Article Image

اسمعیل ہانیہ کی شہادت اور فلسطینی بیانیہ

🖋️ مولانا عبدالعلیم الاعظمی

شیخ اسماعیل ہانیہ کی شہادت پوری امت مسلمہ کے لیے ایک المناک حادثہ ہے، شیخ کی شہادت کے بعد برصغیر ہندو و پاک کے اردو داں طبقہ کے درمیان ایسے مباحث شروع ہوگئے ہیں، جس پر بحث و مباحثہ کا یہ وقت نہیں ہے۔ شیخ کو اسرائیل نے شہید کیا ہے، اس پر پوری دنیا متفق ہے؛ حتی کہ اکثر عرب ممالک نے اپنے بیان میں اسرائیل کو مجرم قرار دیا ہے،اس کے علاوہ مغربی نیوز ایجنسیوں نے بھی طریقہ واردات سے اختلاف کرتے ہوئے اس/رائیل ہی کو اس حادثہ کا ماسٹر مائنڈ گردانا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ وقت اس طرح کی مباحث کا نہیں ہے، ہمیں اپنی تمام تر توجہ فلسطینی بیانیہ پر مرکوز رکھنی چاھئے اور ہمیں چاھئے کہ ہم قضیہ فلسطین کے تعلق سے سوچیں اور وہ اقدامات کریں، جس سے قضیہ فلسطین کو فائدہ پہنچے۔

پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ اسرائیل نے قتل کیا ہے۔ (البتہ طریقہ کار سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، ممکن ہے کہ اس/رائیل نے براہ راست قتل کیا ہو، ممکن ہے کہ ایران میں موساد کے ایجنٹوں سے مدد لی گئی ہوگی، ممکن ہے کہ ایرانی فوجوں اور با اختیار عہدے داران میں سے کسی کو خرید کر ایسا کیا گیا ہو، ممکن ہے کہ ایرانی حکومت در پردہ اس قتل میں شامل ہوں، ان تمام امکانات کو تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ ) لیکن اس بات پر دنیا کا ہر شخص متفق ہے کہ شیخ کو قتل کرنے والا اسرائیل ہے، اب ہم اصل مسئلہ کی طرف آتے ہیں کہ شہادت میں فلسطینی بیانیہ کیا ہے، اور کہاں ہے۔ شیخ کی شہادت ہوتی ہے،دنیا کے سامنے اس کی کچھ تصویر سامنے نہیں آتی ہے، ایران نے جو تفصیلات بیان کی ہے، وہ بہت کم اور مبہم ہے۔ ایران دنیا کو اصل حقیقت کیوں نہیں بیان کرنا چاھتا ہے ؟ حماس نے اس واقعہ کو ایک عام واقعہ کیوں قرار دیا ہے ؟ حماس نے کیوں یہ کہا کہ یہ اس/رائیل کے انٹلیجنس کی کوئی کامیابی نہیں ہے ؟ یہ پوری بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حماس اور شیخ کے بیٹوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے جس سے ہلکا بھی اشارہ ہو کہ ایران اس میں شریک ہے؛ بلکہ حماس نے اس واقعہ کو بہت ہی زیادہ نارملائز کرنے کی کوشش کی ہے، حماس کے لیڈر کی پوری پریس کانفرنس سن لیجیے، اس سے بہت حد تک فلسطینی بیانیہ واضح ہوجائے گا۔ غور و فکر کی کرنے والی بات ہے کہ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ ایران قتل میں ملوث ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی حماس اور شیخ کے بیٹے ایران پر تنقید نہیں کررہے ہیں تو اس کے پیچھے وجہ کیا ہے،حماس کے نزدیک اس مسئلہ سے زیادہ اہم مسئلہ اور وقت کی ضرورت یہ ہے کہ کیسے اسرائیل کو شکست دی جائے، کیسے اسرائیل پر دباؤ ڈالے؛ یہی وجہ ہے کہ حماس کی جانب سے واقعات کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہے، بلکہ اس کو ایک عام واقعہ قرار دیا گیا ہے، جس میں انٹلیجنس کا کمال نہیں تھا۔ اگر حماس اور شیخ کے بیٹے تمام تر حقائق کے جانے کے باوجود بھی خاموش ہیں اور ایک ایسا بیانیہ اختیار کررہے ہیں، جس سے قضیہ فلسطین کا فائدہ ہورہا ہے تو ہمیں اور آپ کو غور و فکر کرنے کا مقام ہے کہ اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں یا مغربی اور اسرائیلی پروپیگنڈوں کا شکار ہیں ؟ حماس نے جو بیانیہ اختیار کیا ہے اس کو اگر دقت نظر سے دیکھا جائے کہ شیخ کی شہادت کے بعد ایران اور حماس کی اعلی سطحی میٹنگ ہوئی ہوگی، اس میں حماس نے واقعہ کے ہر پہلو پر نظر رکھنے کے بعد شیخ کی شہادت کا اعلان کیا ہوگا اور یہ بیانیہ اختیار کیا ہوگا۔۔
ہمیں یہ بات ذھن میں رکھنی چاھئے کہ جب دو فریقین کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو بہت ساری تفصیلات کو جان بوجھ کر نہیں بیان کیا جاتا ہے، تاریخ کے طالب علم کو یہ معلوم ہوگا کہ اکثر و بیشتر مصلحت کی بناء پر بادشاہوں اور سپہ سالاروں کے مارے جانے کا اعلان کئی کئی ماہ موخر کیا جاتا ہے،جنگ کے دوران بہت سی ایسی پالیسیاں اختیار کی جاتی ہے جس سے دشمن کو کمزور کیا جائے، یا اس کو گمراہ کیا جائے۔ بہت سے لوگوں کے تمام تر اشکالات اسی نقطہ کے ارد گرد گھوم رہے ہیں، اس واقعہ کی تفصیلات کیا ہیں؟ یہ واقعہ کیسے ہوا ہے ؟ حملہ کیسے کیا گیا ہے ؟ حملہ کہاں سے کیا گیا ہے ؟ حملے میں کون لوگ شامل تھے ؟ ایران اس کی تفصیلات کو کیوں نہیں بیان کررہا ہے ؟ اس طرح کے ذہن و دماغ بہت سوالات ہیں جو ایران کو اس جرم میں شریک ماننے پر منتہی ہوتے ہیں۔

