📜 معـارف التـربیـة
📌 مرد وعورت کی نماز میں فرق
سوال: بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر مرد و عورت کی نماز کے درمیان کوئی فرق ہے تو اس حدیث کا کیا مطلب ہے جس میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ "صلوا کما رأیتموني أصلي"؟
جواب: واضح رہے کہ یہ ارشاد گرامی حضور اکرم ﷺ نے حضرت مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ کے اپنے قبیلہ میں واپس ہوتے وقت ارشاد فرمائی تھی۔
(بخاری ۱؍۸۸، حدیث:٦٢٢، نسخۂ ہندی فتح الباری بیروت ۲؍۱۱۱، حدیث ٦٣١، عمدۃ القاری بیروت ۵؍۱٤٥)
اس حدیث کے اصل مخاطب حضرت مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ ہیں، اس حدیث میں نماز کے اصول، ارکان، فرائض و واجبات میں و مرد و عورت سب داخل ہیں۔
1- مرد و عورت کی نماز کے آداب و مستحبات میں فرق ہے لیکن آداب و مستحبات میں مردوں اور عورتوں میں فرق ہے جو کہ اس حدیث میں بیان نہیں کئے گئے ہیں، بلکہ نماز کے واجبات اور فرائض کی کیفیات اور کمیات بیان کی گئی ہیں اور آداب و مستحبات دوسری حدیث میں ہیں جن میں عورتوں کے الگ اورمردوں کے الگ ہیں، جیسا کہ ذیل کی حدیثوں سے واضح ہوتا ہے۔
□ عن أبي هریرۃ-رضي الله عنه- عن النبي صلی الله علیه وسلم قال: والتصفیق للنساء، والتسبیح للرجال۔
(صحیح البخاري، کتاب الصلاۃ، باب التصفیق للنساء ١٦٠/١، رقم: ۱۱۸۹، ف:۱۲۰۳، صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب تسبیح الرجل وتصفیق المرأۃ، النسخة الہندیة ۱/ ۱۸۰، بیت الأفکار رقم:٤٢٢)
□ فقال: لي رسول الله صلی الله علیہ وسلم: یاوائل بن حجر! إذا صلیت فاجعل یدیک حذاء أذنیک، والمرأۃ تجعل یدیها حذاء ثدییها۔
(المعجم الکبیر للطبراني ۲۲/۲۰، رقم:۲۸، جامع الأحادیث للسیوطي ۹/ ۲۲۳، رقم:۲۸۱٤٧، مجمع الزوائد ۲؍۱۰۳و ۹/ ۳۷٤)
□ عن یزید بن أبي حبیب أن رسول الله صلی الله علیه وسلم مر علی امرأتین تصلیان، فقال: إذا سجدتما فضما بعض اللحم إلی الأرض، فإن المرأۃ لیست في ذلک کالرجل۔
(جامع الأحادیث للسیوطي۱/ ۲۲۰، رقم:۱٤٥٢، مراسیل أبي داؤد ۸، السنن الکبری للبیہقي، دارالفکر جدید ۳/ ۷۵، رقم: ۳۲۸۵)
2- عورت کی نماز کا سجدہ مرد کی نماز سے مختلف ہے
عورتوں کا سجدہ کی حالت میں بدن کے اعضاء کو ایک دوسرے سے چپکا کر رکھنا، اسی طرح دونوں پیروں کو ایک طرف نکال کر چمٹ کر بیٹھنا حدیث سے ثابت ہے۔
دونوں طرح کی حدیثیں ملاحظہ فرمائیے:
□ عن یزید بن أبي حبیب أن رسول الله صلی الله علیه وسلم مر علی امرأتین تصلیان، فقال: إذا سجدتما فضما بعض اللحم إلی الأرض، فإن المرأۃ لیست في ذلک کالرجل۔
(مراسیل أبي داؤد۸،رقم:۸۷، السنن الکبری للبیہقي، دارالفکر جدید ۳/ ۷۵، رقم:۳۲۸۵، وفي نسخة القدیم ۲/ ۲۲۳)
□ عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: إذا جلست المرأۃ في الصلاۃ وضعت فخذها علی فخذها الأخری، وإذا سجدت ألصقت بطنہا في فخذیہا کأستر مایکون لہا، وإن الله تعالی ینظر إلیہا ویقول یا ملائکتي أشہدکم أنی قد غفرت لہا۔
(السنن الکبری، دارالفکر ۳/ ۷٤، رقم: ۳۲۸۳، وفي نسخۃ القدیم ۲/ ۲۲۳)
□ عبد الرزاق عن معمر عن قتادۃ، قال: جلوس المرأۃ بین السجدتین متورکۃ علی شقہا الأیسر الحدیث
(مصنف عبد الرزاق ۳/۱۳۹، رقم:۵۰۷۵)
□ عن علي-رضي الله عنه-قال: إذا سجدت المرأۃ فلتحتفز، ولتلصق فخذها ببطنها۔
(مصنف عبد الرزاق، المجلس العلمي ۳/ ۱۳۸، رقم:۵۰۷۲، المصنف لإبن أبي شیبہ، کتاب الصلاۃ، باب المرأۃ کیف تکون في سجودہا، موسسہ علوم القرآن جدید ۲/ ۵۰٤، رقم:۲۷۹۳)
(مستفاد : فتاوی قاسمیہ ٧/ ٢٧٦-٢٨٨)
🌏 دارالریان اکادمی آن لائن
(علوم نبوت کی فکری درســگاہ)
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H