اختلاف لیکن احترام اوردلیل کے ساتھ
قاضی فضل اللہ شمالی امریکہ
پوری دنیا ایک اضطراب کی کیفیت میں ہے اور اضطراب یوں کہ ہر جگہ یہ خدشات ہیں کہ اب کیا ہوگا۔نفسِ اضطراب میں فسٹ ورلڈ ،سیکنڈ ورلڈ اور تھرڈ ورلڈ یعنی ترقی یافتہ دنیا ،ترقی پذیر دنیا اور پس ماندہ ممالک سب کے باسی شامل ہیں۔افراد کو بھی فکر اور حکومات کو بھی ہے۔
ایسا کیوں ہے؟
یہ اس لیے کہ ہم حقیقت سے منہ چھپاکرایک مصنوعی دنیامیں رہ رہے ہیں۔
کہا تو اب جاتا ہے کہ میٹاورس اور ورچوئل ورلڈ ،کہ میٹا ورس میں آپ متعلقہ ٹولز لگا کر چاند ستاروں اور خلاء میں اپنے لیے اپنے مزاج اور چاہت کے مطابق کوئی جگہ منتخب کرسکتے ہیں اور اس میں رہنے کی ایکسرسائز کرسکتے ہیں لیکن خیالی جبکہ محسوس تمہیں حقیقت کی طرح ہوگا۔
اب جن کو اس ٹیکنالوجی کا زیادہ معلوم نہیں تو وہ سوال کرتےہیں کہ یہ کیسا ممکن ہے ؟
تو ان کو یوں سمجھایا جاسکتا ہے کہ یہ خیال کی دنیا ہے اور ہر انسان کی زندگی میں اس کا ایک تجربہ خواب کی دنیاہےکہ بندہ خواب دیکھتے وقت اس سارے منظر کو حقیقت سمجھتا ہے۔اسے حقیقی دنیا کے خوشی والے منظر کی طرح خواب کی خوشی والے منظر سے خوشی ہوتی ہے جبکہ حقیقی دنیا کے غم والے ماحول کی طرح خواب کے غم والے ماحول سے اس طرح کا غم بھی ہوتا ہے جبکہ حقیقی دنیا میں کسی درندے یا دشمن سے دوڑتے ہوئے جو تھکاوٹ ہوتی ہے خواب میں اس قسم کے ماحول میں بھی وہی احساسات ہوتے ہیں بلکہ جاگ کے وہ واقعتاً بھی وہ تکلیف محسوس کرتاہے کہ احساس تو دماغی خلیات اور نیورانز دلاتے ہیں تو اس نے یہ احساس بھی دیا ہے۔اسے زیادہ واضح مثال گستاخی معاف لیکن احتلام سے دیا جاسکتا ہے کہ احتلام میں بندہ وہی لذت محسوس کرجاتا ہے جو وہ جاگتے میں شہوانی تقاضا پوراکرتے ہوئے محسوس کرتا ہے اور پھر اس پر حکم بھی ایک جیسا مرتب ہوتا ہے یعنی غسل کرنا ہے۔
تو بات یہ کررہے تھے کہ ورچوئل ورلڈ یا میٹا ورس کے عملی ہونے سے پہلے بھی ہم برضا ورغبت تمام اس قسم کی ایک مصنوعی دنیا بناچکے ہیں اور اس میں رہ رہے ہیں۔سائنس دانوں نے تو بہت پہلے کہا تھا کہ
Nothing in this universe is real
کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز حقیقی نہیں۔
اور پھر ہم تو اس غیر حقیقی کو اور بھی زیادہ غیر حقیقی بناچکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر جگہ اضطراب ہے ،بے یقینی ہے ،کنفیوژن ہے ،نفسانفسی ہے۔
