ہماری بے بسی

سنو سنو!!

ہماری بے بسی

(ناصرالدین مظاہری)

لاک ڈاؤن میں ہی پوری دنیا کی بے بسی سمجھ میں آگئی تھی، جب حکومت کی مرضی ہوئی اشیاء خوردونوش مل گئیں جب مرضی ہوئی گھروں کو مقفل کردیا گیا، یہ بے بسی کچھ عرصہ پہلے اس وقت پوری دنیا نے محسوس کی جب تھوڑی دیر کے لئے واٹسپ اور فیس بک وغیرہ کی سروس معطل کردی گئی۔

یہ بے بسی آپ آئے دن تب محسوس کرتے ہیں جب آپ ریلوے ٹکٹ کی لائن میں لگ کر خوار ہورہے ہوں اور اچانک ٹکٹ ماسٹر ہاتھ پر ہاتھ یا اپنے سر ہر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور آپ سے کہے کہ سرور ڈاؤن ہوگیا ہے۔

یہ حالت آپ اس وقت تو بڑی شدت سے محسوس کرتے ہیں جب آپ کا موبائل آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے، ریچارج بھی ہے، چارجنگ بھی ہے لیکن بس نیٹ ورک نہیں ہے اور عین اسی وقت آپ کسی کو رقم ٹرانسفر کرنا چاہتے ہیں یا کوئی آپ کو رقم ٹرانسفر کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت آپ کے دل پر جو گزرتی ہے اس کو لفظوں کا پیرہن دینا شاید مشکل ہوگا۔

ہماری بے بسی اور بے چارگی کا آپ تصور کریں دنیا کا ہر پانچواں شخص مسلمان ہے، سوچیں مغرب مشرق تک ہماری حدود کو استعمال کئے بغیر آ نہیں سکتا، دھیان دیجیے کہ ستاون اسلامی ممالک کی فوج عسکری اور لشکری اعتبار سے اتنی زیادہ ہے کہ باقی دنیا سے زیادہ بجٹ ہے، تھوڑی دیر کے لئے غور کریں اگر آپ تیل اور گیس دینے اور فروخت کرنے پر کچھ وقت کے لئے روک لگا دیں تو فضاؤں میں چنگھاڑتے طیارے، سمندروں کاسینہ چیرتے جہاز سب خاموش ہوجائیں گے لیکن افسوس! ایسا سوچنا بھی نہیں اور اگر سوچا تو حشر سے پہلے سعودی حکمران کا قتل، صدام کی پھانسی، قذافی کی کہانی، مرسی کا انجام، سلطنت عثمانیہ کازوال، مختلف ملکوں کی خانہ جنگی اور نقض امن ایک ایک عنوان کئی کئی جلدوں کی کہانی رکھتاہے۔

آج ہمارے قبلہ اول کے محافظ شیخ محمد اسماعیل ہنیہ کی ایران میں شہادت ہوگئی، لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار شروع کیا لیکن اظہار خیال کی آزادی کا شور اور غلغلہ بلند کرنے والے دوغلوں کو یہ بھی پسند نہیں آیا، کسی کی پوسٹ ڈیلیٹ کردی گئی تو کسی کا اکاؤنٹ منجمد کردیا گیا، یعنی زبان بندی سے تالہ بندی تک اور ایک ایک کی ناکہ بندی تک سب پر نظر، ہر شخص کی نگرانی۔

آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ آپ خود کو صرف آزاد سمجھ رہے ہیں اور یہ سمجھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ قطعا آزاد نہیں ہیں آپ اپنے بینک اکاؤنٹ سے ساری رقم نہیں نکال سکتے، آپ اپنی رقم نکالنے کے لئے ان کی مرضی کے محتاج ہیں، یہ آپ کی بے بسی نہیں تو اور کیا ہے کہ آپ اپنے موبائل کے صرف مالک ہیں لیکن اس پر آپ کی اجازت کے بغیر تصرف کا حق ان ہی کو حاصل ہے وہ گھر بیٹھے آپ کا موبائل، آپ کا بینک اکاؤنٹ، آپ کے سوشل اکاؤنٹ سب کچھ بند کرسکتے ہیں اور آپ کچھ بھی نہیں کرسکتے، بھلے ہی آپ کا موبائل ایک لاکھ کا ہو لیکن دو کوڑی کے سم کارڈ کے محتاج ہیں، بھلے ہی گوگل اور فیس بک وغیرہ یہودی اثاثے ہوں لیکن آپ ان کو استعمال کرنے پر بالکل مجبور ہیں۔ ستاون اسلامی ممالک مل کر گوگل کا متبادل نہیں لاسکے، فیس بک کا توڑ نہیں کرسکے، واٹسپ سے جان نہیں چھڑ اسکے، اپنی پر پرواز اور اپنا افق نہیں ڈھونڈ سکے۔

ہم اپنے دشمن کو گالی دینا چاہیں تو رابطہ کے لئے اسی کے ایپلی کیشن استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

اب آپ یاد کیجیے دجال کو جس کو اللہ تعالی بے انتہا اختیارات کے ساتھ قیامت سے پہلے بھیجے گا تاکہ مؤمن اور غیر مؤمن کا امتحان ہوسکے، دجال کے ایک ہاتھ میں جنت اور دوسرے میں جہنم جیسی کوئی چیز ہوگی، اس کی جنت حقیقت میں جہنم اور اس کی جہنم حقیقت میں جنت ہوگی، وہ تمام تر خزانوں پر قبضہ کرلے گا اور جو اس پر ایمان لے آئے گا اس پر انعامات کی برسات کردے گا جو اس پر ایمان نہیں لائے گا اس کو سزائیں دے گا۔

غور کیجیے آج پورا دجالی نظام چل رہا ہے، دجال کے پجاری یہود کے قبضہ میں دنیا کی کل دولت کا اکثر حصہ ہے، ہرقسم کے خزانوں پر اسی کا اختیار ہے وہی دنیا بھر میں حکومت کررہاہے، ہر ملک اسی کی مرضی کے مطابق چلنے کو اپنی سعادت اور عافیت سمجھتاہے۔ وہ ہمارے آگے بوٹی پھینک کر لڑنے کا تماشا دیکھ رہا ہے، وہ ہماری بے بسی اور بے کسی پر ہنس رہا ہے، ہمارے ایمان کا سودا ہورہاہے اور ہم مجبور ہیں۔
دنیا سمٹ کر ایک پیالے میں آچکی ہے اور ہم اب تک اپنے دشمن کو نہیں سمجھ سکے۔ نہیں دیکھ سکے۔

ہمارے نبی نے ہماری انگلی پکڑ پکڑ نشان دہی کردی کہ دجال کون ہے، کیسا ہے، اس کی کیا حقیقت ہے، شکل وصورت کیا ہے، اختیارات کیا ہیں، بچنے کی تدابیر کیا ہیں، اس کا مقابلہ کرنے کی ترکیبیں کیا ہیں لیکن افسوس کہ ہم وہ دیکھتے ہیں جو یہود چاہتاہے ہم وہ سنتے ہیں جو یہود سناتا ہے، ہم وہ کرتے ہیں جو یہود کہتا ہے۔ ہماری بصیرتوں،بصارتوں، عقلوں اور قلوب و اذہان پر یاتوتالے لگ چکے ہیں یا جالے کیونکہ ہم خود سے کچھ سوچنے سمجھنے کے لائق ہی نہیں رہے۔ یا اسفاہ

خزائیں، زرد پتے اور اپنی بے بسی
آس ٹوٹی، خواب بکھرے آہ میری بے بسی

زندگی کے رنگ سارے اُڑ گئے تصویر سے
رفتہ رفتہ کینوس پر چھائی ایسی بے بسی

سامنے بہتا رہا دریا مگر باقی رہی
تشنگی سی تشنگی اور بے بسی سی بے بسی

ماجرا کیا ہے بھلا؟ فرمایئے والا حضور
دیکھتا ہوں آپ کے چہرے پہ بکھری بے بسی

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H