Article Image

مبارک احمد ثانی اوراس کےمذہب نامہذب پر نوازشیں کیوں؟

مبارک احمد ثانی اوراس کےمذہب نامہذب پر نوازشیں کیوں؟
ازمحمدعثمان صدیقی
مبارک ثانی کا تعارف کیا ہے کیوں اس متنازعہ بندے کےپیچھے پوری قادیانیت وپوری سپریم کوٹ کھڑی ہوئی
ایسی نوازشیں اس ملزم پر کیوں کی گئیں؟
اصل میں ملزم مبارک ثانی قادیانیوں کےمدارس کا مرکزی مبلغ ہے یہ قادیانی نوجوانوں لڑکیوں لڑکوں کی قادیانیت کی تبلیغ کا ٹرینر ہے
ملزم مبارک ثانی، قادیانیت مذہب کےبانی مرزے غلام احمد قادیانی کذاب کے پڑپوتےاس کےپانچویں خلیفہ مرزا شریف احمد کے پوتے مرزا منصور احمد و ناصرہ بیگم کےبیٹےمرزا مسرور احمد کا استاد رہاہے
ملزم مبارک ثانی مدرسہ الحفظ چنیوٹ کا پرنسپل ہے ملزم مبارک ثانی قادیانیوں کےمرکزربوہ سےگرفتارکیا گیا جس کا مقدمہ نمبر 661/22 ہے
ملزم مبارک ثانی سافٹ وئیر ہاؤس سےتحریف شدہ قرآن انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کروانےو منظم انداز سےاسےپاکستان بھر میں تقسیم میں ملوث تھا ملزم سےبھاری تعداد ميں تحریف شدہ ترجمہ قرآن و دیگر کتب برآمد ہوئےتھے
ملزم مبارک ثانی کی گرفتاری پوری قادیانیت کے لیے درد سربنی ہوئی تھی
جس مشکل سے اتنے بڑے گمراہ گر ملزم پر ہاتھ ڈالا گیا FIR کاٹی گئی اس کا بیان بھی مشکل ہے
کیس کی تفصیل یا مذکورہ متنازعہ فیصلے پر تبصرے سےقبل یہ بات سب سےاہم ہےکہ ملزم مبارک ثانی نےسپریم کورٹ میں محض ضمانت کی درخواست دائرکی تھی جو نچلی عدالتوں سے بلاترتیب ردکی جاتی رہی۔
سپریم کورٹ میں ضمانت ہی کی درخواست ملزم کی جانب سے دئیے جانے کےبعدسپریم کورٹ اسی حد تک رہتی تیکنیکی طورپر اس کیس میں مداخلت کرنا لوئرکورٹ میں چلتے ہوئے اس کیس کی جزئیات کو چھیڑنا ہی سب سے بڑی قادیانیت نوازی ہے
ٹیکنیکلی اس سارے کیس کو خراب کرنےکا سپریم کورٹ کےپاس نہ توکوئی جواز تھا نہ جواب ہے
ملزم مبارک ثانی کےکیس کی ہرسماعت میں سپریم کورٹ میں ناچیز پیش ہوتارہا
کچھ احوال سپریم کورٹ کےاندر سماعت کےدوران کےعرض کرنا ضروری سمجھتاہوں
ملزم مبارک ثانی کی سپریم کورٹ سےمحض 5ہزارروہے پر ضمانت کے بعدنظرثانی کیس میں پہلی ہی سماعت بمورخہ 26 فروری 2024 چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کامدعیان مقدمہ سےتلخ رویہ بات بےبات طعنہ بازی تضحیک آمیز اندازموکل کو بولنے نہ دینا بہت کچھ ظاہر کرگیا تھا
پاکستان کے سب سے بڑے منصف مسند انصاف پر تحکمانہ انداز سے اس کیس میں پہلے ہی دن سے مسلمانان پاکستان بالخصوص علماکرام سے رعونت سےپیش آتے رہےجبکہ قادیانیوں کےبدنام زمانہ وکیل عثمان کریم الدین کو نظرثانی کیس کی پہلی ہی سماعت پرسماعت کےکچھ ہی لمحات کےبعد قریبا 45 منٹ سنا قادیانی وکیل کی گفتگو میں نہ مخل ہوئے نہ اسےلقمہ دیا