اب تصنع سے تو آپ وقتی طور پر کوئی لذت محسوس کرسکتے ہیں یا کوئی فائدہ لے سکتے ہیں لیکن اس سے آپ سکون تو نہیں حاصل کرسکتے ۔مادیات اور مادے کی ترقی سے آپ مادی بدن کی کچھ خدمت کرسکتے ہیں لیکن روحانیت اور روحانی پہلو تو تشنہ رہے گا بلکہ بحیثیت ایک مقابل کے مادے کی ترقی روحانیت کی پستی کے لیے مستلزم ہے یعنی یہ اوپر جائے تو روحانیت پستی میں چلی جائے گی ۔یہ ترازو کے دو پلڑوں کی طرح ہے کہ مادے کی ترقی تو مزید وزن اور بوجھ کا اس پلڑے میں پڑتا ہے۔اور ایک پلڑے میں وزن پڑے تو وہ بوجھل بھی ہوجائے گا۔اب اس کے بوجھل ہونے کا بوجھ اور پریشر روح پر پڑے گا یہی وہ اضطراب اور بے سکونی تو ہے یعنی انسان صرف مادی وجود اور حیاتیاتی تصور تو نہیں اس کے دوسرے پہلو بھی ہیں جو بھی اتنے اہم ہیں جتنا کہ یہ مادی پہلو اور وہ پہلو روحانی ،نفسیاتی ،ذہنی ،جذباتی اوراخلاقی پہلو ہیں۔اب ان پہلوؤں کو خاطر میں نہ لایا جائے تو وہ کبیدہ خاطر ہو کر پستی کی طرف گرنا شروع ہوجاتے ہیں ۔اب اگر نفسیات ،جذبات اور احساسات کو اہمیت دی جائے نیز اخلاقیات اور روحانیات پر توجہ دی جائے تو یہ مثبت ذہنیت پیدا کرجاتے ہیں اور مثبت ذہنیت ایک جانب خلق خدا سے جوڑتی ہے اور دوسری جانب خالق سے ملادیتی ہے اور یوں ایک بندہ اپنی ذات میں ایک مثبت وجود بن جاتا ہے اور دنیا وآخرت کی بہتری مثبت وجود کے لیے ہے کہ منفی وجود تو ہے ہی منفی سو اس کے لیے یہاں کیا مثبت ہوگا اور آخرت میں اس کے لیے کیا مثبت ہوسکتا ہے؟یہ کوئی میزائل ٹیکنالوجی تو نہیں بہت ہی سادہ سا مسئلہ ہے کہ انسان اچھا یا براتو نہ صرف خلق کے ساتھ تعلق پر ہوتا ہے اور نہ صرف بزعم خویش خالق سے تعلق رکھنے کے دعوی پر ہوتا ہے کہ خالق کی تو پہچان ہی خلق سے ہوتی ہے سو خالق تک رسائی اس کی بندگی کے ساتھ ساتھ اس کے خلق کی خدمت، اور وں کو خیر وفلاح پہنچانے سے ہوتی ہے ۔مثبت ذہنیت ایک مثبت راستے پر ڈال دیتی ہے ،ایک مثبت رخ اور سمت دکھادیتی ہے یوں بندے کا سوچ مثبت ،اس کے اقوال مثبت اور اس کے افعال واعمال بھی مثبت ہوجاتےہیں اور مثبت ہونا ہی استقامت ہے اور وہی مطلوب بھی ہے۔اس طرح مثبت ہونے سے انسان معزز بن جاتا ہے کہ اسے پتہ لگ جاتا ہے کہ ہماری تخلیق کوئی عبث معاملہ نہیں
افحسبتم انما خلقناکم عبثا
بندے کو مقصد حیات کا علم ہوجاتا ہے کہ اس نے خلق اور خالق کے لیےزندہ رہنا ہےاور جس بندے کو مقصد حیات معلوم ہوجائے تو وہ پھر زندگی کی لذت محسوس کرتا ہے اور جس کو زندگی کی لذت معلوم ہواور وہ مثبت زندگی گزارتاہو تو پھر وہ اس مقصدی زندگی کےلیے جان کی قربانی کو موت نہیں بلکہ زندگی تصور کرتا ہے
ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات
کہ اللہ کے راستے میں جان کی قربانی دینے والوں کو مردہ نہ کہو۔
بلکہ دوسری آیت میں
ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا
فرمایا کہ ان پر ایسا گمان بھی نہ کرو کہ وہ تو ایک محدود اور فانی دنیا سے ایک جاودان دنیا میں جابسے جہاں ان کے لیے عزت ہی عزت اور اکرام ہی اکرام ہے اور اچھی زندگی ہے کیا وہی جس میں آرام بھی ہو ،عزت بھی ہو اور سکون بھی ہو۔سوا یسا بندہ جو حیات کے اس فلسفے سے آشنا ہوجاتا ہے وہ تو احوال وظروف میں موت کو گلے لگانا کامیابی سمجھتا ہے کہ وہ اس کی فلاح ہے ،فوز ہے ،نجاح ہے اور نجات ہے ۔یعنی جب تک اسے نظر آتا ہو کہ زندگی ہے اور غیرت سے ہے تو وہ زندگی سے لولگائے بیٹھا رہتا ہے اور جب اسے زندگی میں غیرت نظر نہیں آتی تو ظاہری بات ہے اسے پھر اس کے مقابل میں عزت نظر آئے گی یعنی وہ پھر موت میں عزت سمجھتا ہے اور عزت تو سلیم الفطرت انسان کی تمنا وآرزو ہے تو وہ پھر موت کو اہلاً وسہلاًکہہ جاتا ہے۔ایسی موت پھر ان کی نظر میں زندگی ہوتی ہے اور حقیقت میں ہے بھی وہ زندگی ۔
؎ ہرگزنمیردان کہ دلش زندہ بہ عشق ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما
وہ اس دنیا کے اس محدود جریدہ سے نام کٹواکر وسیع ودائمی جریدہ عالم پر اپنا نام ثبت کرجاتا ہے۔
اور بات تو ظاہر ہے کہ بندہ زندہ تو ہے اور اس کی عزت نہ رہے بے عزت ہو تو یہ تو اس کی روح پر ضرب کاری لگاتا ہے ۔اب جو بدن کا زخم ہے وہ تو وقت کے ساتھ بھر بھی جاتا ہے ،ٹھیک بھی ہوجاتا ہے لیکن روح کا زخم تو رستا رہتا ہے اللہ تعالیٰ حفظ وامان میں رکھے آمین۔ایسے میں ایک وقت آتا ہے کہ بندہ اپنی نظروں سے بھی گرجاتا ہے تو پھر یاتو کسی سے ملتا ہی نہیں یا پھر خودکشی کرجاتا ہے اللہم احفظنا یا رب!
زندگی کا تعلق اشیائے ظاہرہ سے ہوتا ہے جبکہ موجودگی کا تعلق مظاہر صور اور اشکال نہیں بلکہ معنویات اور اقدار سے ہوتی ہے ۔بندے کی زندگی میں عزت رہے تو وہ اوروں کی نظروں میں بھی معزز ہوتا ہے۔
اب عزت اور معزز ہونے کا تصور انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ کوئی بھی اپنے لیے ذلت نہیں چاہتا ہے اس لیے اسے جب حقیقی طور پر اپنی عزت کا احساس ہوتا بھی ہے کہ لوگ اسے عزت دیتے ہیں پھر بھی وہ کبھی اس کا دعویٰ نہیں کرتا کہ اسے ہمیشہ بے عزتی سے خوف آتا ہے کہ خداوندا!کہیں بے عزت نہ ہوجاؤں۔اب جومختلف انداز میں دعویٰ کرتے ہیں تو دراصل اسے احساس ہوتا ہے کہ میری عزت نہیں اس لیے وہ دعوے کرتا رہتا ہے کہ اوہ مجھے اس چیز کی ضرورت نہیں میرے پاس تو یہ ہے، یہ ہے وغیرہ وغیرہ ۔
کسی بندے کی عزت دراصل اوروں کے دل میں ہوتی ہے البتہ اس کے درجات مختلف ہوتے ہیں ۔کچھ تو رسمی قسم کی عزت ہوتی ہے یعنی لوگوں کے دل میں نہیں ہوتی اس کے منصب ،دولت یا قوت کی وجہ سے وہ اس کی عزت کرتے ہیں لیکن وہ ظاہراًہوتی ہے ادھر وہ نظر سے اوجھل اور ادھر اس کی عزت پر حملہ شروع ہوجاتا ہے ۔
خلیفہ ہارون الرشید نے ایک بار حضرت امام مالک رحمہ اللہ پر بہت اصرار کیا کہ وہ بغداد آئیں کہ وہاں کے بہت سارے لوگ اس سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے حالات اجازت نہیں دیتیں ۔پہلے تو وہ باوقار انداز سے گلوخلاصی کرتے رہے لیکن پھر اس نے خود کہا کہ کہیں اس پر مواخذہ نہ ہوجائے لہذا ہامی بھرلی لیکن شرط رکھا کہ ایک تو میں اکیلے آؤں گا ،اپنی ذاتی سواری پر آؤں گا،میرا کوئی استقبال وغیرہ نہیں ہوگا اور وہاں خلیفہ کے محل میں نہیں بلکہ مسجد میں قیام کروں گا اور خلیفہ اس پر راضی ہوئے ۔