سوچا بس اپنے قبضہ اور تصرف میں رکھا ہوا ہے سنا ہے متولی صاحب ایک دکان میں اپنی موٹر سائیکل رکھتے ہیں۔ دوسری میں آرام۔کرایہ کچھ بھی نہیں۔
ایک جگہ مدت سے مسجد کاکام رکا ہوا تھا، سبھی خوش تھے لیکن کچھ نیک بندے آگے بڑھے اور باقی ماندہ کام شروع کرادیا تو ظہرالفساد فی البر والا معاملہ ہوگیا ہر گوشہ ہر گلی اور ہر گھر سے کچھ مخالفین نکل آئے، سب نے چاہا کہ میرا مشورہ مانا جائے بتاؤ بے چارہ متولی کس کس کی سنے اور مستری کیا کرے۔
ایک مسجد کا گیٹ بننا تھا متولی کے پیش نظر کسی اور مسجد کے گیٹ کا نقشہ تھا اسی کے حساب سے بنوانا شروع کیا، کیڑے مکوڑے نکلنے لگے، حرف گیری، حرف زنی اور دخل اندازی اتنی بڑھی کہ کام رک گیا تادم تحریر وہ گیٹ جھک چکا ہے یعنی اب پھر سے وہ توڑا جائے گا پھر بنایا جائے گا اور کیا پتہ بنانے دیا جاتا ہے یا یوں ہی رہنے دیا جاتا ہے۔ سوچیں مسجد کا گیٹ فی الحال خرابی اور ویرانی کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن گیدڑوں نے خاموشی سادھ رکھی ہے اور جیسے ہی بننا شروع ہوگا ہر گلی محلہ سے آوازیں آنی شروع ہوجائیں گی۔
میں نے ایک مدرسہ دیکھا جو کسی خاص برادری سےمنسوب ہے، چلو خیر برادری کوئی غلط نہیں ہوتی برادری میں کچھ لوگ بہت ہی غلط ہوتے ہیں، یہ لوگ اپنے مشوروں کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں یہ سوچتے ہیں کہ متولی من مانی کررہاہے حالانکہ قبر کا حال مردہ جانتا ہے۔ وہ کتنے لوگوں کے مفت کے مشورے سنتا ہے وہی جانتا ہے۔
ایک مسجد والے آئے اور مسجد اور مصلیان کاجھگڑا سامنے رکھ کر مشورہ لینا چاہا، میں نے کہا کہ جمعہ میں نماز سے پہلے میری تقریر ہوگی اور تقریر میں کسی کا بھی نام نہیں لوں گا ، امید ہے کہ اس نوعیت کے جھگڑے پھر سے نہیں ہوں گے۔ میں نے تقریر کی اور مشوروں کی اہمیت بتائی، یہ بھی بتایا کہ جو لوگ مفت کے مشورے دیتے ہیں ان کی قدر اور ویلیو گھٹ جاتی ہے آپ ہرگز بغیر طلب کے مشورہ نہ دیں اور اگر دینے کے لئے مجبور ہیں تو پہلے پانچ سو روپے مسجد میں جمع کرکے مشورہ دیں تاکہ آپ کی بات غور سے سنی جائے اور ہاں مشورہ مشورہ ہی رہے گا حکم نہیں ہوسکتا ہے۔
فائدہ یہ ہوا کہ مشورہ کے نام سے رسید تو اب تک نہیں کٹی لیکن مشوروں کی بہتات تھم اور ختم ہوگئی۔
کچھ لوگ صرف جمعہ جمعہ کے مہمان ہوتے ہیں اور مشورے ایسے دیتے ہیں جیسے ان سے زیادہ مسجد میں کوئی رہتا ہی نہیں ہے اور اللہ کے رسول کا ارشاد ہے کہ جو شخص مسجد میں آتا جاتا رہتا ہو اس کے ایمان کی گواہی دو۔ سوچیں پنج وقتہ نمازی اس فضیلت کا زیادہ مستحق ہے۔
یہی حال مدارس کا ہے مہتمم اور ناظم حضرات اگر ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کے مشورے ماننے لگیں تو مدرسہ بند اور متولی پاگل ہوجائے گا۔ اسی لئے ہر مہتمم نے ایک مجلس شوریٰ بنائی ہوئی ہے ضرورت پڑے تو مشورہ کرلو اور نفاذ کے وقت اللہ تعالی کے حکم فاذا عزمت فتوکل علی اللہ پیش نظر رہے۔ شوری صرف شوری ہے متولی یا مہتمم نہیں۔
متولیان کو بھی لٹھ مار مزاج نہیں رکھنا چاہئے آپ سنیں سب کی ، کسی کو ذلیل اور رسوا نہ کریں ورنہ فتنہ بڑھے گا۔ ویسے ہمارے بھارت میں ہر معاملہ میں مشورہ دینے والے اتنے ہیں کہ آپ کی سماعت متاثر ہو سکتی ہے مشورے کم نہیں پڑ سکتے۔
مشورہ دینا بھی سنت ہے اور مشورہ لینا بھی سنت ہے اور مشورہ لینے کا خدائی حکم بھی ہے مگر مشورہ تھوپنا بالکل نہیں چاہیے۔ مشورہ دے کر تسلیم اور تعمیل کی ضد کرنا غلط ہے۔
ایک صاحب مجھ سے ملے اور کہنے لگے کہ آپ کے یہاں مدرسہ میں ایسا ایسا ہونا چاہیے میں نے کہا کیسے آنا ہوا؟ بولے پیشاب کے لئے آیا تھا یہ رائے اچھی لگی سوچا آپ سے بات کرلوں، میں نے کہا مطلب آپ کی رائے بھی آپ کے پیشاب کی طرح ہی ہے، نکلی اور بات ختم، بھائی! ایک تو مشورہ غلط آدمی کو دے رہے ہیں میرا نظام مدرسہ سے تعلق نہیں ہے ، میں استاذ ہوں،اس لئے آپ مشورہ حضرت ناظم صاحب کو دیں اور دوسرے یہ کیا بات ہوئی کہ پیشاب کے لئے آپ مسجد آتے ہیں مسجدیں ایسے ہی کاموں کےلئے رہ گئی ہیں، آپ مسجد کے پیشاب خانے اور بیت الخلاء کو استعمال کرتے ہیں کیا متولی صاحب سے اجازت لے رکھی ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ کی نظر میں ہی مشورہ کی اہمیت نہیں ہے ورنہ باقاعدہ آتے مشورہ تو ضمنی ہے اصل تو ضرورت سے فراغت تھی۔ کہنے لگے آئیندہ خیال رکھوں گا۔ خیر
ہم سب کو چاہیے کہ داخل رہیں دخیل نہ بنیں، نظام کا حصہ بنیں نظام میں مخل نہ ہوں۔ تکلیف کے لئے پیشگی معذرت خواہ ہوں معاف فرمائیں
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H