جبکہ نظرثانی کی اپیل توانہوں نےدائرکی تھی جن کو فیصلے پر اعتراض تھا جبکہ عثمان کریم الدین اوران کے موکل مبارک ثانی تو پچھلے فیصلے میں کھل کھلا کے ضمانت اوراپنے مذہب کےلیے ریلیف لےچکے تھے
قادیانی وکیل عثمان کریم الدین کی گفتگو کےدوران عدالت میں ایسے خاموشی رکھی گئی کہ سوئی گرےتواوازنہ آئے
پہلی سماعت پرہی موکل حسن معاویہ کو تین سےچار بارچیف جسٹس نے شٹ اپ کال دی اور بزوردھونس سے خاموش کرادیا
پہلی سماعت پر چیف جسٹس نے صرف اتنی مہربانی کی کہ مختلف مکاتب فکر کے10 سےزائد اداروں سےاپنے فیصلے بابت تحریری رائے طلب کرلی

نظرثانی کی دوسری سماعت ایک ماہ بعد بمورخہ 28 مارچ 2024 کوہوئی جب 10 اداروں سے موقف سپریم کورٹ جمع ہوچکا تھا اس دن تمام مکاتب فکرکےاداروں کے مقرر کردہ نمائندے، مدعیان مقدمہ، ریفرنس دائرکرنےوالےاحباب واسلامی نظریاتی کونسل کےممبران اصالتا ووکالتا عدالت میں موجود تھے
کاروائی شروع ہوتےہی چیف جسٹس نے علما سےجو روسٹرم پر موجود تھےمخاطب ہوتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ آپ عالم دین ہیں آپ اسلام قرآن وحدیث کےمطابق عدالت کی رہنمائی کریں لیکن قانون وآئن کو ہم آپ سے بہتر جانتےہیں آپ اس کو ہمارے پر چھوڑ دیں
کاروائی کےآغاز پر ہی ایسے ریمارکس سے مجھے خیال آیا کہ کیسی چالاکی ہے قانون وآئین کی غلط تشریحات کرتے ہوئےاور آئن میں درج 298c کےتحت واضح پابندیاں قادیانیوں کےلیے درج واضح حدبندیاں نظراندازکرتے ہوئے توجناب نےملزم مبارک ثانی کوضمانت پر رہاکردیا
دوسرا یہ کہ دیگرمذاہب کی مذہبی آزادی کی شقوں کو قادیانیت کی تبلیغ کےجواز کےطور فیصلے میں غلط qoute کیا جبکہ اب نظرثانی کیس میں پھر ڈھٹائی سے ریمارکس میں مصرہیں کہ میں ہی قانون وآئن کو زیادہ سمجھتاہوں دوسری طرف جن اسلامی اداروں یامذہبی شخصیات سے رائے لی انہی کو پابندبھی کررہے کہ آپ آئین وقانون پر توبات ہی نہ کریں یعنی وہ عدلیہ کی ڈومین ہے۔
ان شخصیات میں مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صاحب بھی شامل ہیں جن کا موقف اس وقت چیف جسٹس کی ٹیبل پرسامنے پڑا ہواتھا ( جوخود تواس وقت عدالت میں توحاضرنہ تھے مگر)مگردنیا جانتی ہےکہ مفتی منیب الرحمن ماہردین وقانون ہیں انہوں نے1973 میں LLB کی ڈگری لےرکھی ہے انہی نے سپریم کورٹ میںں جو اپنا نمائندہ مقرر کیا وہ سید حبیب الحق شاہ صاحب اس وقت چیف جسٹس کے سامنے کھڑے تھے بھی LLB ڈگری ہولڈر ماہر قانون ہیں۔
دیگر علما بھی دین کےساتھ قانون کےماہر تھے مگر چیف جستس کی طرف سے انہیں پابند کردیاگیا کہ وہ عدالت میں قانونی رائے نہیں دیں گےساتھ ساتھ دیگر ماہر وکلا بھی جو قاضی فائز عیسی سےتجربے عمر علم عمل میں کہیں بڑےہیں ان سے بھی موصوف نےاپنے کو آئن وقانون کا چیمپین سمجھا
فیا للعجب!