لیکن جب امام صاحب رحمہ اللہ بغداد میں داخل ہورہے تھے تو انسانوں کا ایک سمندر باہر نکل آیا تھا ۔خلیفہ اپنی بیوی کے ساتھ بالکونی میں کھڑے ہوکے یہ منظر دیکھ رہے تھے کہ کوئی حضرت الامام رحمہ اللہ کے اونٹنی کو ہاتھ لگارہے تھے اور کوئی اس کے رکاب کو ،تو بیوی نے خلیفہ سے کہاکہ یہی وہ عزت ہے جو اللہ دل میں ڈال دیتا ہے اور جو حکمران کی عزت ہوتی ہے وہ دل میں نہیں وہ اعضاء پر ہوتی ہے کہ دلی عزت کردار سےآتی ہے۔
اب کوئی کسی اعلیٰ نسل میں پیدا ہو،حسب نسب کا مالک ہو تو اس کی کچھ عزت کی جاتی ہے لیکن اس میں اس کا تو اپنا کچھ حصہ نہیں ہوتا کہ یہ تو اکتسابی نہیں ۔طاقت ودولت کی وجہ سے عزت ہولیکن اصلاً وہ تو عزت کے اسباب نہیں کہ یہی دونوں تو ہمیشہ ظلم وبربریت اور استکبار پر اکساتے ہیں۔
پھر یہ ساری عزتیں تو مخلوق کی طرف سے صادر ہوتی ہیں سو یہ خدا کی طرف نہیں چڑھتیں جبکہ کردار ،تقویٰ اور اخلاق وعلم کے اساس پر عزت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا کرتی ہے تو اوپر سے نازل ہونے والی چیز انسانوں کے دلوں میں اترتی ہیں اور وہ پھردل سے اس بندے کے عزت کرتےہیں۔علم پر عمل ہی تقویٰ ہے اور تقویٰ ہی عزت کا معیار ہے
ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم
یہ اس لیے کہ اس سے قرب الہی حاصل ہوتی ہے اور الٰہ ہی ایک واقعی اور مسلم حقیقت ہے یعنی Established۔سو وہ عزت بھی امر واقعی بن جاتا ہے ۔انسان کو عقل حصول علم ہی کے لیے دی گئی ہے اور علم سے بندے کو شرف ملتا ہے کہ اس سے شعور میں بالیدگی آجاتی ہے وہ اس سے مضبوط اور مستحکم ہوجاتا ہے اور وہ اسے عمل بنادیتا ہے تو اس سے اس پر تحقیق کے دروازے وا ہوجاتے ہیں پھر وہ ایجاد کرتا ہے اگر یہ علم مادیات کا ہے اور اجتہاد کرتا ہے اگر یہ دین کا علم ہے اور اہل ایجاد واجتہاد ہی عزت حاصل کرلیتے ہیں۔
اب دینی احکام کو ہم دو انواع میں تقسیم کرتے ہیں۔
1۔ایک کو ہم شریعت کہتے ہیں
2۔اور دوسرے کو فقہ کہتے ہیں۔
شریعت سے مراد وہ احکام ہیں جو منصوص ہیں جبکہ فقہ احکام مستنبطہ ہیں۔
منصوص احکام میں نہ تو اختلاف ہوتا ہے اور نہ اسے تبدیل کیا جاسکتا ہے کہ یہ اللہ کی جانب لفظی یا معنوی انداز میں تصریح شدہ ہیں لہذا یہ آتے ہی امر ہوجاتے ہیں اور امر شدہ معاملہ تو ایک واقعی حقیقت ہوتی ہے اور جو حقیقت واقعی ہوتی ہے یا جو معاملہ واقع ہوجاتا ہے تو اسے پھر تغییر تو نہیں کیا جاسکتا ۔
