سنو سنو!!
اسلام مخالف بیانات اور ہمارے رویے
(ناصرالدین مظاہری)
اللہ تعالی نے ہر شخص کو زبان اور دماغ سے نوازا ہے لیکن ان دونوں کا کب کہاں کیسے استعمال کرنا ہے اس کے لئے تعلیم اور شعور وفہم کی ضرورت ہے، کتے اور گیدڑ کیوں بدنام ہیں محض اس لیے کہ ان بے چاروں کو کب بھونکنا ہے کہاں بھونکنا ہے کتنا بھونکنا ہے اس کا علم نہیں ہے، حضرت انسان میں بھی بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کا بولنا کسی بھی طرح" بھونکنے" سے کم نہیں ہے۔
ہمارے نبی نے ہمیں زبان کے صحیح استعمال کی بہت تاکید فرمائی ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک شخص اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشنودی والے کلمات ادا کرتا ہے، حالانکہ اس کے نزدیک ان کلمات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ، لیکن اللہ تعالیٰ اس کی بے خبری میں ہی اس شخص کے درجات بلند فرما دیتا ہے،اور ایک شخص اللہ کو ناراض کرنے والے کلمات ادا کرتا ہے، حالانکہ اس کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ،لیکن اللہ تعالیٰ اس کی بے خبری میں ہی اسے جہنم میں گرا دیتا ہے. (بخاری)
بہت مرتبہ انسان عوام کے ہجوم اور مجمع کی کثرت کے باعث تعلی، تکبر ، گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مقررین کی زبانیں پھسل جاتی ہیں، خطباء کی خطابت کے دوران کچھ ایسی باتیں بغیر سوچے سمجھے جوش وجذبہ میں نکل جاتی ہیں جن پر بعد میں ہمیشہ پچھتاوا ہوتاہے، ان کا ضمیر لعنت ملامت کرتا ہے، یہ صورت حال اس وقت اور بھی تکلیف دہ ہوجاتی ہے جب ایک اچھا بھلا انسان غیروں کے درمیان دوران تقریر بہک جاتا ہے ، بھٹک جاتا ہے بلکہ غیروں کو خوش کرنے کے لئے شتر بے مہار ہوجاتا ہے وہ ایسی ایسی بے تکی باتیں کہہ جاتا ہے جن کا تاریخ سے یا اسلامی تعلیمات سے دور دور کا واسطہ نہیں ہوتاہے۔ ایسے مواقع پر بہت سے مناظرین اپنی دانائی و ہوشمندی کے اظہار یا اپنی قابلیت و لیاقت کی دھونس جمانے کے لئے کچھ ادھر ادھر کی عبارات کو جوڑ کر اپنے مزعومہ اور مذمومہ خیالات کو الفاظ کا جامہ پہنا کر مادر پدر آزاد باتیں کہہ گزرتے ہیں جن کا حقائق سے اتنا ہی تعلق ہوتا ہے جتنا شیطان کا ایمان سے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پوری دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ایک حصہ موافقین کا ہوتا ہے دوسرا مخالفین کا، فائدہ دونوں کو نہیں ہوتا اور تیسری قوت اس سے اپنا مقصد حاصل کر لیتی ہے۔
مجھے یاد ہے ایک صاحب نے برسر منبر اعلان کیا تھا کہ میں نظام مصطفی کو ریجیکٹ کرتا ہوں لیکن اس کے باوجود مفاد پرستوں کی زبانیں گنگ رہیں، قلم جیب میں پڑا رہا، ضمیروں کا سودا ہوگیا اور معاملہ تھم گیا۔
مجھے یاد ہے ایک علمی شخصیت نے اللہ اور اوم کو ایک ثابت کرنے کی کوشش کی اور اس بار بھی عقیدت پرستوں کو سانپ سونگھ گیا، دارالافتاؤں نے چپی سادھ لی۔