چیف جسٹس نے دوران سماعت ان جملہ علما سے اچانک مسلمان کی تعریف پوچھ لی یہ سوال میرےلیے حیران کن تھا یہاں کیس قادیانیت کےحوالے سے تھا اب ان دس اداروں یا شخصیات نے جب اہنا مشترکہ ومتفقہ موقف تحریری طورجمع کرادیا تھا توہوناتویہ چاہیے تھا کہ چیف جسٹس اسی موقف بارے یا قادیانیت کیس بارےسوالات کرتے لیکن تاریخ کا پڑھا وہ واقعہ یاد آگیا جب مقننہ سے 1974 میں قادیانیت کو کافر قرار دیا گیا تو اس وقت قادیانیوں کےسپریم کورٹ میں دائر کیس کی سماعت کےدوران اس وقت کے چیف جسٹس نے موقع پر موجود مسلمانوں سےبھی اسی طرح کےالٹے سیدھے سوالات کیے
مسلمانوں کی تعریف پوچھی
لگ رہاتھا قاضی صاحب وہ عدالتی کاروائی پڑھ کرآئے تھے
اس سماعت میں علمائے کرام کی طرف رخ کرکے جب یہ پوچھاکہ مسلمان کی تعریف کیا ہےتوظاہر ہے مسلمان کی تعریف کی تشریح تمام علما کی ایک ہی طرز کی بیان کرنا ممکن نہیں تھی چناچہ ایسا ہی ہوا روسٹرم پر موجود علما نے مائک میں اپنے تئیں الگ الگ آیات احادیث کےتحت اپنی اپنی تشریحات بیان کرنا شروع کردیں ـ عدالت میں غیرمسلم قادیانی وکلا و UN کے وفود کوچیف جسٹس اس سوال کےعلما کےملے جلے جوابات سےیہ باور کرانےمیں کامیاب ہوگئےکہ یہ سب مسلمان ایک نہیں ہیں
صاف ظاہر ہورہاتھاکہ یہ حربہ کیس کےحوالے سے جمع کرائےگئےدس اداروں کے تقریبا مشترکہ موقف کو سبوتاژ کرنےکےلیے اپنایا گیا
قارئین آپ نےبھی دیکھاہوگا کسی بھی قادیانی سےآپ جب ٹاکرہ کریں تووہ اپنےکو بچانےکےلیےالٹامسلمانوں کےاختلافات ابھارتاہےیا ایسےسوالات کرتاہےجس سے آپ اختلافی معاملات میں الجھ کراپنی میں پڑکر دفاعی ہوجائیں
مجھے اب تک تشویش ہےکہ چیف جسٹس نے ایسا ہی کیوں کیا
یہی نہیں چیف جسٹس نے وہاں موجودایک عالم دین کی جانب سےمسلمان کی تعریف(جونہ توکیس سےمطابقت رکھتاتھا نہ ہی کسی طور پوچھنابنتاتھا) بارے بیان کردہ قرآن کی آیت کی سبقت لسانی یا حافظےکےضعف کی وجہ سے غلط نمبربیان کرنے پرموقع پر موجود عملے کوحکم دےکرلیپ ٹاپ سے تحقیق کرواکے آیت کا نمبر غلط ثابت ہوجانے پربلاوجہ کی جرح کرکےان عالم دین کی تضحیک شروع کردی عالم صاحب کواچھا خاصا زچ کیاوہ تو بھلا ہودیگر علما کاجنہوں نےمسلمان کی تعریف مختصرابیان کرتے ہوئےچیف جسٹس کی توجہ اصل موضوع کی طرف مبذول کرائی
