Article Image

آپ تنخواہ کیوں نہیں لیتے

آپ تنخواہ کیوں نہیں لیتے.
..................................
مفکر اسلام مولانا مفتی محمود رح جب چیف منسٹر آف NWFP ہوئے تو اعلان کیا کہ میں بطور وزیر اعلی کے تنخواہ نہیں لیا کرونگا صرف بحیثیت ممبر نیشنل اسمبلی جو تنخواہ ملتی ہے وہی کافی ہے. جب ایک دن کچھ بے تکلف مہمانوں سے باتیں کر رہے تھے کہ بطل حریت مولانا غلام غوث ہزاروی رح تشریف لے آئے حال احوال کے بعد باتوں کاسلسلہ پھر شروع ہو گیا اور مفتی صاحب کے مہمانوں کی آمد جاری رہی. حتیٰ کہ مہمان خانہ سارا بھر گیا. مہمان تو کسی بھی پٹھان کے گھر آجائےتو بغیر کچھ کھلائے پلائے پٹھان اٹھنے نہیں دیتا پٹھان ہو پھر چیف منسٹر ہو تو مہمان کی توقعات بھی ماشاءاللہ اسی لیول کی ہونگی نا.
بار بار چائے, بسکٹ و دیگر مشروبات و ماکولات سے دسترخوان سجتا رہا جب رات گئے کافی مہمان رخصت ہو گئے مفتی صاحب کے ساتھ صرف مولانا ہزاوری ایم این اے, مَیں تین چار اور پرسنل سٹاف کے لوگ کمرے میں تھے. مفتی صاحب کے چہرے پر تھکاوٹ کے شدید اثرات نمایاں تھے تو حضرت ہزاروی رح نے مخصوص طنزیہ انداز میں پوچھا مفتی صاحب وزارت علیاء کا مزہ آیا. مفتی صاحب نے فرمایا حضرت یہ تو کارِدارد ہے ,بہت مشکل کام ہے کاش کوئ اللہ کا بندہ اس ذمہ داری کو نبھانے کا اہل ہوتا عالمی استعمار کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے والا ہوتا اسکے ذہن میں ملک کے اندر موجودہ حالات میں اسلامی نظام کی تنفیذ کا مکمل نقشہ ہوتا اسلامی سیاست کی اونچ نیچ سے آشنا ہوتا عالمی سیاست پر نظر رکھنے والا ہوتا تو میں آج سیاست پر قاسم العلوم میں ترمذی شریف پڑھآنے کو ترجیح دیتا.
پھر فرمایا مجھ کو محدثِ عصر مولانا یوسف بنوری رح کے متعلق معلوم ہوا کہ انہوں نے ہمارے سیاسی عمل اور انتخابی سیاست پر اعتراض کیا ہے اور یہ جملہ ارشادفرمایا ہے کہ قرآن و حدیث کا پاکیزہ ماحول چھوڑ کر سیاست کی غلیظ وادی میں اترنا کوئ دانشمندی نہیں.
مجھے یہ روایت پہنچی تو مجھے رنج ہوا میں کراچی بنوری ٹاون جامعہ میں گیا تو حضرت بنوری رح اتفاق سے دورہ حدیث کی کلاس لے رہے تھے میں سیدھا درس گاہ میں پہنچا اور سلام دعا کے بعد عرض کیا حضرت یہ کتاب حدیث بخاری شریف جو رحل میں آپ کے سامنے پڑی ہے اور یہ جو طلباء اطمنان سے مدرسے میں بیٹھ کر آپ سے پڑھ رہےہیں یہ اس لیئے ہے کہ ان مدارس و مساجد کے پیچھے حضرت درخواستی رح سائیں مولانا عبدالکریم رح بئر شریف والوں کی حضرت ہزاروی رح کی اور مفتی محمود کی جماعت جمعیت علماء کے لاکھوں رضاکار ہیں. اسمبلیوں میں ان کے دفاع کے لئیے ڈٹ حانے والے اور موثر آواز بلند کرنے والے مضبوط علماء موجود ہیں. اگر آپ کی پشت پر یہ سیاسی قوتیں نہ ہوں تو سوویٹ یونین کی طرح یہاں بھی چھپ چھپا کر تہ خانوں میں اپنی عبادت کر رہےہوتے.
مفتی صاحب نے فرمایا حضرت بنوری رح نے جب یہ سنا تو فوراَ اپنی بات سے رجوع فرمایا اور ہماری سیاسی کامیابیوں کے لئیے دعا کی اور پھر ہمیشہ دعاگو رہے.
تو اسلام آباد میں جب ہم پانچ سات لوگ رہ گئے تھے اورمفتی صاحب اپنی مشکلات کا ذکر فرما رہے تھے تو ایک یہ حقیقت بھی بیان کی کہ میں وزارت علیاء کی تنخواہ نہیں لیتا ممبری کی تنخواہ لیتا ہوں لوگ آتے ہیں چیف منسٹر کے پاس اپنی حاجات و اغراض لے کر اپنے مسائل و مشکلات لے کر اور جو تنخواہ ملتی ہے وہ گھر والوں کو گھرکے اخراجات کے لئیے دے دیتا ہوں وہاں بھی خواتین کا تانتا بندھا ہوتا ہے. وہاں بھی پیسے جلد ختم یو جاتے ہیں. کچھ میرے جماعتی دوستوں کو اللہ تعالی متوجہ کر دیتے ہیں اور راشن کا انتظام ہو جاتا ہے.
