Article Image

واقعہ کربلا : حق و باطل کی جنگ یا ایک حادثۂ فاجعہ؟

واقعہ کربلا : حق و باطل کی جنگ یا ایک حادثۂ فاجعہ؟؟؟؟
انتخاب: محمد فھد حارث

جب یہ سوال ہوا کہ کیا واقعہ کربلا حق و باطل کی جنگ تھی یا ایک حادثۂ فاجعہ تو مفسر قرآن مولفِ احسن البیان حافظ صلاح الدین یوسفؒ یوں رقم طراز ہوئے:
"اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ اہل سنت کے خطباء اور وعاظ فلسفۂ شہادتِ حسینؓ کو با لعموم اس طرح بیان کرتے ہیں جو خالصتاً شیعی اندازِ فکر اور رافضی آئیڈیالوجی کا مظہر ہوتا ہے اور اس متعلق یہ باور کروایا جاتا ہے کہ یہ تاریخ اسلام میں حق و باطل کا سب سے بڑا معرکہ تھا۔ یہ واعظینِ خوش بیان یہ نہیں سوچتے کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو اس دورِ خیر القرون میں جب کہ صحابۂ کرامؓ کی بھی ایک معتدبہ جماعت موجود تھی اور ان کے فیض یافتگان تابعین تو بکثرت تھے، اس معرکے میں حضرت حسینؓ ہی اکیلے کیوں صف آراء ہوتے؟ معرکہ ہوتا حق و باطل اور کفر و اسلام کا اور صحابہ و تابعین اس سے نہ صرف یہ کہ الگ رہتے بلکہ حضرت حسینؓ کو بھی اس سے روکتے، کیا ایسا ممکن تھا؟
شیعی آئیڈیالوجی تو یہی ہے کہ وہ (معاذاللہ) صحابہ کرامؓ کے کفرو ارتداد اور منافقت کے قائل ہیں اور وہ یہی کہیں گے کہ ہاں اس معرکۂ کفر و اسلام میں ایک طرف حضرت حسینؓ تھے اور دوسری طرف صحابہ سمیت یزید اور دیگر ان کے تمام حمایتی، صحابہ و تابعین اس جنگ میں خاموش تماشائی بنے رہے اور حسینؓ نے اسلام کو بچانے کے لئے جان کی بازی لگادی۔
لیکن کیا اہل سنت اس نقطۂ نظر کو تسلیم کرلیں گے؟
کیا صحابہ و تابعین کی اس بے غیرتی و بے حمیتی کی وہ تصدیق کرینگے جو شیعی اندازِ فکر کا منطقی نتیجہ ہے؟
کیا صحابہ نعوذ باللہ بے غیرت تھے؟ ان میں دینی حمیت اور دین کو بچانے کا جذبہ نہیں تھا؟
یقیناً کوئی اہل سنت صحابہ کرامؓ کے متعلق اس قسم کا عقیدہ نہیں رکھتا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی بڑی تلخ ہے کہ اہل سنت شہادتِ حسینؓ کا جو فلسفہ بیان کرتے ہیں وہ اسی تال سر سے ترتیب پاتا ہے جو شیعیت کا مخصوص راگ ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ سانحۂ کربلا کو معرکۂ حق و باطل باور کرانے سے صحابہ کرامؓ کی عظمت و کردار اور ان کی دینی حمیت مجروح ہوتی ہے اور شیعوں کا مقصد بھی یہی ہے لیکن یہ ہمارے سوچنے کی بات ہے کہ واقعہ ایسا ہے یا نہیں؟ تو حقیقت یہ ہے کہ یہ حق و باطل کا تصادم نہیں تھا، یہ کفر و اسلام کا معرکہ نہیں تھا، یہ اسلامی جہاد نہ تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس راہ میں حضرت حسینؓ اکیلے نہ ہوتے، ان صحابہ کرامؓ کا تعاون بھی انہیں حاصل ہوتا جن کی پوری عمریں اعلائے کلمۃ اللہ میں گزریں جو ہمہ وقت باطل کے لئے شمشیرِ برہنہ اور کفرو ارتداد کے لئے خدائی للکار تھے۔ یہ تصادم دراصل ایک سیاسی نوعیت کا تھا، اس نکتے کو سمجھنے کے لیے حسبِ ذیل پہلو قابلِ غور ہیں:
۱۔ واقعاتِ کربلا سے متعلق سب ہی تاریخوں میں ہے کہ حضرت حسینؓ جب کوفے کی طرف کوچ کرنے کے لیے تیار ہوگئے تو ان کے رشتہ داروں اور ہمدردوں نے ان کو روکنے کی پوری کوشش کی اور اس اقدام کے خطرناک نتائج سے انہیں آگاہ کیا۔ ان میں حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت ابو سعید الخدری، حضرت ابوالدرداء، حضرت ابو واقد لیثی، جابر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت حسینؓ کے بھائی محمد بن الحنفیہ نمایاں ہیں۔ آپ نے ان کے جواب میں نہ عزمِ سفر ملتوی فرمایا نہ اپنے موقف کی کوئی دلیل پیش کی، ورنہ ممکن تھا کہ وہ بھی اس موقف میں ان کے ساتھ تعاون کے لیے آمادہ ہوجاتے۔ دراصل حضرت حسینؓ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اہلِ کوفہ ان کو مسلسل کوفہ آنے کی دعوت دے رہے ہیں، یقیناً وہاں جانا مفید ہی رہے گا۔