اس سماعت میں جو عالم دین روسٹرم پر بولنے لگتے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پہلے تو ان سے روسٹرم پرایسےبرتاؤ کرتے جیسے وہ کلاس کےبچے ہیں اوریہ موصوف ٹیچر پھر ہر کسی سےایسے پوچھتےکہ اس کیس میں آپ کیا مدعی ہیں یا ادارےکےنمائندے وغیرہ وغیرہ جبکہ وہ جانتے تھے کہ نہ توکوئی عالم دین غیرضروری وہاں موجودتھا نہ ہی غیرضروری بولنا چاہتا تھااوریہ کہ جو آتاوہ اپنا تعارف خود بھی اچھے سے بیان کرہی رہاتھا مگر یہ بار بار عجیب انداز میں رعب ڈال کر تعارف پوچھتے رہےجیسے ہی وہ عالم صاحب کیس کےحوالے سے روسٹرم پر کھل کےبولنے لگتےانہیں لقمہ دےکریاتوخاموش کرادیاجاتا۔۔۔یا مجبور کرادیا جاتاکہ آپ غلط ہی ہیں
دوسری چیز یہ کہ اس سماعت میں چیف جسٹس اسلامی اداروں کی جانب سے جمع کرائے گئے موقف بارے بھی محتاط رہےاپنے ریمارکس کھل کےدینے کےبجائے یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ میں نےابھی کچھ کا موقف پڑھاہے کچھ کا رہتاہےجبکہ موقف جمع ہونےسے اس سماعت تک کا دورانیہ ایک ماہ کا تھا کوئی پانچ پانچ سو صفحات کی کتب تو جمع کرائی نہیں گئی تھیں کہ مطالعہ میں چیف صاحب کو دیر لگتی کسی ادارے کا موقف پانچ صفحات ہر محیط تھا توکسی کا دو پر توکسی کا زیادہ سےزیادہ دس صفحات پر ۔۔
صاف لگ رہاتھا کہ چیف جسٹس کی اس کیس پر سٹڈی کم تھی
سماعت کےآخر میں تین ہفتے بعد اگلی سماعت کا اعلان کردیا
اگلی سماعت کی تاریخ پہلے تو 28 مئی 2024 جاری کی گئی مگر اچانک ہی 29 مئی 2024 جاری کردی گئی
اس اگلی سماعت پر کہ جب تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علما موجود تھے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے بارہا علما کے روسٹرم پر اپنا موقف دینےکےدوران انہیں قادیانیت بارے قانون وآئن کی تشریح کرنےپرپھر پچھلی سماعت میں دئیے گئے ریمارکس دیتے ٹوکا کہ آپ صرف قرآن وحدیث کےمطابق موقف بیان کریں قانون وآئین مجھےنہ سکھائیں مجھے اچھی طرح قانون کاپتہ ہے
علما کو بولا آپ سب اپنا ایک ہی نمائندہ آگےکریں جب مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صاحب کےمقرر کردہ نمائندے ایڈوکیٹ علامہ سید حبیب الحق شاہ صاحب نے گفتگو شروع کی اورچیف جسٹس کو قادیانیوں کےمذکورہ تحریف شدہ قرآن تفسیر صغیر کا سرورق دکھا کر توجہ دلائی کہ مبارک ثانی اس تحریف شدہ کتاب کو اصل قرآن مانتا سمجھتا اوراسی کی تبلیغ کرتااورتقسیم کرتارہارنگے ہاتھوں گرفتارہوا ہےتو چیف جسٹس جھینپتےہوئے بولے میں نےیہ تفسیر صغیرکا سرورق نہیں دیکھا ہوا مجھے دکھادیں اس سےاندازہ ہواکہ قانون جاننے کا دعوی کرنےوالے چیف جسٹس تواس کیس کو بھی صحیح طرح نہیں جانتےتھے جس کی بنا وہ قانون کا غلط سہارالےکر ملزم مبارک ثانی کوضمانت دےگئے
