باریک کپڑے میں نماز

س…باریک کپڑے پہن کر نماز پڑھنا جائز نہیں، لیکن گرمی کی شدت میں چوں کہ لان کے بنے ہوئے پورے سوٹ پہنے جاتے ہیں جس میں اگر تھوڑی بہت ٹانگیں بھی جھلکتی ہیں، آیا جائز ہے یا نہیں؟

ج… کپڑا اگر رنگ دار ہو تو بدن نہیں جھلکتا، بہر حال اتنا باریک کہ بدن جھلکے اس کے ساتھ نماز نہیں ہوگی اور اگر اوپر سے موٹی چادر اوڑھ کر نماز پڑھی جائے تو ٹھیک ہے۔"

حلبی کبیر میں ہے:(ص: 214)

"إذا کان الثوب رقیقًا بحث یصف ماتحته أي لون البشرة لایحصل به سترة العورۃ."

فتاوی شامی میں ہے:

"(قَوْلُهُ: لَايَصِفُ مَا تَحْتَهُ) بِأَنْ لَايُرَى مِنْهُ لَوْنُ الْبَشَرَةِ احْتِرَازًا عَنْ الرَّقِيقِ وَنَحْوِ الزُّجَاجِ (قَوْلُهُ: وَلَايَضُرُّ الْتِصَاقُهُ) أَيْ بِالْأَلْيَةِ مَثَلًا، وَقَوْلُهُ: وَتَشَكُّلُهُ مِنْ عَطْفِ الْمُسَبَّبِ عَلَى السَّبَبِ. وَعِبَارَةُ شَرْحِ الْمُنْيَةِ: أَمَّا لَوْ كَانَ غَلِيظًا لَايُرَى مِنْهُ لَوْنُ الْبَشَرَةِ إلَّا أَنَّهُ الْتَصَقَ بِالْعُضْوِ وَتَشَكَّلَ بِشَكْلِهِ فَصَارَ شَكْلُ الْعُضْوِ مَرْئِيًّا فَيَنْبَغِي أَنْ لَايَمْنَعَ جَوَازَ الصَّلَاةِ لِحُصُولِ السَّتْرِ. اهـ."

(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ١/ ٤١٠)

في عمدة القاري:

"أَنه صَلَّی اللَّه علیه وَسَلَّم حذر أهله وَجَمِیع الْمُؤْمِنَات من لِبَاس رَقیق الثِّیاب الواصفة لأجسامهن بقوله: کم من کاسیة في الدنیا عاریة یوم القیامة، وفهم منه أن عقوبة لابسة ذلك أن تعری یوم القیامة".

( باب ماکان النبي صلی الله علیه وسلم یتجوز من اللباس ، ج: ۲۲، ص: ۲۰، ط: دار إحیاء التراث العربي)

في تکملة فتح الملهم:

"فکل لباس ینکشف معه جزء من عورة الرجل والمرأة لاتقره الشریعة الإسلامیة ..... وکذلك اللباس الرقیق أو اللا صق بالجسم الذي یحکي للناظر شکل حصة من الجسم الذي یجب ستره، فهو في حکم ماسبق في الحرمة وعدم الجواز".

( کتاب اللباس والزینة:۴/۸۸)

فقط واللہ اعلم

https://chat.whatsapp.com/E0yaj3mLqMJHNj0iwzycMt

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H