جبکہ احکام مستنبطہ تشریح شدہ ہیں ۔ان میں ائمہ مجتہدین کا اختلاف بھی ہوتا ہے اور یہ احوال وظروف بدلنے کے ساتھ بدل بھی جاتے ہیں اگر چہ اس کے بدلنے یعنی ایک کے بجائے دوسرے قول کو لینا اور اس پر فتویٰ دینا بھی مجتہد فی الجملہ یعنی ایک مستند ومعتمد مفتی کا کام ہوتا ہے تاکہ دین بازیچہ اطفال نہ بنے اور یہ اس دین کی وسعت اور خوبصورتی ہے کہ یہ کسی نت نئے مسئلے کے حل سے بھی عاجز نہیں ہوتا۔یہی اس کی کاملیت واکملیت اور آپﷺکی خاتمیت کا تقاضا ومظہر ہے۔اگر چہ شریعت وفقہ دونوں مصطلحات کبھی مترادف یا متبادل بھی استعمال ہوتے ہیں یعنی بیک وقت دونوں اقسام کو فقہ یا شریعت کا نام دیا جاتا ہے یا فقہ کو شریعت اور شریعت کو فقہ کہا جاتا ہے اور اسی مذکورہ وسعت وسخا کی وجہ سے بسا اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ فقہاء کی کتابوں میں آتا ہے
والفتویٰ علی قول الصاحبین
کہ اس مسئلہ میں فتوی صاحبین رحمہما اللہ کے قول پر ہے۔
یا علی قول ابی یوسف یا علی قول محمد
کہ فتوی ابویوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے یا فتوی محمد رحمہ اللہ کے قول پر ہے۔
بلکہ آج بھی ہم احوال وظروف کو دیکھتے ہیں تو جب ہماری فقہ میں ان مذکورہ اساطین میں سے کسی کا قول منطبق نہیں ہوتا حتی کہ امام زفر رحمہ اللہ یا حسن بن زیاد رحمہ اللہ کا قول بھی منطبق نہیں ہوتا تو پھرا ئمہ ثلاثہ امام مالک ،امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کے اقوال کو دیکھتے ہیں تو ان میں سے جس کا قول منطبق ہوتا ہے تو اسی پر فتویٰ دے دیتے ہیں حتی کہ اگر ان کے اقوال میں سے بھی کسی کا قول منطبق نہیں ہوتا تو پھر ابن جریر رحمہ اللہ یا لیث بن سعد رحمہ اللہ کے قول کو لےلیتے ہیں کہ احوال وظروف کا تقاضا یہی ہوتا ہےاور ایک مستند ومعتمد مجتہد کا قول موجود ہے اور ہے بھی از قبیل فقہ نہ کہ از قبیل شریعت کہ اس کے حوالے سے تو سب کے اقوال موجود ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ
فاضربوا قولی علی الحائط
کہ پھر میرے قول کو دیوار پر دے مارو یعنی تاکہ وہ ریزہ ریزہ ہوجائے۔
پھر یہ بھی ایک امر مشاہد ہے کہ اصحاب علم وفہم کے اپنے آراء بھی ہوتے ہیں کہ وہ صاحب عقل بھی ہیں اور صاحب علم وفہم بھی ہیں تو جب مطالعہ بھی کرتے ہیں ،مشاہدہ بھی کرتے ہیں اور استنباط بھی کرتے ہیں کہ یہ عقل ونقل اور ساتھ ساتھ تحقیق ومشاہدہ ومطالعہ کا ایک فطری تقاضا ہوتا ہے اسے رکوایا تو نہیں جاسکتا ۔بےا دبی معاف لیکن ایک بندہ اگر کھاتا پیتا رہے تو وہ کیا اپنے فطری تقاضوں کو رکوا سکتا ہے؟ اور اگر رکوائیں تو کیا اس کے بدن میں فساد پیدا نہیں کرے گا اور اسے بیمار نہیں کرے گا؟ضرور کرے گا کہ فطرت کے تقاضے دبانا غیر فطری ہے اور غیر فطری کام کا ایک منفی یا مضرنتیجہ ہوتا ہے۔
بعینہٖ اسی طرح ایک وسیع المطالعہ ،وسیع المشاہدہ اور وسیع التحقیق عالم اپنا رائے ظاہر کرنے سے نہ رکتا ہے نہ چُکتا ہے ۔یہ علیحدہ بات ہے کہ اللہ منزہ ہے ،انبیاء معصوم ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محفوظ ومغفور ہیں۔باقی تو کسی میں بھی یہ صفات نہیں ہیں ۔