سوچتا ہوں کیس کی FIR پر توچیف جسٹس بڑے چیں بجبیں ہوتے رہےمگر قانون وآئن کی کتاب قومی اسمبلی میں لہرانے والے آئن کی پاسداری آئن کی عملداری کا بھرم کرانےوالےچیف جسٹس قاضی فائز عیسی مبارک ثانی ضمانت کیس میں مسلسل تحریف شدہ قرآن کی تقسیم کےجرم میں 298c کا قانون کیوں نظرانداز کرتےرہےجبکہ مبارک ثانی کوضمانت دیتے اپنی مرضی سے جو چاہا آئنی دفعہ آئن پاکستان سےاٹھاکےفٹ کردی تو 298c کیوں نظر میں نہ رکھی؟
بچہ بچہ انگشت بدنداں ہےکہ موصوف چیف جسٹس صاحب آئین پاکستان میں درج 298c کےقانون پر کہ جس کےتحت کسی قادیانی کو شعائراسلام قرآن نماز روزہ کی اصطلاحات استعمال کرتےکی کسی صورت اجازت نہیں جبکہ یہاں تو اس سے بھی بڑا جرم تحریف شدہ قرآن کی تقسیم واشاعت کا تھا جو پنجاب کےقوانین ہی نہیں پاکستان کے آئن 298c کےتحت ہرصورت جرم تھا
ایک ایسے جرم کہ جس کی سزاآئن ہی کےمطابق تین سال قید ہے ملزم مبارک ثانی کوکھلی چھٹی دےکر رہا کرنا آخر کون سے قانون کےتحت تھا ؟
پھرپچھلے فیصلے میں چھ ماہ سزاکا دعوی کرکےتیرا ماہ کی سزا پر دکھی ہوتے مدعیان مقدمہ ریفرنس دائرکرنے والوں و عام مسلمانوں کو قانونی موشگافیوں میں الجھا کر ایک آئن وقانون کےباغی ملزم کو زبردستی کیوں ریلیف دینے پرمصر رہے
آئن پاکستان میں قادیانیوں کی مذہبی آزادی کے لیے کوئی قانون موجود ہےہی نہیں بلکہ انکی تبلیغ وتشہیر پر 298c ودیگرکےتحت الٹا پابندی ہی ہےمذہبی آزادی کا قانون اگرہے تواقلیتوں کے لیے ہے اورقادیانی اپنے کواقلیت کسی صورت ماننے کو تیار نہیں جبکہ پاکستان کا آئن انہیں کسی صورت مسلمان ماننے کو تیار نہیں توپھر قادیانیوں کو کس ضمن میں کون سےقانون کےتحت مذہبی آزادی ورہائیاں؟
پاکستان میں ہر غیرمسلم کو مذہبی آزادی کی اجازت اسی لیے ہے کہ وہ اپنی کتاب اپنی شریعت اپنی رسومات کے تحت پاکستان میں اپنے مذہب پر عمل پیرا بھی ہے اوراس کی تبلیغ وتشہیرکی اسے ہمارا آئین اجازت بھی دیتاہے مگر قادیانیوں کو کسی صورت اس لیے اجازت نہیں دیتاکہ یہ اپنے کواقلیت و غیر مسلم نہیں مانتے اوردوسرا یہ آئن پاکستان کہ جس میں ان کا کفر واضح ہے انکی تبلیغ وتشہیر پر قانونی طور پابندیاں کھل کےبیان کی گئی ہیں کو یہ نہیں مانتےاورہمارے ہی قرآن نماز روزے کی اصطلاحات کو ایک نیا مذہب گھڑ کر ایک نیا نبی گھڑ کر اپنارہے ہیں اس منافقت ہی کی وجہ سے آئن نے کھل کر ان کےبارے واضح کردیا ہےتو
اس کیس میں غیرقانونی غیرآئنی فیصلہ دےکر چیف جسٹس قادیانیوں کے اعلانیہ سہولت کار ثابت ہوئے