مولانا ہزاروی رح نے مفتی صاحب کو تقریباََ ڈانٹتے ہوئےفرمایا آپ کو اتنےتقوے کی کیا ضروت تھی یا یوں کہا آپ کو اتنا عمر بن عبدالعزیز رح بننےکی کیا ضرورت تھی. آپ اس حکومت سے تنخواہ لیتے آپ کو لینی چاہئیے تھی. اب اعلان کر دیا ہے نہیں لینی تو اب بھگتو.
مجھے مفتی صاحب کی وزارت علیاء کے دَورکا اپنا ایک واقعہ یاد آگیا. میں 1972- 73 میں بی اے کا امتحان دےکر کچھ عرصہ کے لئیے اپنے ایک چَم فرینڈ سے ملنے کراچی چلا گیا کراچی ناظم آباد میں سب سے بڑے تایا جی کا گھر تھا ذولفقار احمد سلیمی اور خالد فاروق شیخوپورہ کالج میں مجھ سے جونئیر تھے مگر وہاں غیر نصابی سرگرمیوں ڈیبیٹس مشاعرے ڈرامے کھیل وغیرہ میں ہم مل کر حصہ لیتے ہم تینوں کی دوستی گہری ہوتی گئ میرے وہ دوست کراچی پاکستان نیوی میں چلے گئے. میں ان کی وجہ سے کراچی چلا آیا اور روز شام کو کارساز میں جہاں ان کی ٹریننگ اور پوسٹنگ تھی میں ملنے چلا جاتا رات کو دیر سے واپس ناظم آباد آجاتا.
میں نے ٹی وی میں سنا کہ مولانا ہزاروی, مولانا مفتی محمود اور چند اور وی وی آئ پی حضرات حج کے سفر پر جا رے ہیں کراچی میں دو ایک روز رکیں گے. غالباََ سرکٹ ہاوس میں قیام تھا.
چنانچہ میں اگلے روز سرکٹ ہاوس ملنے آگیا بلکہ روز چلا جاتا وزیر اعلی سرحد تھے پروٹوکول کا عملہ ساتھ تھا پولیس گارد ساتھ تھی باہر گارڈز تھے مگر مفتی صاحب سب سے مل رہے ہوتے تھے میں بلا جھجک ان کے روم میں چلاجاتا تھا. ان کے ساتھ گپ شپ لگتی. جس دن حج کے سفر پہ روانہ ہونا تھا میں وہیں موجودتھا حاجیوں نے احرام کی چادریں کراچی سے ہی باندھ لیں. اور ائیرپورٹ جانے کے لیئےکاروں میں بیٹھ گئے مفتی صاحب چیف منسٹر والی فلیگ گاڑی میں بیٹھے آگے پروٹوکول اور پولیس کی گاڑیاں اسی طرح پیچھے باقی ایم این اے اور وزراء کی کاریں تھیں میں نے لپک کے مفتی صاحب سے مصافحہ کیا اور کہا میں نے آپکی جھنڈے والی گاڑی میں بیٹھنا ہے. مسکرا کر پوچھاکیوں؟ میں نے کہا میرا میرے دوست سے ملنے کا وقت ہو گیا ہے اور وہ ایئرپورٹ کے راستہ میں کارساز میں نیوی کا سب لیفٹینینٹ ہے. میں نیوی کے سٹاپ پہ اتر جاونگا. مفتی صاحب نے فرمایا ٹھیک ہے بیٹھ جائیں.
اللہ اکبر بڑے لوگوں کی بڑی بات. میں نے کارساز پہنچ کر شوفر سے کہا بس یہیں روک دو اسنے گاڑی روکی پورا کارواں رک گیا آگے والی گاڑیاں کچھ آگے جا کر رک گئیں گارڈز بھاگے پولیس والوں کی دوڑیں لگ گئیں میں اتر کر کارساز کے استقبالیہ کیطرف گیا کارواں ائیر پورٹ کی طرف روانہ ہوا. ضروری کاروائ کےبعد میں اندر دوست کے روم میں چلا گیا.
اگلے دن جب میں دوبارہ گیا تو معاملہ ہی کچھ اور تھا میرا پورا انٹرویو لیا گیا پھر میرے دوست کو بلاکر اس کے ساتھ اندر جانے دیا.
میں نے دوست سے اس تبدیلی کی وجہ پوچھی اس نے بتایا کل جب آپ وزیر اعلی سرحد کی گاڑی سے اتر کر سیدھے نیوی کے استقبالیہ پر آئے تو انٹیلیجینس والے ہشیار ہو گئے کہ چیف منسٹر سرحد کی فلیگ والی گاڑی سے ایک گورا پٹھان سا نوجوان سیدھا نیوی کے حساس علاقہ میں گیا ہے اس کی تفتیش کریں جب تفتیش ہوئ پتہ چلا آپ میرے پاس آئے تھے رات ہی میری پیشی ہو گئ وہ کون ہے جو اس لیول کا آدمی ہے کہ چیف منسٹر کی فلیگ کار میں چیف منسٹر کے ساتھ سفر کرتا ہے اور یہاں اتر کر آپ سے ملتا ہے. دوست نے کہا جی وہ میرا شیخوپورہ کا محلہ دار اور کالج فیلو ہے روزانہ میرے پاس آتا ہے اس کا تایا کراچی رہتا ہے چیف منسٹر سرحد اس کے والد کے دوست ہیں وہ ائیرپورٹ جارہے تھے ان سے کہا مجھے بھی بٹھالیں میں کارساز اتر جاونگا.
اس نے کالج کے زمانے کے گروپ فوٹوز دکھائے جو کالج میگزین میں چھپپے تھے. اس کے آفیسر حیران تو ہوَے مگر یقین کرنا پڑا. میرا وہ دوست نیوی کا کمانڈر ریٹائر ہوا آجکل کلفٹن کراچی میں رہتا ہے.
اللہ حافظ
دعا جو;
سید سلمان گیلانی لاہور
23 جولائی 2020

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H