امام مالک رحمہ اللہ مسجد نبوی میں بیٹھ کے جو درس دیا کرتے اور کسی بڑے آدمی کا قول اپنے استنباط واستدلال سے رد کرکے اپنی رائے دیتے تو فرماتے
کل یخالف الا صاحب ھذاالقبر
ہر ایک کی مخالفت کی جاسکتی ہے سوائے اس قبر مبارک کے مکین یعنی رسول پاکﷺ کی۔
یعنی صحابہ کرام میں بھی وہ ایک کے قول کو لیتے اور دوسرے کے قول کو چھوڑ دیتے جس کو ہم رد تو نہیں کہہ سکتے کہ گستاخی ہے چھوڑنا کہہ دیتے ہیں اگر چہ لوگ تو بہت ہی دیدہ دلیری سے حدیث کے لیے بھی رد کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔ارے بھائی!رد نہیں ترک ہے اور ترک بھی کسی دوسرے حدیث کی وجہ سے ہے کہ متعلقہ مجتہد کے ہاں یہ دوسرا حدیث پہلے والے سے اچھا منطبق ہونے والا ہے چاہے دونوں کا درایۃً رتبہ ایک جیسا ہے جبکہ کئی ساروں میں یہ ترجیح درایت کے حوالے سے ہوتی ہے اور درایت ان کی تحقیق ہوتی ہے لہذا ایک کی تحقیق نے ایک حدیث کو راجح قرار دیا اور دوسرے کی تحقیق نے دوسرے حدیث کو ترجیح دی۔
اب اس سے کیا ہوا؟
کیا ان میں سے کوئی ایک بھی اتباع رسول ﷺسے نکلا؟
دراصل یہ فقہاء کرام تو کبھی ایک دوسرے سے نہیں لڑے۔امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے باون حج کیے اور جب بھی مدینہ منورہ تشریف لاتے تو امام مالک رحمہ اللہ کے ہاں ٹھہرتے ،علمی مباحثہ بھی ہوتا ،اختلاف بھی ہوتا لیکن کیا رقابت یا دشمنی بھی ہوئی؟
امام شافعی رحمہ اللہ امام مالک رحمہ اللہ سے پڑھے اور بعد ازاں امام مالک رحمہ اللہ ہی کی اجازت سے بغداد امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد امام محمد رحمہ اللہ سے پڑھنے گئے ۔یہی کام امام لیث بن سعد رحمہ اللہ جو فقیہ مصر کے نام سے جانے جاتے ہیں اس نے بھی کیا کہ امام مالک رحمہ اللہ سے استفادہ کے بعد امام محمد رحمہ اللہ کے پاس پڑھنے گئے ۔امام احمد رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ سے پڑھتے رہے ۔استاد اور شاگرد تھے کبھی مسائل میں اختلاف بھی ہوجاتا کہ ہر ایک اپنے اپنے اجتہاد کا مکلف تھا،دلیل سے بات کرتے ،مستدل پیش کرتے اور وجہ ترجیح بھی پیش کرتے ۔
امام بخاری ،امام مسلم اور امام ابوداؤد رحمہم اللہ امام احمد رحمہ سے پڑھے لیکن خود تو تینوں امام شافعی رحمہ اللہ کی تقلید کرتے رہے کہ یہ امام بخاری رحمہ اللہ کے متعلق بھی راجح قول ہے کہ وہ شافعی المسلک تھے باقی دونوں بڑے محدث تو تھے ہی شافعی المسلک ۔
امام مالک رحمہ اللہ اپنا فتویٰ دے کے فرماتے
ان نظن الا ظنا وما نحن بمستقینین
یعنی یہ ہماری رائے ہے اور ہم یقین سے نہیں کہتے کہ یہی یقینی امر اور حرف آخر ہے بلکہ ظن غالب اور احکام فقہ بنا ہی ظن غالب پر ہے ورنہ پھر تو اختلاف ہی نہ ہوتا ۔
اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فتوی دینے کے بعد فرماتے
ھذا ما راینا ولو جاءنا احد بخیر منہ اخذناہ
یہ ہماری رائے ہے اور اگر کوئی ہمارے پاس اس سے بہتر رائے لے آئے ہم اسے اختیار کرجائیں گے۔
اب یہ ہم ہیں کہ انکو باہمدگر لڑاتے رہتے ہیں اور یوں
مدعی سست وگواہ چست
کے مصداق ناسمجھ بننے کی بھرپور کوشش کرتے رہتے ہیں ۔
سو اب بھی جن جن علماء کا مطالعہ وسیع ،مشاہدہ بھی وسیع اور مزاج بھی تحقیقی ہوتا ہے تو ان کے تفردات بھی ہونگے ورنہ پھر وہ کس چیز کی تحقیق کررہے ہیں کہ اگر وہ وہی بات کرتے ہیں جو کسی اور نے کی ہے تویہ تو تحقیق نہیں تثبیت ہے اور ہم جیسے کوتاہ بین اور کم علم تو تثبیت بھی نہیں کرسکتے کہ اس کا کوئی تُک ہی نہیں بنتا اس لیے کہ ہمارے وہ اوقات ہی نہیں۔ہم میں سے کوئی بہت ہی بڑا محقق عالم بھی زیادہ سے زیادہ کبھی کبھار کسی کیے ہوئے مسئلے کے لیے کوئی نئی دلیل نکال سکتا ہے جو بہت ہی کم ہوتا ہے کہ ان اسلاف نے ہر مسئلے کے متعلقہ نقل اور عقل دونوں کے دلائل بیان کرکے اسے روایۃً اور درایۃً ثابت ہی کردیا ہے تبھی بعد کے نسلوں میں محقق ومدقق علماء نے بھی ان کے قول کو من وعن لےلیا ہے اور تیرہ چودہ صدیوں سے یہ چلا آرہا ہے ہے ناں !محبوبیت عنداللہ۔
ہاں نئے معاملات بھی پیدا ہوتے ہیں کہ دنیا حادث اور متغیر ہے نئے مسائل بھی پیدا ہونگے نئے احوال وظروف بھی جن کے حوالے سے کچھ نئے تصورات ،نئے تطبیقات اور طرق تطبیق بھی پیدا ہوتے جائیں گےاور اصحاب علم وفہم ،اصحاب عقل ودانش اور اصحاب مطالعہ ومشاہدہ اپنے اندر کی فطری تحریک سے کبھی کبھار کسی مسئلے یا معاملے پر اپنی رائے بھی دے گا ۔اب اگر یہ رائے امت کی اکثریت علماء کی رائے کے خلاف ہوگا تو اکثر وبیشتر ہم اس کو فلاں بڑے عالم کا تفرد کہتے ہیں۔تفردات تو شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ جیسے جبال العلم کے بھی ہیں اور تعلیم وتدریس کے میدان میں ہم جمہور علماء کے قول کو ان کے مستدلات کے ساتھ ترجیح بھی دیتے ہیں اور حافظ کی رائے کا ضعف اور تفرد بھی ظاہر کرتے ہیں ،اس کے مستدل کا جواب دینے کے ساتھ،لیکن کیا اس سے حافظ کی عظمت شان میں کوئی فرق آتا ہے؟بالکل نہیں اس لیے کہ ہم کوئی اپنے رائے کو اس کی رائے پر ترجیح نہیں دے رہے بلکہ اس جیسے یا اس سے بڑے علماء کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ بھی دلیل کے ساتھ کہ ان کا مستدل یہ ہے اور یہ زیادہ قوی مستدل بھی ہے اور جمہور کی رائے ہونےکی وجہ سے خود بخود قوی ہی بن گیا ہے کہ وہ لوگ کوئی کیت وذیت تو نہیں تھے جبال العلم تھے۔البتہ ان سب کا ہم احترام ملحوظ رکھتے ہیں۔کیا ہماری کلاسز میں ہم جب الفقہ المقارن پڑھاتے ہیں تو ترجیح نہیں دیتےاور دوسرے مذہب کے مستدل کا جواب نہیں دیتے ؟تو کیا کسی حنفی کو امام مالک،امام شافعی ،امام احمد رحمہم اللہ سے دشمنی ہوتی ہے یا ان کی(اللہ بچائے )تحقیر کرتے ہیں یا اگر کوئی مالکی ،شافعی یا حنبلی عالم امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول ومستدل سے جواب دیتا ہے تو کیا وہ تحقیر کرتا ہے ولا فعلہا اللہ۔