۲۔ یہ بھی تمام تاریخوں میں آتا ہے کہ ابھی آپ راستے ہی میں تھے کہ آپ کو خبر پہنچی کہ کوفے میں آپ کے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل شہید کردئیے گیے ، جن کو آپ نے کوفے کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ اس المناک خبر سے آپؓ کا اہلِ کوفہ سے اعتماد متزلزل ہوگیا اور آپؓ نے واپسی کا عزم ظاہر کیا۔ لیکن حضرت مسلمؒ کے بھائیوں نے یہ کہہ کر واپس ہونے سے انکار کردیا کہ ہم تو اپنے بھائی کا بدلہ لیں گے یا خود بھی مرجائیں گے۔ اس پر حضرت حسینؓ نے فرمایا: "تمہارے بغیر میں بھی جی کر کیا کروں گا؟" ۔
امام طبری لکھتے ہیں :
"چنانچہ حضرت حسینؓ نے واپسی کا ارادہ کرلیا، لیکن آپ کےساتھ مسلم بن عقیل کے جو بھائی تھے، انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک کہ ہم انتقام نہ لے لیں یا پھر خود بھی قتل ہوجائیں۔" (تاریخ طبری (۴/۲۹۲)
اور یوں اس قافلے کا سفر کوفے کی طرف جاری رہا۔
۳۔ پھر اس پر بھی تمام تاریخیں متفق ہیں کہ حضرت حسینؓ جب مقامِ کربلا پر پہنچے تو گورنر کوفہ ابن زیاد نے عمر بن سعد کو مجبور کرکے آپ کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ عمر بن سعد نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ سے گفتگو کی تو متعدد تاریخی روایتوں کے مطابق حضرت حسینؓ نے ان کے سامنے یہ تجویز رکھی:
"تین باتوں میں سے ایک بات مان لو۔ میں یا تو کسی اسلامی سرحد پر چلا جاتا ہوں یا واپس مدینہ منورہ لوٹ جاتا ہوں یا پھر میں (براہ راست جاکر)یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتا ہوں ( اس سے بیعت کرلیتا ہوں) عمر بن سعد نے ان کی یہ تجویز قبول کرلی۔" (الاصابہ ۲/۷۱)
ابن سعد نے خود منظور کرلینے کے بعد یہ تجویز ابن زیاد (گورنر کوفہ) کو لکھ کر بھیج دی۔ مگر اس نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کردیا اور اس بات پر اصرار کیا کہ پہلے وہ (یزید کے لیے) میرے ہاتھ پر بیعت کریں (تاریخ طبری ۴/۲۸۳)
حضرت حسینؓ اس کے لیے تیار نہ ہوئے اور ان کی طبع خوددار نے یہ گوارا نہیں کیا، چنانچہ اس شرط کو مسترد کردیا، جس پر لڑائی چھڑ گئی اور آپؓ کی مظلومانہ شہادت کا یہ حادثۂ فاجعہ پیش آگیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔۔۔
ان تاریخی شواہد سے معلوم ہوا کہ اگر یہ حق و باطل کا معرکہ ہوتا تو کوفے کے قریب پہنچ کر جب آپؓ کو مسلم بن عقیل کی مظلومانہ شہادت کی خبر ملی تھی، آپؓ واپسی کا عزم ظاہر نہ فرماتے۔ ظاہر بات ہے کہ راہِ حق میں کسی کی شہادت سے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کا فریضہ ساقط نہیں ہوجاتا۔
پھر ان شرائطِ مصالحت سے جو حضرت حسینؓ نے عمر بن سعد کے سامنے رکھیں، یہ بات بالکل نمایاں ہوجاتی ہے کہ آپ کے ذہن میں کچھ تحفظات تھے بھی تو آپ ان سے دست بردار ہوگئے تھے، بلکہ یزید کی حکومت تک کو تسلیم کرلینے پر آمادگی ظاہر کردی تھی۔
ایک یہ بات بھی واضح ہے کہ سیدنا حسینؓ امیر یزید کو فاسق و فاجر یا حکومت کے لیے نااہل نہیں سمجھتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ کسی حالت میں بھی اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دینے کے لیے تیار نہ ہوتے، جیسا کہ وہ تیار ہوگئے تھے، بلکہ یزید کے پاس جانے کے مطالبے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اس سے حسنِ سلوک ہی کی توقع تھی۔ ظالم و سفاک بادشاہ کے پاس جانے کی آرزو تو (آخری چارۂ کار کے طور پر بھی) کوئی نہیں کرتا۔
اس تفصیل سے اس حادثے کے ذمہ دار عریاں ہوجاتے ہیں اور وہ ہے ابن زیاد کی فوج، جس میں سب وہی کوفی تھے جنہوں نے آپ کو خط لکھ کر بلایا تھا ۔ انہی کوفیوں نے عمر بن سعد کی سعیِ مصالحت کو بھی ناکام بنا دیا جس سے کربلا کا یہ المناک سانحۂ شہادت پیش آیا۔ وکان امر اللہ قدراً مقتدراً۔" (فضائلِ صحابہؓ و اھل بیتؓ اور مسائل و واقعاتِ محرم الحرام صفحہ ۷۱ تا ۷۷)

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H