چیف جسٹس کا دینی طبقات سے رویہ اس پوری نظرثانی کیس کی سماعتوں میں متعصبانہ رہا
اس سماعت میں فیصلہ محفوظ کرلیا گیااور 24 جولائی 2024 کو اپنے پرانے غیرقانونی غیرآئنی فیصلے سے بھی دوہاتھ آگے ایک اور متازعہ فیصلہ سنا دیا گیا
ملزم کےخلاف مسلمانان عالم کی طرف سے لوئرکورٹ میں کیس چل رہاہےسپریم کورٹ میں بھی تمام مسلمانان عالم کی طرف سے مشترکہ وکلا پینل کےزریعے بہت مضبوط ومربوط انداز سےکیس چلایا گیا مگر اعلی عدلیہ بالخصوص چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی شروع ہی سے بدنیتی شامل ہے ۔
سپریم کورٹ می ملزم مبارک ثانی نے کیس محض ضمانت کا دائرکیاتھا چیف جسٹس صاحب خواہ مخواہ قادیانیت نوازی کےچکر میں پورا کیس کھول کےاپنی عدالت لگاکے بیٹھ گئے
تیکنیکی کیس نچلی عدالت سے اوپر پہلے ہائی کورٹ اورپھر سپریم کورٹ آتا
اس کیس کا معاملہ ابھی نچلی عدالتوں میں حل ہونا باقی تھا
جس بنیاد پر ملزم کو ضمانت دی گئی قادیانیت کی تبلیغ سےزیادہ تحریف شدہ قرآن کی تقسیم کےجرم کومدنظر رکھتےہوئےضمانت رد کرنا بنتی تھی قرآن کی تحریف شدہ نسخے قرآن پاک کہہ کر تقسیم کرنےکی سزا بلکل گول مول کرکے محض تبلیغ پیمانہ رکھاجاتارہا اوراس فیصلےمیں بھی رکھاگیابلکہ یہ کہا گیا کہ ملزم نے توتحریف قرآن کی ہی نہیں توجناب تحریف شدہ قران کےنسخے بانٹناکیا یہ ملزم کا جرم نہ تھا؟
تحریف شدہ قرآن کو تفسیر صغیر کی شکل میں قادیانیت مذہب کاتفسیر وترجمہ قرآن قرار دےکر بعینہ اسے ہی اصلی قرآن مان کر تقسیم کرناملزم کاسنگین جرم ہے
دیگرمذاہب کےلوگ اپنی بائبل وید گرنتھ زبورتقسیم بطوراقلیتی مذہب تقسیم کرتےرہتے ہیں مگراس کیس میں تشویش قرآن پاک کے تحریف شدہ ترجمےکو قادیانیت کی ترویج کےلیے تقسیم کرنےپہ اس لیے ہےکہ وہ اسے عام مسلمان کو قرآن کہہ کہہ کردیتےاورپڑھا کر گمراہ کرتےہیں توضمانت دیتے ہوئے اس تشویش کو سپریم کورٹ نے یکسرمسترد کیااورملزم کو شعائراسلام کےقادیانیت کےحق یا اس کی ترویج کےاستعمال کےخلاف واضح درج قوانین وآئن کو نظرانداز کیا
مزید یہ کہ قرآن پاک نماز روزہ سب کوقادیانیت کےمذہب کےمطابق درست سمجھا گیا اور دیگر مذاہب کےمذہبی آزادی کے قوانین کوقادیانیت کی تحریف شدہ قران سے دی جانے والی سراسرغیر اسلامی غیرآئنی تبلیغ سےجوڑ کر ضمانت دیتےہوئے مذہبی آزادی قرار دےکر آئنِ پاکستان کی دھجیاں اڑادی گئیں