لیکن ان آخری دنوں کی سیاست کا کیاکہیں کہ سیاسی فکر واختلاف کو ہم نے کفر واسلام کا معرکہ قرار دیا ہے یا حق وباطل کا معرکہ قرار دیا ہے ۔ارے بھائی!فقہی مسائل ظن غالب پر مبنی ہوتے ہیں تو سیاسی معاملات ومسائل کے لیے کون سے نصوص ہیں کہ کسی نے نص اور قطعیت کی مخالفت کی اور وہ اگرکافرنہیں بھی تو ضال ومضل بن گیا اللہ تعالیٰ بچائے رکھے۔
یہی معاملہ علماء کے درمیان برصغیر میں بھی رہاکہ علمی تحقیقات میں کئی ایک کے تفردات بھی ہیں کہ جنہوں نے زیادہ لکھا تو ان کے ہی تفردات ہونگے کہ تفردات کثرت مطالعہ اور ذکاوت ذہن سے آجاتے ہیں اور اس کا اظہار تقریر یا تحریر میں ہوتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ دیگران جمہور کے متفقہ مسلک کے خلاف والے تفرد پر خاموش تو نہیں رہیں گے یہ تفرد والا صاحب اگر عالم ہے ،محقق ہے تو وہ دوسرا بھی تو عالم ہے محقق ہے ۔اب محدثین کرام کو دیکھیں ایک کی تحقیق ایک راوی کو ثقہ قرار دیتا ہے جبکہ دوسرا محدث کہہ جاتا ہے
وقال ھو لیس بذالک
کہ وہ اس طرح یا ایسا نہیں۔
کہ ہر عالم اپنے تحقیق کا مکلف ہوتا ہے اور یہ تحقیق سائنسی تحقیق وتجربے کی طرح ہوتی ہے ۔سائنس دان اپنی تھیوری یا کسی اور کی تھیوری کو لیب میں لیجا کر تجربہ کرے تو اگر کامیاب ہوجاتا ہے تو بھی اس کی منادی کرجاتا ہے اور ناکام ہو تو بھی اس کو مخفی نہیں رکھتا کہ یہ علمی خیانت ہے اور علمی خیانت دیگرساری خیانتوں سے بڑھ کر خیانت ہے ۔یہاں بھی اگر کسی مستند ومعتمد عالم کی تحقیق اس کو پتہ ہے کہ فلاں عالم ومحقق کی بات تو ایسی ہے ۔اب وہ یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میری تحقیق غلط ہے کہ اس کی تحقیق کے اساس پر اس کا داخل جو بہت داخل ہوتا ہے اسے آواز دیتا ہے کہ یہی صحیح ہے ورنہ پھر وہ یہ سارا تگ ودو کر کس لیے رہا ہے غلط پانے کے لیے۔جبکہ غلط کے لیے تو کسی تگ ودو کی ضرورت ہی نہیں ہوتی نہ مغز کھپائی کی۔ہاں تعصب کی بات اور ہے کہ اپنے کچھ اوقات ہی نہیں اور لگے دوسرے کی تغلیط میں۔
علمی اور تحقیقی اختلاف میں کبھی علماء تعصب اور نفرت کے شکار نہیں ہوتے کہ بمع اختلاف کے ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔نہ کریں تو یا تو علم مخدوش ہے یاپھر عقل مخدوش ہے اور ایسے اختلاف میں کسی عالم کی تذلیل وتحقیر کرنا کسی صورت بھی زیبا نہیں اور پھر ان کے لیے جن کا کوئی علمی بساط ہی نہیں ۔بندہ یا نفرت میں مارکھاتا ہے یا پھر عقیدت میں مارکھاتا ہے۔
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H