یاد رکھیں ! اس طرح کے عالمی مسائل ایک دو دن میں واضح نہیں ہوتے ہیں؛ البتہ جنگ اور واقعہ کے ایک عرصہ بعد تمام تر تفصیلات اور حقائق سامنے آجاتے ہیں، نائن الیون کے واقعہ میں امریکہ و یورپ نے ہر طرح کے پروپیگنڈے اور حربے استعمال کئے، لیکن چند سالوں کے بعد خود امریکہ اور یورپ میں ایسے ایسے تھیسس لکھے گئے اور تحقیقی رپورٹیں آئیں، جس نے اس واقعہ کے حقائق کو واضح کردیا ہے؛ اسی لیے اس طرح کے واقعات میں عجلت، چند قیاسات اور ماضی کے واقعات کے روشنی میں کوئی نظریہ قائم کرنے سے احتراز کرنا چاھئے، اہل علم کی یہی شان بھی ہے جب ان کو واقعہ کی تمام تر تفصیلات اور حقائق کا علم نہیں ہوتا ہے کہ وہ حتمی موقف اختیار کرنے سے بچتے ہیں۔ اس وقت ہماری قیادت کو ایران پر کوئی اعتراض نہیں ہے؛ اسی لیے اگر ہم کو واقعی فلسطین سے دلچسپی ہے، ہم فلسطینیوں کے خیر خواہ ہیں، تو ہم کو اپنی قیادت پر بھروسہ رکھنا چاھئے اور ایسے پروپیگنڈوں اور تحریروں سے بچنا چاھئے جس سے فلسطینی بیانیہ اور فلسطینی کاز کو نقصان پہنچے۔

اسماعیل ہایہ کی شہادت اور اس کے حماس اور ان کے خاندان کے تاثرات کا اگر باریکی سے جائزہ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان تاثرات میں بھی نفسیاتی طور پر اسرائیل کو شکست دینے کی کوشش کی گئی ہے، خاندان کے تاثرات وقتی اور اتفاقی نہیں ؛ بلکہ یہ حماس کی پالیسی کا حصہ ہے؛ یہی پالیسی ہم نے شیخ کو اپنانے ہوئے دیکھا تھا، جب ان کے خاندان کے اکثر افراد کو شہید کرنے کی خبر دی گئی تھی، اس طرح کی پالیسی کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو استقامت ملتی ہے، غزہ میں حماس کے نائب دکتور خلیل حیہ کا یہ جملہ " حماس کے قائدین اور ایک فلسطینی بچے کا خون برابر ہے " اسی نفسیاتی جنگ کا ایک حصہ ہے۔

یاد رکھیں ! شیخ کا قتل محض ایک ملک میں مقیم ایک سرکاری مہمان کا قتل نہیں ہے ؛ بلکہ متعدد ممالک کی نگرانی میں ہونے والے مذاکرات کے ایک فریق کے قائد کا قتل ہے،اسرائیل کا یہ کوئی معمولی جرم نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک سنگین جرم ہے، جس پر عالم اسلام اور پوری دنیا کو ایکشن لینے کی ضرورت ہے، عالم اسلام کو اس سنگین جرم کے بعد اسرائیل پر ہر طریقے سے دباؤ ڈالنے اور اسرائیل سے ہر طرح کے تعلقات کو منقطع کرنے کی ضرورت ہے۔

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H