Article Image

ملفوظات اکابر دیوبند


فقیہ الامت حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ


جس کو انسان وطن اصلی سمجہتا ہے وہ در حقیقت وطن اصلی کی طرف سفر کی ایک منزل ہے


آج کا انسان وطن پرستی میں مبتلا ہے، اپنے گاؤں، اپنے شہر، اپنے ملک کو وطن سمجہتا ہے، جب وہاں رہتا ہے تو اپنے آپ کو مقیم اور اس سے باہر جاتا ہے تو مسافر کہتا ہے ؛ لیکن اس مسکین کو یہ خبر نہیں کہ دنیا کا وطن اصلی بھی سفر کی ایک منزل سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا؛ اس کا وطن اصلی کہیں اور ہے، جس کی طرف ہر وقت ہر حال میں شعوری یا غیر شعوری طور پر سفر کر رہا ہے :

؎ زندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہے
یہ اقامت تجھے پیغام سفر دیتی ہے

انسان نے اپنی زندگی کے ہر دور میں مختلف جگہوں کو اپنا وطن سمجہا ہے ؛ مگر جب حالات بدلے تو معلوم ہوا کہ وہ وطن نہیں تہا؛ بلکہ وطن کی طرف سفر کی ایک منزل تھی۔
سب سے پہلے ماں کے پیٹ کو اس نے وطن سمجہا، جہاں بطن مادر کی تین اندھیریوں میں اس کا مسکن تھا، جہاں ہوا کا اچھا انتظام، نہ روشنی کا ذکر، گندا خون ان کی بہترین غذا اور ایک گندی جھلی ان کا لباس تھا، کچھ دنوں کے بعد جب قدرت نے وہاں سے نکالا تو صاحبزادے ترک وطن کے صدمے میں روتے ہوئے اس جہاں میں تشریف لائے۔
ایک نیا جہان سامنے آیا، وسیع فضا ملی، روشنی، ہوا ملی، خون کے بجائے دودھ ملا، عمدہ کپڑے ملے، راضی ہوگئے، اور اب اِس کو اپنا وطن کہنے لگے، یہاں سے کہیں جانے کے لیے تیار نہیں ۔
کچھ اور وقت گزرا، گھر سے باہر نکلے، دوسرے مکانات اور طرح طرح کے سامان دیکھے تو گھر سے زیادہ دلچسپی ان چیزوں کے ساتھ ہونے لگی۔
اسی طرح جوں جوں زندگی کے مختلف ادوار سے گزرتا رہا اس کی ہر منزل کو اپنا وطن مالوف سمجہتا رہا اور پہلے وطن کو نفرت کی نگاہ سے دیکہتا رہا ؛ مگر اس الجھی ہوئی ڈور کا سرا اس کے ہاتھ نہ آیا کہ حقیقت تک پہونچتا اور ادوار زندگی کے انقلاب کی تہ میں یہ دیکھ لیتا کہ اس کی ساری نقل و حرکت کی ڈور کسی اور طاقت کے ہاتھ میں ہے، وہی اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف لیجارہی ہے، جس کی طرف قرآن کریم نے ”لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ“ کے ایک جملے میں اشارہ فرمادیا ہے۔ جس میں قرآن کریم نے بتلادیا ہے کہ انسان ایک درجے سے دوسرے درجے کی طرف ترقی کرتا رہے گا، قرآنی حقائق سے غفلت برتنے والے ناحقیقت شناس انسان کی ساری زندگی کا حاصل یہ رہتا ہے کہ :

؎ مسافر ہوں کہاں جانا ہے ناواقف ہوں منزل سے
ازل سے پھرتے پھرتے گور تک پہنچا ہوں مشکل سے

عقل کی بات یہ ہے: کہ یہ ہمہ وقت متحرک اور مسافر انسان اس حقیقت پر غور و فکر میں اپنی پوری توانائی صرف کرے کہ
؎ کس کا خیال کونسی منزل نظر میں ہے؟
صدیاں گزر گئیں کہ زمانہ سفر میں ہے

اس وقت اس کو معلوم ہوگا کہ ہم جن جن مقامات کو وطن سمجہتے اور ان کے لیے لڑتے بھڑتے آئے ہیں وہ سب کی سب ہمارے سفر کی مختلف منزلیں تھیں ؛ نہ ہم اس ملک کے باشندے ہیں، نہ یہاں ہمیں ہمیشہ کے لیے رہنے دیا جائے گا، مختلف مدتوں کے ویزا مختلف لوگوں کو ملے ہوئے ہیں، ان کے ختم ہوتے ہی بلا ایک منٹ کی تاخیر کے ان کو یہاں سے نکال دیا جائے گا، جب ان کا وقت متعین آپہنچے گا نہ ان کو لمحہ بھر کے لیے مقدم کیا جائے گا اور نہ مؤخر اور ہر شخص ارادی یا غیر ارادی طور پر اپنے وطن اصلی میں پہنچادیا جائے گا، جس کا قرآنی نام ”دار الآخرۃ“ ہے۔
اس وقت معلوم ہوگا: کہ اس وطن اصلی سے اس کو سفر اس لیے کرایا گیا تہا : کہ دوسرے ملک سے اپنی دائمی زندگی کا سامان جمع کر لائے! جس کے طریقے کا بھی اسی دنیا میں انبیاء علیہم السلام کی زبانوں سے، آسمانی کتابوں سے، انبیاء کے نائب علماء و مشائخ سے کھول کھول اعلان کرادیا گیا تہا کہ یہاں سے سامان منتقل کرنے کا یہ طریقہ نہیں ہوگا کہ کھانے پینے کی چیزیں، اوڑھنے بچھانے کا سامان، گٹھریاں باندھ کر لے جاؤ ؛ بلکہ روحانی اسٹیٹ بینک کے ذریعے دوسرے ملک کا نقد ( ایکسچینج) حاصل کرو! اس کے ذریعے اپنے اصلی وطن میں سارے سامان مہیا ہوں گے، جس کی پوری پوری ذمہ داری سب اسٹیٹ حکومت پر ہوگی۔

( نقوش و تاثرات سفر دیوبند و تھانہ بھون، صفحہ: 12، طبع: ادارۃ المعارف، کراچی)


-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H