ایسا بھی ہوا کہ ایک سیاسی مسلم نیتا نے ببانگ دہل اعلان کردیا کہ میں اکبر بادشاہ یا عالمگیر کے دین کو نہیں مانتا بلکہ خواجہ اجمیری اور حضرت صابرکلیری کے ذریعہ جو دین آیا ہے اس کو مانتا ہوں، سچی بات یہ ہے کہ اکبر بادشاہ کے دین کو حضرت عالمگیر کے دین سے جوڑنا تاریخی مطالعہ کا فقدان ہے، اکبر بادشاہ کی گمراہی اور بد عقیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے جب کہ فتاوی ہندیہ تو خود حضرت عالم گیر کے ذریعہ مرتب ہوئی ہے اور آج تک تمام اہل سنت والجماعت مدراس اور دارلافتاء کا مرجع ومصدر ہے۔ اور یہ بھی پوچھنے والی بات ہے کہ کیا حضرت عالم گیر کا دین حضرت خواجہ اجمیری اور خواجہ کلیری سے الگ تھا؟
بات اصل میں یہ ہے کہ ہم ہر اس موقع پر اپنی آنکھیں میچ لیتے ہیں جب ہمارا کوئی بندہ اوٹ پٹانگ بیان دیتاہے اور ہم اس وقت اپنا دہن بلکہ دہانہ کھول دیتے ہیں جب کوئی دور کا بندہ ایسا بیان دیتاہے۔
تازہ ترین معاملہ ہمارے گنگوہ کے چیرمین جناب نعمان مسعود کے ذریعہ سامنے آیا نعمان مسعود نے ایک تقریب میں بے خیالی اور لاعلمی کی بنیاد پر کہہ دیا کہ نعوذ باللہ حجر اسود اور شیولنگ ایک ہی چیز ہے حالانکہ یہ بات تاریخی حقائق کے اعتبار بالکل غلط ہے ۔
اس موقع پر یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی جب کفار مکہ تین سو ساٹھ بتوں کی پوجا کرتے تھے اس وقت بھی حجر اسود کفار کی پوجا سے پاک وصاف اور محفوظ رہا۔ یہ ایک جنتی پتھر ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ ہی دنیا میں آیا اور کعبہ کی دیوار میں ان ہی کے ذریعہ نصب ہوا۔
میں نے آج ہی فیس بک پیچ پر لکھا تھا کہ کچھ سنجیدہ علماء حضرات کو نعمان مسعود سے ملاقات کرکے ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنا چاہیے، تھوڑی ہی دیر کے بعد ہمارے مخلص کرم فرما جناب غفران انجم کا فون آیاکہ وہ نعمان مسعود کے بھائی ایم پی عمران مسعود صاحب سے بات کرنے والے ہیں اس کے بعد گنگوہ جاکر نعمان مسعود سے بھی بات کریں گے۔
غفران انجم صاحب کی تھوڑی سی محنت اور دینی لگن رنگ لائی اور پہلے عمران مسعود صاحب نے اپنے بھائی کے اس بیان پر اظہار افسوس وناراضگی جتائی اور اس بیان کو ویڈیو کی شکل میں وائرل کیا اور پھر دو تین گھنٹہ بعد خود نعمان مسعود نے غفران انجم صاحب اور ان کے ساتھیوں کی موجودگی میں اپنے اس بیان پر قوم سے معافی مانگی اور اللہ تعالی سے توبہ کی۔ یہ ویڈیو بھی وائرل کی گئی۔
میں پہلے بھی کہتا اور لکھتا رہا ہوں کہ مسئلہ کا حل مخالفت یا موافقت میں سوشل میڈیا یا پرنٹ میڈیا پر بیان بازی نہیں ہے بلکہ زمین پر اتر کر زمینی کام کرنے سے کامیابی ملتی ہے۔ ضرورت ہے غفران انجم صاحب جیسے جیالوں کی جو براہ راست ملاقات کرکے مسئلہ کو ختم کرنے کا سبب بنے۔
اب جب کہ نعمان مسعود صاحب ببانگ دہل ویڈیو وائرل کرکے اللہ تعالی سے توبہ اور عوام سے معافی مانگ چکے ہیں ان تمام لوگوں پر فرض ہے جو ان کے پہلے بیان کو اپنے یوٹیوب چینلوں یا فیس بک پیج پر بیانات نشر کرچکے ہیں وہ نعمان مسعود کے اس توبہ اور معافی والی ویڈیو کو بھی اپنے اپنے چینل، فیس بک اکاؤنٹ اور واٹسپ گروپ میں وائرل کریں۔ توبۃ السر بالسر و توبۃ العلانیۃ بالعلانیۃ۔ وہ گناہ جو چھپ کر ہوتے ہیں ان کی توبہ بھی چھپ کر ہوتی ہے اور وہ گناہ جو علانیہ اور کھلم کھلا ہوتے ہیں ان کی توبہ بھی کھلم کھلا ہوتی ہے۔
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H