ضمانت کےکیس سے ہٹ کر کھلے عام قادیانیت کی ترویج تبلیغ پر اسلام وآئن سے متصادم رائے کو زبردستی حکم بنا کر اسلامیان پاکستان کی پہلے فیصلےسے 6فروری 2024 کو نہ صرف دل آزاری کی بلکہ اس کےبعد 24جولائی 2024کو مسلمانان پاکستان کے اس متنازعہ فیصلےپرکیے گئے 10 سے زائد ریفرنسز نظرثانی کی اپیل کےبعد مختلف مکاتب فکر کےاپنے ہی طےکردہ اداروں جن میں اہلسنت وجماعت بریلوی دیوبندی اہلحدیث اہل تشیع سےطلب کردہ قرآن وحدیث وآئین پاکستان کےمطابق مشترکہ وحتمی ودوٹوک رائے کوہی الٹا مستردبھی کردیاگیا
فیصلے میں تمام پٹیشنرز ریفرنس دائر کرنے والے دیگر مدعیان سب کی درخواستیں بھی رد کردی گئیں
ملزم مبارک ثانی نے سپریم کورٹ سے اپنےمذہب کی ترویج کی اجازت نہیں ضمانت مانگی تھی
طرفہ یہ کہ ضمانت کےساتھ قرآن کی تحریف شدہ نسخوں کی تقسیم ہی نہیں احادیث و دیگر اسلامی نصاب میں قادیانیت کے پیوند لگاکر قادیانیت کا نصاب بنا کراسے اسلام قرار دینے والے بدبخت منافق قادیانیوں کو خلوت وجلوت کی عجیب اصطلاحات بیان کرکےبانٹنے بیان کرنےکی اجازت دےدی ہے۔
اس تبلیغ کی اجازت دےدی گئی جو قرآن وحدیث کی کتب کو قادیانیت پرمبنی تعلیمات میں ڈھال کراصل تعیلمات میں تحریف کرکے دینا آئن وقانون کےمطابق ہرصورت جرم ہی ہے
پاکستان بھرمیں اپنےگھروں کے بند کمروں میں غیرآئنی وغیرقانونی قادیانی مذہب کےجرائم کی اجازت کےبعد ہرعام پاکستانی بھی بند کمرےمیں جرائم زنا جوا شراب نوشی کوچاردیواری میں جرم کو جرم نہیں سمجھے گاایسے جرائم کی بند کمرے میں سپریم کورٹ کی اس کیس کی آڑ میں اجازت سمجھےگابند کمرےمیں قتل جرم تصور نہیں ہوگا قاتل یہ فیصلہ عدلیہ کےمنہ پر مارے گا کہ چیف جسٹس فرماتے ہیں بند کمرےمیں اگرقادیانی جرم کرسکتاہےتوہمیں بھی اجازت ہےکہ باقی بھی آئن میں درج جرائم کو نظراندازکرکےبند کمروں میں جومرضی جرم کریں
ضمانت کےکیس کےاس متنازعہ درمتنازعہ فیصلے میں ججز فرماتے ہیں اسلام تلوارسے نہیں حسن اخلاق سے پھیلا تلوارسےاسلام پھیلانے کا صرف پروپیگنڈہ ہے۔
مجھےیہ سمجھ نہیں آرہی کہ اس پورے کیس میں تلوار سےاسلام پھیلا یا حسن اخلاق سےجیسے جملے لکھنے کا کیا مقصد قادیانیت بارے کیس میں ایسے جملے لکھنے کاکیا مقصد
قادیانی کو ضمانت دینا ہو یا انہیں تبلیغ کی اجازت دینا سپریم کورٹ کا اس جملے کا فیصلے میں تحریر کرنا کیا معنی رکھتاہے؟
مفصل تحریر کےذریعے اپنا مافی الضمیر عرض کردیا ہے سپریم کورٹ نے جو قادیانیت نوازی کی ہے اس پر دل بہت دکھی ہوا
مگر ہم نہ منکرین ختم نبوت اورنہ ان کے یاروں کےایسے غیر آئنی فیصلے مانتے ہی نہ ہی مانیں گے۔
قادیانیت کاناطقہ بند کرتے رہیں گے۔
تاجدارختم نبوت ﷺ زندہ باد

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H